بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi °C
Thursday, 10 September 2026 | پاکستان: 29 ر بیع الاول 1448

”اے سوہنیا ربّٰ کیا تو بھی آنکھیں پھیر دے گا”

Monday, 20 April, 2026

یہ واقعہ حضرت شیخ سعدی نے بیان فرمایا ہے!! ایک دفعہ بڑی سلطنت کا بادشاہ بیمار ہو گیا اسے کوئی عجیب و غریب بیماری لاحق ہو گئی جس میں تمام بدن شدید درد کرتا، جسم کی حرکت بند ہو گئی صرف زبان ٹھیک تھی۔ وہ بول ، سن اور دیکھ سکتا تھا۔ تمام شاہی طبیب اور حکیم بلا لئے گئے ، سب نے ذاتی اور اجتماعی طور پر بادشاہ کا علاج کرنا شروع کیا مگر بادشاہ کو ذرا برابر بھی آرام نہ آیا۔ دیگر علاقوں کے طبیبوں اور حکیموں کو طلب کر لیا گیا جنھوں نے بھی ایڑھی چوٹی کا زور لگایا مگر سوائے مایوسی کے اور کچھ بھی نہ ملا۔ بادشاہ نے ہیرے ، جواہرات اور دیگر مختلف طرح کے انعامات بھی مقرر کر رکھے تھے۔ چنانچہ علاج میں کسی طرح کی کمی بیشی کا سوال ہی نہ پیدا ہوتا، ان معا لجین میں سے ایک حکیم نے بادشاہ سلامت کی خدمت میں عرض کیا کہ کوسوں میل دور علاقہ میں اس کا اُستاد رہتا ہے قوی یقین ہے کہ اگر اسے لایا جائے تو وہ آپ کے علاج میں کامیابی حاصل کر سکتا ہے مگر وہ آئے گا نہیں ۔ اسے لانے کے لئے خصوصی اہتمام کی ضرورت ہے۔ بادشاہ نے شاہی سواری دینے کا حکم دیا۔ وہ حکیم اپنے اُستاد کے پاس پہنچا۔ ساری صورتِ حال سے آگاہ کیا شاہی سواری اور بادشاہ سلامت کی خواہش کے مطابق اپنے ساتھ چلنے کی درخواست کی۔ استادِ محترم شاگرد سمیت بادشاہ کے پاس پہنچے۔ بڑی آئو بھگت کی گئی۔ جسمانی معائنہ اور تمام علامات کو دیکھتے ہوئے اُستاد نے بادشاہ سے مخاطب ہو کر کہا کہ آپ کا علاج صرف ایک ہی طریقہ سے ممکن ہے وہ یہ کہ 8/9 سالہ بچے کو زبح کر کے اس کا خون ٹب میں ڈالا جائے جس سے علاج کیا جائے گا۔ گویہ ایک عجیب و غریب طریقہ علاج تھا مگر دوسری طرف بادشاہ کی شدید تکلیف اور زندگی کا سوال تھا۔ بادشاہ بنیادی طور پر ظالم نہیں تھا اور نہ ہی وہ ناحق قتل و خون چاہتا تھا مگر اب کوئی چارہ نہ تھا۔چنانچہ اس نے اپنے وزیروں، مشیروں اور رئیسوں کو بلوایا۔ انہیں ہدایت کی کہ ملک کے طول و عرض میں پھیل جائو اور منہ بولی مانگ دے کر بچہ والدین کی رضامندی سے لایا جائے ایسا ہی ہوا۔ بادشاہ کے کارندے گلی گلی، شہر شہر، قصبہ قصبہ اور جنگل جنگل پھیل گئے۔بھلا کوئی اپنا بچہ دیتا ہے؟ یہ ناممکن سا مشن تھا۔ کون ماں باپ ایسے ہونگے جو اپنے جگر کے ٹکڑے کا خون بہانے پر راضی ہو جائیں گے۔ دور افتادہ جنگل میں نسبتاً عمر رسیدہ میاں بیوی بارے معلوم ہوا جن کا اتفاق سے ایک 8/9 سال کا بیٹا بھی تھا جو اللہ کریم نے انہیں بڑھاپے میں دیا تھا۔ بادشاہ کے کارندے وہاں پہنچ گئے۔ میاں بیوی نے اپنی ساری زندگی کسمپرسی میں گزاری تھی۔ یہ بیٹا ان کی کل دولت تھی، آخری عمر کا سہارا تھا اور وہ اس سے پیار بھی بہت کرتے تھے۔ کارندوں نے میاں بیوی سے الگ الگ ساری بات کہی مگر یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ راضی ہو جاتے۔ ایک دن گزر گیا، دوسرا دن گزر گیا، تیسرے دن کارندوں نے دونوں میاں بیوی کو اکٹھے بٹھا کر سمجھایا کہ اگر آپ کا بچہ بادشاہ کے پاس بھجوا دیں گے تو آپ کو شاہی محل میں تادمِ مرگ ٹھہرایا جائے گا۔ رنگ برنگے کپڑے، عمدہ قسم کے کھانے اور دنیا جہاں کی ہر سہولت دی جائے گی۔ آپ یوں سوچیں کے خدانخواستہ آپ کا بچہ بیمار ہو کر معزور ہو جائے یا کسی حادثہ میں اس کی موت ہو جائے تو پھر آپ کیا کریں گے؟ ایسی صورت میں آپ اسی جنگل میں بے بسی کی زندگی گزارتے رہیں گے۔ لہٰذا دل کی گہرائیوں سے اپنی اگلی زندگی بارے سوچتے ہوئے بچہ ہمارے حوالے کر دیں۔ قصہ مختصر وہ میاں بیوی راضی ہو گئے۔ کارندے شاہی دربار میں پہنچے۔ استاد حکیم صاحب بھی تمام دیگر طبیبوں اور حکیموں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ بچے کو دیکھ کر سبھی خوشی سے لبریر ہو گئے۔ اب ان حکیم صاحب نے بادشاہ سلامت سے مخاطب ہو کر کہا کہ یہ کام تو والدین کی رضامندی کے ساتھ ہو گیا اب حجت پوری کرنے کے لیے قاضی وقت سے فتویٰ بھی لے لیں تاکہ کوئی شرعی عذر نہ رہے۔ بادشاہ نے پھر اپنے ویزوں اور مشیروں کو کہا کہ جائیں اور سب سے بڑے قاضی صاحب سے فتوی لے کر آئیں۔ اگر قاضی صاحب نہ مانیں تو ان کو سونے اور چاندی میں تول دیا جائے۔ ہیرے جواہرات کی چمک ہر زمانے میں اپنا زبردست اثر دکھاتی ہے۔ تھوڑے سے بحث مباحثے کے بعد قاضی صاحب نے فتویٰ بادشاہ کی مرضی کے مطابق لکھ دیا۔ پھر سب بادشاہ کے پاس اکٹھے ہو گئے۔ استاد حکیم نے اب آخری شرط کے طور پر بادشاہ سے کہا کہ اب رات ہو چکی ہے کل دن چڑھنے پر ایک کھلے میدان میں ٹب میں رسیوں سے باندھ کر جلاد بچے کی گردن کاٹے گا۔ اس وقت آپ اپنے پلنگ پر سامنے بیٹھے ہونگے۔ بچے کی آہ و بکا دیکھ کر نفسیاتی اثر سے آپ کا علاج شروع ہو جائے گا۔ ایسا ہی کیا گیا بچے کو رسیوں سے باندھ کر ٹب میں ڈالا گیا۔ بادشاہ سلامت پلنگ پر لیٹ کر اسے تشنگی سے دیکھے جا رہے تھے۔ سینکڑوں ہزاروں لوگ بھی یہ منظردیکھ رہے تھے۔ جب جلاد نے بچے کی گردن پر تلوار رکھی اس سے پہلے کہ وہ بادشاہ کا اشارہ پاتا۔ بادشاہ نے دیکھا کہ بچے نے آسمانی کی طرف دیکھ کر کچھ کہا؟ اس کے ہلتے ہوئے لبوں کو دیکھ کر یکدم بادشاہ بستر سے اٹھ کھڑا ہوا اور جلاد کو چیخ کر کہا رُک جائو۔ بادشاہ کو یوں محسوس ہوا کہ اس کے سارے درد اور تکلیف جاتی رہی وہ بالکل ٹھیک ہو چکا تھا۔ اس نے بچے کی رسیاں کھلوائیں اپنے پاس بلوایا اور کہا بچے یہ بتائو کہ آخری وقت تم نے آسمان کی طرف دیکھ کر اللہ سے کیا کہا تھا۔ بچہ زور و قطار رو رہا تھا۔وہ کہنے لگا کہ جب مجھے رسیوں سے باندھ کر ٹب میں ڈالا جا رہا تھا تو میں دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ ایک بچہ اپنے ماں باپ کے لیے کتنا قیمتی ہوتا ہے۔ دنیا کے شاید ہی کوئی والدین ہوں گے جو بچے سے ہیرے جواہرات کی خاطر آنکھیں پھیر دیںمگر ایسا ہو گیا۔ پھر میں قاضی وقت کے بارے میں سوچتا رہا کہ قاضی کا کام تو انصاف کرنا ہے اسے دنیا کو کوئی لالچ اپنے فرض سے آنکھیں پھیرنے سے نہیں روک سکتا مگر یہ بھی ہو گیا۔ پھر میں نے سوچا کہ بادشاہ وقت پوری رعایا کا باپ ہوتا ہے اس کی نظر میں سب برابر ہوتے ہیں وہ کبھی اپنے منصب کے تقاضوں سے آنکھیں نہیں پھیر سکتا مگر میری آنکھوں نے جب یہ منظر دیکھا تو میرے پاس اور کوئی چارہ نہ تھا تب میں نے آسمان کی طرف دیکھ کر اللہ سے کہا ”اے سوہنیا ربّٰ کیا تو بھی آنکھیں پھیر دے گا” میرے لبوں کا ہلنا تھا کہ بادشاہ سلامت اللہ کریم نے آپ کی تمام بیماریاں ختم کر دیں۔ رب تعالیٰ واقعی اپنے بندوں کے ساتھ بہت پیار کرتا ہے اور وہ کبھی بھی آنکھیں نہیں پھیرتا!

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *