چیرمین وزیراعظم یوتھ ونگ رانا مشہود احمد خان اور گورنر سندھ سید نہال ہاشمی دونوں کا تعلق ایک ہی سیاسی جماعت ن لیگ سے ہے۔ یہ دونوں گہرے دوست بھی ہیں۔ یہی وجہ ہے رانا مشہود احمد خان نے گورنر سندھ سید نہال ہاشمی کی اسلام آباد آمد پر 14اپریل کو اسلام آباد کی ایک شام ان کے نام کر دی۔ رانا مشہود احمد خان کے بھائی رانا اسد احمد خان ایڈیشنل اٹارنی جنرل ایڈووکیٹ سپریم کورٹ ہیں۔ رانا اسد احمد خان سپریم کورٹ بار ٹی ٹاک کانر کے مستقل ممبر اور ان کا شمار ہمارے پیارے مخلص دوستوں میں ہوتا ہے۔رانا مشہود خان سے بھی ہماری گپ شپ رہتی ہے۔ ان کی خوبی یہ ہے کہ اپ سے ملاقات کرنے کے بعد بوڑھے بھی جواں ہو جاتے ہیں۔ سید نہال ہاشمی کا تعلق کراچی سے ہے اور سپریم کورٹ بار کے ممبر بھی ہیں۔ کراچی میرا بھی پسندیدہ شہر ہے۔ اسی شہر سے میں نے ایف ایس سی،بی ایس سی،ایل ایل بی،ایل ایل ایم کر چکا ہوں۔ یہی وجہ ہے اس شہر سے میری بھی خوبصورت یادیں وابستہ ہیں۔ میرے پہلے سیاسی استاد محترم معراج محمد خان مرحوم بھی اسی شہر کی ہر دلعزیز شخصیت تھی ۔ سید نہال ہاشمی کا بھی اسی شہر کراچی سے تعلق ہے ۔ ن لیگ ان کی پہلی اور آخری سیاسی جماعت ہے۔ مشکل وقت میں بھی اس جماعت کا ساتھ نہ چھوڑا۔ الطاف حسین سے ٹکراتے رہے۔ 2017میں نہال ہاشمی اس وقت سینیٹر تھے۔کہا جاتا ہے انہوں نے ایک تقریر میں دھمکی آمیز انداز میں ججز کو مخاطب کیا تھا یہ تقریر پانامہ پیپرز کیس کے دوران کی تھی۔ اس بیان کو عدلیہ کی توہین سمجھا گیا۔ جس پر ن لیگ نے فورا پارٹی رکنیت انکی ختم کرنا پڑی اور آپ کو سینیٹ کی نشست بھی چھوڑنا پڑی تھی۔بعد میں سپریم کورٹ نے توہینِ عدالت میں سزا بھی سنا دی تھی۔آپ اس موقع پر بھی ثابت قدم رہے۔ مگر حالات بدلتے دیر نہیں لگتی۔پھر سیاسی حالات میں تبدیلی آئی اور ن لیگ دوبارہ سیاسی طور پر مضبوط ہوئی ۔پارٹی کے اندر وفادار اور پرانے کارکنوں کو دوبارہ اہمیت دی گئی۔ نہال ہاشمی نے اپنی سزا پوری کی اور دوبارہ پارٹی کے قریب آئے۔ واپسی اور تقرری کی وجہ سیاسی حالات کی تبدیلی، سزا مکمل ہونا، اور پارٹی وفاداری جاری رکھنا انہی کا کمال تھا۔ سید نہال ہاشمی پارٹی میں ہمیشہ پارٹی ورکر بن کر رہے۔ میری نہال ہاشمی سے تفصیلی ملاقات اسلام آباد سے کراچی کے سفر میں ہوئی۔ جہاز کی سیٹ ساتھ ساتھ ہونے کی وجہ سے سفر اچھا گزرا۔ اس دوران فون کا تبادلہ بھی ہوا۔ گورنر بن جانے ہر مبارک دی خیر مبارک کا پیغام بھی ملا۔ رانا مشہود احمد خان اور ۔رانا اسد خان کا آفس قریب قریب ہے جہاں دوستوں کو کافی چائے بھی ملتی ہے۔ وقت ملنے پر رانا اسد سپریم کورٹ بار کے ٹی ٹاک کے کارنر پر آتے رہتے ہیں۔ یاد رہے یہ پیار کی پینگیں ایک دن میں نہیں پروان چڑھتی بلکہ پودوں کی طرح پانی کھاد کے دینے سے پروان چڑھتی ہیں۔ سید نہال ہاشمی اور رانا مشہود آحمد خان کا خاندان سیاسی ہے۔ خطابت ان دونوں کی وجہ شہرت بھی ہے۔ سیاسی لوگ فن خطابت پر عبور رکھتے ہیں۔ گورنر سندھ نہال ہاشمی کی اسلام آباد آمد پر رانا مشہود احمد خان نے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے چند قربیی دوستوں کے ہمراہ اسلام آباد میں ایک منفرد شام منعقد کی۔ جس میں سپریم کورٹ بار کے سید منظور حسین گیلانی، ملک حیدر عثمان اور راقم کو شرکت کی خصوصی دعوت دی گئی تھی۔ رانا اسد احمد خان نے ہمیں ویلکم کیا۔ پروگرام شروع ہونے سیقبل رانا مشہود احمد خان اور گورنر سندھ سید نہال ہاشمی سب سے ملنے ہر ایک کے ٹیبل پر آئے۔ منظور گیلانی صاحب سے کہا گیا ک اپ نے بھی مائک کو دو تین منٹ کے لیے پکڑنا ہے۔ اس تقریب کے سپیکر صرف تین تھے سید منظور گیلانی رانا مشہود خان اور نہال ہاشمی ۔تھے جنھوں نے مائک کو پکڑنے کی سعادت حاصل کی ۔ اسٹیج سیکٹری کی زبان پھسل جانے سے اتے ہی گورنر بلوچستان نہال ہاشمی کہا جس پر مجھ سمیت یہ سمجھے کہ شاید گورنر بلوچستان کا اضافی چارج بھی شائد ہاشمی صاحب کو دے دیا گیا ہے۔ یہ سن کرسب نے تالیاں بجائیں اور گورنر بلوچستان کی بھی مبارک باد دی جس کے بعد سے گورنر سندھ۔ اور گورنر بلوچستان کی ڈبل مبارک دینے کا سلسلہ شروع ہوا۔۔اس کے بعد سپریم کورٹ بار کے ممبر سیاسی شخصیت سید منظور حسین گیلانی صاحب کو پہلے سپیکر کے طور پر دعوت خطاب کیلیے بلایا گیا۔ آپ نے مائک کو سنبھالتے ہی سب کو سچ بتا دیا کہ مجھے کہا گیا ہے دو منٹ سے زیادہ مائک سے نہیں کھیلنا۔ مائک بھی ایک جام کی مانند ہوتا ہے ۔ ہاتھ میں پکڑتے ہی نشہ آنے لگتا ہے۔ اس نشے میں بعض اوقات اپنے آپکو کنٹرول کرنا مشکل ہو جاتا ہے وہ بھی کہہ جاتے ہیں جو نہیں کہنا ہوتا لیکن جن کو اس کی عادت ہو جائے وہ کنٹرول کر لیتے ہیں۔ لہٰذا گیلانی صاحب سیاسی قانونی شخصیت کے مالک ہوتے ہوئے انہیں کوئی مشکل پیش نہ آئی ۔ نہال ہاشمی کے والد محترم مرحوم سید گیلانی صاحب کے ساتھیوں میں سے تھے ۔سیاسی شخصیت کے مالک تھے۔ یہ بھی بتایا کہ مشرقی پاکستان میں اپ کے والد محترم نے اس مشکل حالات میں الیکشن جیتا بھی تھا۔ اپنے مختصر خطاب میں گیلانی صاحب نے دو منٹ میں ہی دریا کو کوزے میں بند کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اس کے بعد رہی سہی کثر کو رانا مشہود احمد خان صاحب نے اپنے ویلکم ایڈریس میں پورا کرنے کے بعد مائک نہال ہاشمی کو بھرپور تالیوں میں حوالے کیا۔ پھر کیا تھا ہاشمی صاحب نے اپنا ماضی حال اور مستقبل خوبصورت انداز میں بتا دیا جب تک بولتے رہے اس دوران پن ڈراپ خاموشی رہی۔قائد اعطم محمد علی جناح، میاں نواز شریف اور رانا مشہود خان کی خوبیوں کو بیان بھی کیا سب کے بارے میں خوبصورت ری مارکس دئے۔ کہا گورنر کا عہدہ اعزاز نہیں بلکہ ذمہ داری ہے وہ سندھ کے عوام کی خدمت کرنے کو ترجیح دیں گے۔کراچی کے لیے کہا یہ پاکستان کی معیشت کا دل ہے۔ یہاں امن اور سرمایہ کاری دونوں ضروری ہیں۔ یہاں کے انفرا سٹرکچر بزنس ماحول کو بہتر کرنا ہو گا۔ کہا میں مفاہمت کی سیاست پر یقین رکھتا ہوں ہم تمام سیاسی جماعتوں سے مل کر چلیں گے تصادم نہیں بلکہ ڈائیلاگ ہوگا۔ خاص طور پر متحدہ قومی موومنٹ کے ساتھ تعاون کا عندیہ بھی دیا۔ کہا وزیراعظم یوتھ پروگرام کی حمایت کرتا ہوں۔ نوجوانوں کو ہنر سیکھنے پر زور دیا۔پارٹی قیادت کا ذکر کرتے ہوئے میاں نوازشریف اور میاں شہباز شریف کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا۔ کہا تمام اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ ملک اس وقت اتحاد کا متقاضی ہے۔ آپ کی تقاریر کا خلاصہ یہ تھا۔مفاہمت اور سیاسی توازن سندھ/کراچی کی ترقی نوجوانوں پر فوکس وفاق اور صوبے میں ہم آہنگی پر زور تھا یہ ایک ڈنر تقریب تھی، کوئی پریس کانفرنس یا جلسہ نہیں تھا۔ اس لیے میں بھی اس تقریب کا مختصر احوال لکھ رہا ہوں اس تقریب میں ہونے والی تمام تقریر سن کر نہ صرف میرا بلکہ سب کا دل چاہ رہا تھا کہ نعرے بازی کی جائے لیکن یہ کوئی جلسہ نہیں تھا ۔ ڈنر تھا۔ اس لیے سب نے اپنے آپ کو قابو میں رکھا اور خاموشی سے سنتے رہے ۔ یہ ایک یادگار تقریب سید نہال ہاشمی کے نام رانا مشہود احمد خان کی تھی۔ اسوقت دنیا بھر کی نطریں پاکستان کی دو شخصیات وزیراعطم میاں شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید حافظ عاصم منیر پر ہیں۔ دعا ہے امن کیلیے ہمارے ملک کی محنیتیں رنگ لے ائیں جنگ کے بادل چھٹ جائیں اور یہ دنیا امن کا گہوارہ بن جائے۔ پاکستان زندہ باد۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں