اداریہ کالم

ادویات کی قیمتوں میں جان لیوا اضافے کی منظوری

نگران حکومت نے جاتے جاتے کئی جان بچانے والی ضروری ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے علاوہ باقی تمام روز مرہ استعمال کی جانے والی ادویات کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد ادویات ساز کمپنیاں ان میڈسن کی قیمتوں کا تعین خود کر سکیں گی۔ ڈریپ نے حکومت کو 262 ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری بھیجی تھی اور حکومت نے ان میں سے 146 جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دے دی ہے۔جن ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے ان میں کینسر کی ادویات، ویکسینز اور اینٹی بائیوٹک شامل ہیں۔ وفاقی کابینہ کے اس فیصلے کے بعد مارکیٹ میں ادویات کی قیمتوں میں ہر ہفتہ دس دن بعداضافے کا امکان ہے۔کابینہ سے منظوری کے بعد وزارتِ صحت نے قیتمیوں کی ڈی ریگولیشن کا نوٹی فکیشن جاری کر دیا ہے۔تاہم خوش آئند امر یہ ہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے نگران حکومت کی جانب سے جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے نوٹیفکیشن پر عملدرآمد روکنے کا حکم بھی دے دیا ہے۔درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ کابینہ نے ادویات کی قیمتیں مقرر کرنے کا اختیار ڈریپ سے لے کر فارماسیوٹیکل کمپنیوں کو دے دیا ہے، نگران کابینہ کے پاس یہ اختیار نہیں ہے۔انہوں نے موقف اپنایا کہ فارماسیوٹیکل کمپنیاں من مانے ریٹس پر ادویات فروخت کر کے عوام پر بوجھ ڈالیں گی۔حکومتی نوٹی فکیشن کے مطابق ڈریپ ایکٹ 1976 میں تبدیلی سے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان ڈریپ کے کردار کو ختم کرتے ہوئے دواو¿ں کی قیمتیں مقرر کرنے کے لیے دوا ساز کمپنیوں کو اختیار دیا گیا ہے۔ حکومت کے اس فیصلے کا اطلاق نان ازینشل میڈیسنزیعنی روز مرہ کی ادویات پر ہو گا۔پاکستان میں ادویات کو دودرجات ضروری اور روز مرہ استعمال کی جانے والی میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اب روز مرہ استعمال کی دوائیں یعنی بخار، سر درد، بلڈ پریشر، اینٹی بائیو ٹکس، اینٹی الرجی اور ملٹی وٹامنز کی قیمتیں کنٹرول کرنا حکومت کے دائرہ اختیار میں نہیں ہو گا جبکہ جان بجانے والی دواو¿ں کی قیمتیں بڑھانے کا اختیار کابینہ کی منظوری سے ہی ممکن ہو گا۔ عوامی حلقوں کی جانب سے حکومت کے اس فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ آئے روز دواو¿ں کی قیمتوں میں اضافے نے انہیں پہلے ہی شدید پریشان کر رکھا ہے، حالیہ اقدام سے مریضوں کی مشکلات میں شدید اضافہ ہو جائے گا۔ ڈریپ کی ضروری ادویات کی فہرست میں صرف 464 دوائیں ہیں جبکہ مارکیٹ میں1300سے زائددوائیں موجود ہیں۔ اسطرح ان کی قیمتیں بڑھانے کا اختیار دوا ساز کمپنیوں کے پاس چلا جائے گا۔ حکومت غذائیت کی کمی کو پورا کرنے والی دواو¿ں کےساتھ یہ تجربہ کر چکی ہے جسکے تحت پہلے جو میڈیسن پہلے15 روپے کی ہوتی تھی ڈی ریگولیشن کے بعد ڈھائی ہزار یا اس سے بھی زائد قیمتوں پر فروخت ہو رہی ہیں۔ پاکستان میں ادویات ساز کمپنیاں ایک عرصے سے قیمتوں کا تعین مارکیٹ میں طلب و رسد کی بنیاد پر کرنے کا مطالبہ کر رہی تھیں،اب انہیں کھل کھیلنے کا موقع فراہم کر دیا گیا۔اگرچہ نے نوٹس لے رکھا ہے لیکن ادویات ساز کمپنیاں اتنی مضبوط ہیں کہ وہ ادویات کا بحران پیدا کر کے مزید مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ملک میں ایسا کئی مواقع پر ہو چکا ہے،پیرسٹامول جو د دس روپے میں دس گولیاں جاتی تھیں اب وہ 35 میں فروخت ہو رہا ہے۔عام آدمی کا پہلے ہی بھرکس نکلا ہوا ہے ایک تازہ سروے میںپاکستانی عوام کی44فیصد اکثریت نے اپنی مالی حالت پر پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دس سال پہلے کے مقابلے میں مالی طور پر مزید کمزور ہوئے ہیں ۔بجلی گیس اور تیل کے بے تحاشہ ظالمانہ اضافے سے متوسط طبقہ کچلا جا چکا ہے،ادویات کی قیمتوں اضافہ جلتی پر تیل کا کام کرے گا۔
معیشت کو درپیش چیلنجز
وفاقی وزارت خزانہ نے پاکستان کی معیشت کو درپیش 8بڑے معاشی خطرات کی نشاندہی کی ہے ، ان میں میکرو اکنامک عدم توازن ، بڑھتاہوا قرضہ، خسارے میں جاتی سرکاری کمپنیاں ، ماحولیاتی تنزلی ، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ خطرات ، صوبائی مالیاتی ڈسپلن اور گورننس کے چیلنجز شامل ہیں ۔ وزارت خزانہ کی رواں مالی سال کی جاری مالیاتی رسک سٹیٹمنٹ کے مطابق حالیہ برسوں میں افراط زر میں اتار چڑھاﺅ رہا ،روپے کی قدر میں خاطر خواہ تنزلی ہوئی ، مہنگائی بڑھنے کی وجوہات میں ایک بڑی وجہ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہے ، کرنسی کی قدر میں اضافہ بھی توانائی کی قیمتوں میں اضافہ کا باعث ہے ۔قرضوں پر سود کی ادائیگی مالی خسارے میں کمی کے راستے میں بڑی رکاوٹ ہے ،وزارت خزانہ نے معاشی بہتری اور استحکام کے لئے تین طرح کی صورتحال کی پیشنگوئی کی ہے ان میں ایک یہ ہے کہ توقع ہے کہ نیٹ وفاقی ریونیو جی ڈی پی کا 6.7فیصد ، وفاقی اخراجات جی ڈی پی کا 9.7فیصد ، جبکہ وفاقی مالی خسارہ جی ڈی پی کے 3فیصد تک رہے گا، دوسری پروجیکشن کے مطابق نان ٹیکس ریونیو میں 50فیصد کمی ہو سکتی ہے۔ نیٹ وفاقی ریونیو میں جی ڈی پی کے 5.3فیصد تک کمی ہو سکتی ہے، وفاقی اخراجات میں جی ڈی پی کے 10.6فیصد رہیں گے اور مالی خسارہ جی ڈی پی کے لحاظ سے 5.4فیصد تک بڑھے گا۔ تیسری پروجیکشن کے مطابق اگر 2026تک اقتصادی شرح نمو کی متوقع سالانہ گروتھ 0.5فیصد سے کم رہتی ہے تو وفاقی ریونیو جی ڈی پی کے لحاظ سے 7.1فیصد ، وفاقی اخراجات 11فیصد اور اور وفاقی مالی خسارہ 3.9فیصد متوقع ہے،گزشتہ پانچ برسوں کے دوران مجموعی حکومتی قرضہ جی ڈی پی کے لحاظ سے 60فیصد کی حد سے زیادہ رہا ہے، اس کی وجہ تسلسل سے مالی خسارہ میں اضافہ ہے۔ بیرونی قرضہ مجموعی حکومتی قرضے کا 40.8فیصد ہے، مختصر المدت قرضے میں اضافے سے ری فنانسنگ چیلنجز بڑھے ہیں اور اقتصادی ترقی کی رفتار سست ہوئی ، مالی خسارے میں اضافہ ہوا، جس سے سرمایہ کاروں کےا عتماد میں کمی ہوئی ۔ پاکستان ماحولیاتی صورتحال میں ابتری کے لحاظ سے دنیا کے 10سرفہرست ممالک میں آتا ہے ، پاکستان ماحولیاتی ابتری کے لحاظ سے دنیا میں 12ویں نمبر پر ہے اس کےلئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔حالیہ انتخابات کے بعد اگرچہ کوئی ایک جماعت اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ اکیلے حکومت بنا سکے لیکن حکومت میں آنے کی خواہش ہر جماعت کی ہے تاہم یہ حکومت معاشی سیاسی اور سکیورٹی چیلنجز سے بھرپور ہو گی جس کی ذمہ داری نئی حکومت کے کندھوں پر ہو گی۔یقیناجوبھی اقتدارسنبھالے گا اس کو بہت محنت درکار ہوگی۔ ماضی میں پاکستان کو شدید چیلنجز کا سامنا رہا ہے جس نے قوم کی برداشت کا امتحان لیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، اقتصادی میدان بدحالی کا شکار رہا آسمان کو چھوتی مہنگائی کے ساتھ پاکستان کو درپیش معاشی مشکلات کثیر جہتی ہیں ۔ دراصل اس وقت بڑا چیلنج ایک مستحکم حکومت کابننا ہے کیونکہ معاشی استحکام کی بنیاد ایک مستحکم حکومت ہی ہے۔اگر مستحکم حکومت نہیں بنتی تواس کاسب سے زیادہ نقصان ملکی معیشت کوہوگا۔ نئی منتخب حکومت کا فوری چیلنج آئی ایم ایف سے مذاکرات ہوں گے، جو 1.2 بلین ڈالرز کا جائزہ زیر التوا ہے اس کےلئے مذاکرات کا سلسلہ آئی ایم ایف کے ساتھ دوبارہ شروع ہونا ہے۔ اس کے علاوہ نئی حکومت کو ملکی اقتصادی کمزوری اور آئی ایم ایف کی فنڈنگ کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ روایتی دوستوں اور بڑی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ ملکی مفاد میں سخت فیصلے کرنے ہوں گے، سیاست اور معیشت ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں موجودہ سیاسی عمل سست اور ہنگامہ خیز ہے۔ سیاسی استحکام سے معاشی مسائل میں کمی آسکتی ہے اور اس میں کوئی بھی خلل طویل مدتی نقصانات سے ہمکنار کرسکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

güvenilir kumar siteleri