فرانسیسی اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے لاکھوں طلبہ، اساتذہ اور والدین سڑکوں پر ہیں، پولیس کے ساتھ شدید جھڑپیں ہو رہی ہیں اور حکومت نے حفاظتی اقدامات کے طور پر سیکڑوں اسکول بند کر دیے ہیں۔ طلبہ کا غصہ تعلیمی بجٹ میں کٹوتی، اساتذہ کی شدید کمی، کلاس رومز میں اوور کراڈنگ اور اسکولوں کی گرتی ہوئی عمارتوں کے خلاف ہے۔ فرانسیسی حکومت کے نئے بجٹ جو عوامی اخراجات میں کٹوتی کیلئے لایا گیا جس نے جلتی پر تیل کا کام کیاہے۔ پیرس، مارسے اور لیون سمیت کئی شہروں میں لاکھوں مظاہرین سڑکوں پر ہیں۔ فرانس روایتی طور پر فلاحی ریاست رہا ہے جہاں تعلیم اور صحت حکومت کی ذمہ داری سمجھی جاتی ہے لیکن بڑھتے ہوئے قرضوں کے سبب اب فرانسیسی حکومتیں عوامی سہولیات کا بجٹ کاٹ رہی ہیں، جس سے عوام اور اشرافیہ کے درمیان خلیج بڑھ رہی ہے۔ یہ احتجاج روایتی سیاسی جماعتوں کے بجائے واٹس ایپ، سگنل اور انسٹاگرام کے ذریعے نوجوان خود منظم کر رہے ہیں۔ ڈیجیٹل دور میں حکومتوں کے لیے ایسے ابھار کو طاقت سے دبا دینا اب ممکن نہیں رہا۔ یہ ملک گیر طلبہ احتجاج ستمبر 2026 کے وسط سے شروع ہوا تھا جو پیرس کے شمالی مضافات میں ایک ہائی اسکول کے اساتذہ کی ہڑتال سے اٹھا اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے ملک میں پھیل گیا۔ اب یہ تحریک اپنے تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔ چھ اکتوبر کو ملک گیر مظاہروں میں دو لاکھ 66 ہزار سے زائد افراد کی شرکت کی اطلاع سامنے آئی جبکہ آٹھ اکتوبر کو تقریبا 71,500 افراد نے مختلف شہروں میں احتجاج کیا۔ تعلیمی یونینز اور اساتذہ نے بھی طلبہ کی حمایت میں عام ہڑتال کی ہے۔ فرانس بھر میں تقریبا 375 سے زائد ہائی اسکول مکمل یا جزوی طور پر بند ہیں۔ طلبہ نے اسکولوں کے دروازوں پر کچرے کے ڈبے اور رکاوٹیں کھڑی کر کے داخلے بند کر رکھے ہیں۔ پولیس کے بیہمانہ تشدد اور آنسو گیس کے استعمال پر شدید تنقید ہو رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں 3 طلبہ شدید زخمی ہوئے،جن میں ایک 15 سالہ بچے کا ہاتھ دھماکے سے اڑ گیا اور ایک کا جبڑا ٹوٹ گیا۔ اب تک 5,000 سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جن میں 87 فیصد نابالغ بچے ہیں۔ فرانسیسی وزیر اعظم سیباستیان لیوکورنو کی جانب سے طلبہ کی شکایات کے ازالے اور تعلیمی نظام کو بحران سے نکالنے کیلئے جس 5 نکاتی ایجنڈے کا اعلان کیا گیا ہے، اس میں درج ذیل اقدامات شامل ہیں۔ اساتذہ کی شدید کمی کو دور کرنے کیلئے متبادل اساتذہکی تعداد میں نمایاں اضافہ کیا جائے گا تاکہ اساتذہ کی عدم موجودگی کی وجہ سے طلبہ کا تعلیمی حرج نہ ہو۔ اسی کے تحت وزیر تعلیم نے فوری طور پر 3,000 اساتذہ لانے کا وعدہ کیا ہے۔ فرانس بھر میں اسکولوں کی پرانی اور بوسیدہ عمارتوں کی فوری مرمت اور بحالی کا کام شروع کیا جائے گا تاکہ طلبہ کو سردی اور گرمی کے شدید موسم سے محفوظ ماحول مل سکے۔ طلبہ پر پڑھائی اور طویل دورانیے کا دبا کم کرنے کے لیے اسکول کے روزمرہ اوقات کار اور ٹائم ٹیبل پر نظرثانی کی جائے گی۔ اعلی تعلیم اور یونیورسٹیوں میں داخلے کے موجودہ ڈیجیٹل طریقہ کار خصوصا ویب سائٹ جس سے طلبہ شدید ذہنی دبا کا شکار تھے اور مجموعی داخلہ سسٹم کو بہتر اور آسان بنایا جائے گا۔ تعلیمی پالیسیوں، اسکولوں کے انتظامات اور بڑے فیصلوں میں طلبہ کی نمائندگی بڑھائی جائے گی اور ان کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ ان کی آواز براہ راست حکام تک پہنچ سکے۔ طلبہ یونینز نے وزیر اعظم کے وعدوں کو صرف زبانی جمع خرچ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ جب تک عملی اقدامات نہیں ہوتے، وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ طلبہ نے اگلے منگل 13اکتوبر کو دوبارہ ملک گیر بڑے مظاہروں کا اعلان کیا ہے جبکہ سوشل میڈیا پر 17 اکتوبر کو ایک بہت بڑے جام چکہکی کال بھی گردش کر رہی ہے۔ حکومت کی طرف سے اساتذہ دینے اور بجٹ بڑھانے کے وعدوں کے باوجود نوجوانوں کا ریاست پر اعتماد اس حد تک اٹھ چکا ہے کہ وہ سڑکیں چھوڑنے کو تیار نہیں ہیں جو فرانسیسی صدر اور وزیر اعظم کے لیے ایک ڈرانا خواب بن چکا ہے۔ اس کے پیچھے چند انتہائی گہرے سیاسی، سماجی اور معاشی عوامل ہیں۔ نوجوانوں کا ماننا ہے کہ فرانسیسی حکومت کے وعدے محض احتجاج ختم کرانے کا ایک عارضی ہتھیار ہوتے ہیں۔ صدر میکرون کے گزشتہ دور اقتدار سے لے کر اب تک خصوصا متنازع پنشن ریفارمز اور ماضی کے تعلیمی وعدوں کے دوران حکومت نے کئی بار پیکیجز کا اعلان کیا لیکن گرانڈ پر کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی۔ طلبہ موجودہ پانچ نکاتی ایجنڈے کو سیاسی لولی پاپ سمجھ رہے ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ جب تک فنڈز عملی طور پر اسکولوں تک نہیں پہنچتے اور نئے اساتذہ کلاس رومز میں کھڑے نہیں ہوتے، وہ سڑکیں نہیں چھوڑیں گے۔فرانس اس وقت اپنے تاریخ کے بدترین معاشی اور قرضوں کے بحران سے گزر رہا ہے، جہاں حکومت خسارہ کم کرنے کے لیے عوامی اخراجات میں اربوں یوروز کی کٹوتیاں کر رہی ہے۔ نوجوان یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ ایک طرف حکومت بجٹ خسارے کا رونا رو کر مجموعی تعلیمی و سماجی بجٹ کاٹ رہی ہے تو دوسری طرف احتجاج کے دبا میں آ کر اچانک متبادل اساتذہ اور فنڈز دینے کا جادوئی وعدہ کیسے کر رہی ہے؟ اس تضاد نے نوجوانوں کو یہ یقین دلا دیا ہے کہ حکومت مخلص نہیں بلکہ صرف وقت گزاری کر رہی ہے۔ مظاہرین کو دبانے کے لیے فرانسیسی پولیس نے جس بے دریغ طاقت اور چوٹ پہنچانے والے اسٹنٹ گرینیڈز کا استعمال کیا، اس نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ جب 15 اور 16 سال کے اسکول کے بچوں کو شدید زخمی حالت میں اسپتالوں میں دیکھا گیا اور ہزاروں کی عارضی گرفتاریاں ہوئیں تو یہ تحریک صرف تعلیمی مطالبات سے نکل کر ریاستی جبر کے خلاف جنگ بن گئی۔ اب نوجوانوں کا غصہ اس بات پر ہے کہ جمہوری ریاست نے اپنے ہی بچوں کے خلاف جنگی ہتھیار کیوں استعمال کیے؟ نوجوان نسل میکرون کو امیروں کا صدر سمجھتی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ حکومت کارپوریٹ سیکٹر اور امیروں کو ٹیکس چھوٹ دیتی ہے جبکہ عام عوام اور نوجوانوں پر بوجھ ڈالا جاتا ہے۔فرانس میں گزشتہ چند برسوں کے دوران زندگی گزارنے کی لاگتاور توانائی کے بحران نے عام شہریوں کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرحفرانس کا ایک مستقل مسئلہ رہی ہے۔ اعلی تعلیم کے باوجود نوجوانوں کو مستقل اور اچھی تنخواہ والی ملازمتیںنہیں مل رہی ہیں بلکہ انہیں عارضی معاہدوں پر گزارا کرنا پڑتا ہے، جس سے ان کا مستقبل غیر محفوظ ہو جاتا ہے فرانس کے پسماندہ علاقوںکے نوجوان خود کو فرانسیسی معاشرے سے کٹا ہوا اور امتیازی سلوک کا شکار محسوس کرتے ہیں۔ سڑکوں پر جاری حالیہ احتجاج میں ان کا غصہ بھی شامل ہے۔ فرانسیسی نوجوانوں کی ایک بہت بڑی تعداد موسمیاتی تبدیلیوں کو لے کر شدید فکر مند ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ میکرون حکومت ماحولیات کے تحفظ کے لیے صرف باتیں کرتی ہے اور عملی طور پر بڑے صنعتی اداروں کو کاربن اخراج کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ وہ اپنے مستقبل کو موسمیاتی اور معاشی دونوں لحاظ سے خطرے میں دیکھتے ہیں۔ صدر میکرون نے جب پارلیمنٹ میں ووٹنگ کے بغیر آئین کی دفعہ 49.3 کا استعمال کرتے ہوئے پنشن کی عمر 62 سے بڑھا کر 64 سال کرنے کا قانون منظور کروایا تو نوجوانوں اور مزدور یونینز میں یہ تاثر پختہ ہو گیا کہ حکومت عوامی رائے کی پرواہ نہیں کرتی۔فرانسیسی نوجوان اب سڑکوں پر اس لیے نہیں ہیں کہ انہیں چند اساتذہ یا کچھ اضافی بجٹ چاہیے بلکہ وہ اس سیاسی جمود اور سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف لڑ رہے ہیں جس میں انہیں اپنا مستقبل تاریک نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کے تمام تر تسلی بخش اقدامات کے باوجود سڑکوں پر تنا برقرار ہے۔





تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں