کالم

آڈیو لیکس اور اخبار بینی

rohail-akbar

جیسے جیسے دن گذرتے جارہے ہیں ویسے ہی ہر سطح پر مشکلات بڑھتی جارہی ہیں غریب تو پہلے ہی فاقہ کشی کا شکار تھے اب اس سے اگلی منزل کی طرف چل پڑے ہیں حکومت کو اپنی پریشانی ہے اور وزرا کا تو باہر نکلنا مشکل بنتا جارہا ہے موٹروے پر احسن اقبال کے ساتھ جو ہوا وہ بھی سب کے سامنے ہے اور گذشتہ روزوفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کو پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد نے لندن میں گھیر لیا الزامات لگائے چور چور کہا گیا اور یہ سب اس وقت ہوا جب مریم اورنگزیب ماربل آرچ پر ایک کافی شاپ میں کافی لینے کیلئے رکی تھیں تو پاکستانی خواتین نے مریم اورنگزیب پر الزامات لگائے کہ پاکستانی عوام کا پیسہ لندن میں لٹا رہی ہیں احتجاج کرنے والے مریم اورنگ زیب کے ساتھ ساتھ چلتے رہے تاہم مریم اورنگزیب نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا اور خاموشی سے مسکراتی رہیں اسی طرح کا واقعہ انکے ساتھ سعودی عرب میں بھی پیش آچکا ہے دوسری طرف وزیراعظم ہاوس کی مبینہ آڈیو لیک نے سکیورٹی پر سوالیہ نشان لگا دئیے ہیں کہ وزیر اعظم ہاﺅس بھی محفوظ نہیں جہاںپاکستان مسلم لیگ نواز کی سینئر قیادت کے درمیان مبینہ طور پر ہونے والی گفتگو کا ایک آڈیو کلپ لیک ہو گیا ہے اس آڈیو لیک میں مبینہ طور پر وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، سردار ایاز صادق ،احسن اقبال ،اعظم نذیر تارڑ و دیگر کی آوازیں شامل ہیں دوران آڈیو میں قومی اسمبلی سے پی ٹی آئی کے استعفوں کی منظوری کے حوالے سے بات چیت بھی کی گئی اس آڈیو کلپ میں مسلم لیگ ن کے رہنماوں کو مبینہ طور پر پی ٹی آئی کے استعفوں پر اپنی رائے دیتے ہوئے اور استعفوں کو قبول کرنے کے لئے لندن سے اجازت مانگتے ہوئے سنا جا سکتا ہے لیک ہونیوالے آڈیو کلپ میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ30,30 ارکان کو نوٹس دے رہے ہیں ایاز صادق کا کہنا تھا کہ لسٹ بنا کر دیں گے کس کس کو ملنا ہے لیڈر شپ اپروول دے دی۔ وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ 6 تاریخ کو کن 30 لوگوں نے پیش ہونا ہے ان میں سے 6،7 کے استعفے قبول کرلیں گے جس پر ایاز صادق نے کہا کہ جن کے استعفے قبول نہیں کرنے کہہ دینگے دستخط ٹھیک نہیں تھے ایک بات واضح ہے کہ لیک ہونے والی آڈیو کلپ نے خطرے کی گھنٹی بجائی ہے اور آڈیو لیک ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں کہ کیا وزیراعظم ہاس میں ایسے خفیہ ریکارڈنگ سسٹم لگے ہوئے ہیں جنہیں حکومتی ارکان بھی نہیں جانتے؟ حکومت اس بارے میں کیا کرنے جارہی ہے ابھی تک کوئی پالیسی سامنے نہیں آئی الٹا ن لیگی ارکان اور وفاقی وزرا وزیراعظم ہاوس کے اجلاس کی آڈیو لیک کے معاملے پر بات کرنے سے گریز کر رہے ہیں حالانکہ وزیراعظم آفس کی115گھنٹے کی گفتگو لیک ہوئی اس پرسبھی کو بہت تشویش ہے کیونکہ ان آڈیو ز کے بعد حساس قسم کی لیک ریکارڈنگ بھی منظر عام پر آنے والی ہیں جو خطرناک ہو سکتی ہیں کیونکہ ڈارک ویب پر موجود آڈیو لیک کی ساڑھے3لاکھ ڈالربولی لگ رہی ہے اور یہ بات حیرتناک ،افسوسناک کےساتھ ساتھ خطرناک بھی ہے کہ ایک ایٹمی طاقت کے وزیراعظم آفس کی گفتگو ساڑھے3لاکھ ڈالرمیں دستیاب ہے وزیراعظم کا دفتر بھی محفوظ نہیں ہے تو پھر کونسی جگہ محفوظ ہے؟ جبکہ ایک آڈیو میں مبینہ طور پر مریم نواز کا شہباز سے مطالبہ ہے کہ ان کے داماد کی مشینری انڈیا سے آنے دیں ایک طرف مریم نواز عوام میں کہتی ہیں کہ تیل کی قیمت نہیں بڑھنی چاہیے جبکہ آڈیو میں کہہ رہی ہیں تیل کی قیمتیں بڑھانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے میں سمجھتا ہوں کہ آنے والے دور میں حکومت کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے حالات کسی طرف بھی پلٹا کھا سکتے ہیں جیسے پانامہ لیکس کے بعد ہوا تھا خیر یہ آنے والا وقت طے کریگا یہ سارا کچھ جو ہم لکھتے ہیں یہ اخبارات میں چھپتا ہے اور 25 ستمبر کو یوم قارئین قومی منایا گیا صحافت ہمارے ملک اور معاشرے کا چوتھا ستون ہے جو معاشرے شعور اور آگہی رکھتے ہیں ان میں پڑھنے کا جذبہ زیادہ ہوتا ہے اور وہ بہتر طور سے اپنے فرائض اور لوگوں کے حقوق کی ادائیگی سے باخبر ہوتے ہیں اس دن کو منانے کا مقصد سچی اور مستند خبروں کو آگے پھیلانا ہے اور افواہوں اور جھوٹی خبروں کی نفی کرنا ہے کیونکہ کہ ایسی خبروں سے معاشرے میں انتشار پھیلتا ہے بدقسمتی سے سوشل میڈیا پر آنے والی خبروں کو تصدیق کیے بغیر انہیں عوام تک پہنچایا جاتا ہے جس کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے یہ دور انفارمیشن وار فیئر کا ہے غلط خبروں کے پھیلانے سے معاشرے میں انتشار کو فروغ ملتا ہے ففتھ جنریشن وار فیئر دراصل ایسی جھوٹی اور من گھڑت خبروں کو پھیلانا ہے جس سے معاشرے میں عدم استحکام اور عمومی بے چینی کی کیفیت کو دوام دیا جا سکے ملک دشمن عناصر جھوٹی خبروں کے ذریعے ہمارے ملک کے اہم اداروں اور سالمیت کو نقصان پہنچا رہے ہیں اس کے لیے ضروری ہے کہ ہماری نوجوان نسل میں اخبارات کے مطالعہ کو فروغ دیا جائے اور اس دن کو منانے کا مقصد بھی یہی تھاکہ ماضی کے اوراق پلٹنے سے ہمیں یہ پتہ چلتا ہے جب تک ہمارے نوجوان اخبارات کا مطالعہ قاعدگی سے کرتے تھے تو وہ کسی بھی بیرونی ایجنڈے کے آلہ کار نہیں بنے آج بھی اخبارات کے مطالعہ کی اس دلچسپی کو واپس بھرپور انداز سے اجاگر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوام مستند اور تصدیق شدہ خبروں پر اعتماد کریں بلخصوص نوجوانوں سے اپیل کی کہ مستند خبروں کےلئے زیادہ سے زیادہ اخبارات کا مطالعہ کریں اور غیر مستند اور جھوٹی خبروں سے اجتناب برتیں تاکہ معاشرے میں دائمی امن اور استحکام کی فضا کو قائم رکھا جا سکے آخر میں وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے بھی اخبار بینی کے دن کے حوالہ سے کہا ہے کہ اخبارات ہماری زندگی کا اہم حصہ تھے ہیں اور رہیں گے اخبارات معلومات کا سب سے مستند ذریعہ ہیں اخبار کے مطالعہ سے قاری کو نہ صرف حالات حاضرہ کا علم ہوتا ہے بلکہ اطلاعات تک آسان اور سستی رسائی بھی الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کی ترقی کے باوجود اخبارات اب بھی قارئین کیلئے معلومات کا ایک بہترین ذریعہ ہیں اخبار ات کے مطالعہ سے مختلف معاشی اور سماجی مسائل سے آگاہی حاصل ہوتی ہے۔ اخبار بینی کی عادت ڈیجیٹل دنیا میں کم تو ہوئی ہے لیکن یہ کسی طور ختم نہیں ہو سکتی اخبار بینی سے قارئین کی زبان پر دسترس اور الفاظ کا ذخیرہ بھی وسیع ہوتا ہے اور اس امر میں بہت حد تک سچائی ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا پر غیر مستند اطلاعا ت، معلومات اور خبریں پھیلائی جاتی ہیں اور ان کی تصدیق کا کوئی ذریعہ نہیں جس سے معاشرے میں بے چینی اور انتشار جنم لیتا ہے دوسری طرف اخبارات کو آج بھی ذمہ دارانہ، غیر جانبدارانہ اور مستند صحافت کی حیثیت حاصل ہے اسی لئے اخبار بینی آج بھی قائم و دائم ہے اور انشاءاللہ آئندہ بھی قائم و دائم رہے گی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

güvenilir kumar siteleri