بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 28.8°C
Wednesday, 12 August 2026 | پاکستان: 29 صفر 1448

اگست 2019کے بعد 1050 کشمیری شہید

Wednesday, 4 February, 2026

بی جے پی حکومت کی طرف سے5 اگست 2019 کو بندوق کی نوک پر دفعہ 370 اور 35A کی غیر قانونی منسوخی کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی اور مظالم میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے شعبہ تحقیق کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی فوج،پیراملٹری سنٹرل ریزرو پولیس فورس، بارڈر سیکیورٹی فورس اور دیگر فورسزنے اس عرصے کے دوران22 خواتین اور 45 بچوں سمیت 1050 کشمیریوں کو شہید کیا ہے جن میں سے287کو جعلی مقابلوں میں یا دوران حراست شہید کیاگیا۔ ممتاز حریت رہنما سید علی گیلانی، محمد اشرف صحرائی، الطاف احمد شاہ اور غلام محمد بٹ بھی اس عرصے کے دوران بھارتی حراست میں انتقال کر گئے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارتی فوج، پیراملٹری فورسز اور پولیس اہلکاروں کی جانب سے پرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کے وحشیانہ استعمال سے 2660 افراد زخمی ہوئے جبکہ حریت رہنماؤں، کارکنوں، طلباء ، صحافیوں، علمائے دین اور انسانی حقوق کے محافظوں سمیت 33141 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ زیادہ تر گرفتار نوجوانوں کے خلاف پبلک سیفٹی ایکٹ اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون جیسے کالے قوانین کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ۔ بھارتی فورسز نے 1,168 رہائشی مکانات اور دیگر عمارتوں کو تباہ کیا اور 139 خواتین کی بے حرمتی کی۔ اس غیر قانونی اقدام سے کشمیریوں کی زندگی معاشی، سیاسی اور سماجی طور پر بدحال ہو گئی ہے جس کا مقصد علاقے کی مسلم اکثریتی حیثیت کو تبدیل کرنا ہے۔ بھارتی فورسز نے گزشتہ ماہ جنوری میں دو کشمیریوں کو شہید اور 62 کو گرفتار کیا۔نئی دہلی کے مسلط کردہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے زیر کنٹرول مقبوضہ جموں وکشمیر کی انتظامیہ نے جنوری میں ایک درجن سے زیادہ کشمیریوں کی جائیدادیں ضبط کرلیں جن میں مکانات اور زمینیں شامل ہیں۔ بی جے پی حکومت کی کشمیر دشمن پالیسیوں کے تحت چھ کشمیری مسلم ملازمین کو ان کی سرکاری ملازمتوں سے معطل کر دیا گیا۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماؤں نے سرینگر میں ایک اجلاس میں کہا کہ مودی کی زیرقیادت ہندوتوا حکومت کی طرف سے خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاںخطرناک حد تک بڑھ گئی ہیں جن میں قتل وغارت، ماورائے عدالت قتل، بلاجواز گرفتاریاں، تشدد اور املاک کی ضبطی شامل ہے۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میںکہا کہ اجلاس میں تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل کرنے پر زور دیا گیا تاکہ بھارتی فورسز کے ہاتھوں کشمیریوں کی نسل کشی کو روکا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی مظالم کشمیریوں کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حق خودارادیت کیلئے اپنی منصفانہ جدوجہد ترک کرنے پر مجبور نہیں کر سکتے۔بھارتی فورسز نے مظالم کی انتہا کرتے ہوئے خواتین، ڈاکٹروں سمیت 1500 کشمیری گرفتار کر لئے۔بھارتی فوج، پیراملٹری اور پولیس اہلکاروں اور دیگر ایجنسیوں نے گزشتہ تین دنوں کے دوران محاصرے اور تلاشی کی سب سے بڑی کارروائی میں وادی کشمیر میں پوچھ گچھ کیلئے گرفتاریاں کیں۔بھارتی حکومت ان ہتھکنڈوں کے ذریعے کشمیر کے مظلوم عوام کے جذبہ حریت کوکمزوراور کالے قوانین اور طاقت کے وحشیانہ استعمال سے اختلاف رائے کو دبانا چاہتی ہے۔ ان پرتشدد کارروائیوں میں خاص طور پر کشمیری نوجوانوں اور آزاد جموں و کشمیر، پاکستان اور بیرون ملک مقیم حریت رہنماؤں کے اہلخانہ کو نشانہ بنایا جارہاہے، جو کشمیریوں کے ناقابل تنسیخ حق خود ارادیت کیلئے اپنی آواز بلند کررہے ہیں۔ایک سینئر پولیس افسر نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اب تک1500 سے زائد کشمیریوں کو پوچھ گچھ کیلئے حراست میں لیا گیا ہے۔ پولیس نے وادی کشمیر کے تمام حصوں میں بیک وقت کارروائیاں شروع کی ہیں اور ان کارروائیوں کا بنیادی اہداف آزادی پسند کارکن، ان کے ہمدرد، اوور گرانڈ ورکرز اور وہ لوگ ہیں جن کیخلاف غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون یو اے پی اے کے مقدمات درج ہیں تاہم وہ فی الحال ضمانت پر ہیں۔ گھروں پر چھاپوں کے دوران مکان اور بینک کے دستاویزات، ڈیجیٹل آلات، کتابیں اور دیگر اشیا ضبط کی جاتی ہیں۔ بارہمولہ میں 16حریت کارکنوں کے گھروں کی تلاشی لیکر10افراد کوکالے قوانین کے تحت گرفتارکیا گیا ہے۔اسکے علاوہ ضلع کے مختلف علاقوں میں محاصرے اور تلاشی کی 32 کارروائیاں کی گئی ہیں، جنوبی کشمیر کے اضلاع اسلام آباد، پلوامہ، شوپیاں اور کولگام میں پولیس نے متعدد مقامات پربڑے پیمانے پر محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں میں حال ہی میں شہید ہونے والے کشمیری نوجوانوں اور ان کے ساتھیوں کی رہائش گاہوں کی تلاشی لی گئی۔ضلع بڈگام میں بھی پولیس نے آزادی پسند کارکنوں کے خلاف کریک ڈائون کیا، گاندربل میں بھارتی فورسز نے محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں اور گھروں پر چھاپوں کے دوران 39 کشمیریوں کو گرفتار کر کے گاندربل کی دگنی بل جیل میں قیدد کر دیا۔ضلع کولگام میں بھارتی فورسز نے گھروں پر چھاپوں کے دوران حریت خاندانوں کے 8 افراد کو گرفتار کرکے انہیں سنٹرل جیل اسلام آباد منتقل کر دیا۔بھارتی فورسز نے مختلف علاقوں میں تلاشی اور چھاپوں کی کارروائیوں کے دوران 8 افراد کو بھی گرفتار کیا۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *