بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 27.1°C
Saturday, 10 October 2026 | پاکستان: 29 ر بیع الثانی 1448

خاموش تاریخ کے بولتے راز

Saturday, 10 October, 2026

تاریخ کے اوراق میں بعض حقائق ایسے بھی دفن ہوتے ہیں جن پر دانستہ پردے ڈال دیے جاتے ہیں۔ کبھی سیاسی مصلحت کے نام پر، کبھی بااثر قوتوں کے مفادات کے تحفظ کیلئے اور کبھی اس خوف سے کہ ماضی کے کچھ فیصلے اگر پوری طرح آشکار ہوگئے تو طاقت کے ایوانوں میں سوالات اٹھ کھڑے ہوں گے۔ خاموشی کی ایسی تہیں کبھی کبھی اس قدر گہری ہوجاتی ہیں کہ حق کی تلاش میں نکلنے والا انتہائی جستجو رکھنے والا شخص بھی برسوں بھٹکتا رہتا ہے۔ مگر وقت ایک ایسا بے رحم منصف ہے جو بالآخر پردوں کو چاک کر دیتا ہے۔ وہ راز جو ایک زمانے میں طاقت کے زور پر دفن کر دیے گئے ہوں، آنیوالی نسلوں کے سامنے کسی نہ کسی صورت میں نمودار ہوجاتے ہیں۔ایسی پوشیدہ حقیقتوں کے نیچے اکثر افراد یا ریاستوں کے وہ اعمال چھپے ہوتے ہیں جنہیں عوامی نگاہ سے اوجھل رکھنا مقصود ہوتا ہے، یا جن کے مرتکب یہ جانتے ہیں کہ ان کا راز فاش ہونا ان کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ ہوائی کی تاریخ، جو آج بحرالکاہل میں واقع ایک دور افتادہ جزائر پر مشتمل امریکی ریاست ہے، اس حقیقت کی ایک نمایاں مثال پیش کرتی ہے۔ یہ ایک ایسی تاریخ ہے جس سے بہت سے لوگ واقف نہیں، اور سچ تو یہ ہے کہ کچھ عرصہ پہلے تک میں خود بھی اس کے تمام پہلوں سے پوری طرح آگاہ نہ تھا۔ یہ داستان بتاتی ہے کہ ایک آزاد مملکت کس طرح اس کے جائز حکمران سے چھین لی گئی؛ نہ کسی آزادانہ رضامندی کے ذریعے، نہ کسی کھلے معاہدے یا خرید و فروخت کے نتیجے میں، بلکہ طاقت، دبا، سیاسی سازش اور مفادات کے ایک سوچے سمجھے امتزاج کے ذریعے۔ اور ہمارے عہد میں بھی توسیع پسندانہ رجحان کی یہ خواہش پوری طرح ماند نہیں پڑی؛ کبھی دور دراز علاقوں کی طرف نگاہ اٹھتی ہے اور کبھی خلیج کے تیل سے مالا مال ساحلوں اور اس سے آگے کے خطوں کی طرف۔1893 میں ہوائی ایک خودمختار مملکت تھی جس کی حکمران ملکہ للی یوکالانی تھیں۔ وہ غیر معمولی صلاحیتوں کی مالک اور اپنی رعایا میں مقبول حکمران تھیں۔ وہ پانچ زبانوں پر عبور رکھتی تھیں، گہری ذہانت کی حامل تھیں اور اپنے عوام کی فلاح و بہبود کو اپنی حکمرانی کا بنیادی مقصد سمجھتی تھیں۔ لیکن ان جزائر میں ایسی نعمتیں بھی موجود تھیں جنہوں نے دور دراز طاقتوں کی نگاہیں اپنی جانب کھینچ لیں۔ زرخیز زمینیں، جہاں گنے اور انناس کی وافر پیداوار ہوتی تھی، اور بحرالکاہل میں ایک ایسا اہم بندرگاہی مقام جس کی تزویراتی قدر غیر معمولی تھی۔امریکی مشنری اس سے پہلے ہوائی پہنچ چکے تھے۔ وہ اپنے ساتھ مذہبی تعلیمات تو لائے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے قانونی طریقوں کے ذریعے زمینوں کے حصول کا ایک ایسا سلسلہ بھی قائم کیا جس میں نئے آنے والوں کو نمایاں فائدہ حاصل ہوا۔ ان مشنریوں کی اولاد اور امریکی و یورپی نسل سے تعلق رکھنے والے دوسرے کاروباری عناصر نے رفتہ رفتہ گنے کی صنعت پر غلبہ حاصل کرلیا۔ یوں ہوائی کی معیشت بڑی بڑی جاگیروں اور زرعی پیداوار پر منحصر ہوتی گئی، جبکہ ان کاروباری مفادات کے حامل طبقات نے وسیع اراضی پر قبضہ اور ریاستی معاملات میں غیر معمولی سیاسی اثر و رسوخ حاصل کرلیا۔جب ملکہ للی یوکالانی نے مقامی بادشاہت کے اختیارات بحال کرنے اور 1887 کے نام نہاد بایونٹ آئین کے اثرات کم کرنے کی کوشش کی، جو ان کے پیش رو پر طاقت کے زور پر مسلط کیا گیا تھا، تو زمیندار اور کاروباری اشرافیہ نے کمیٹی آف سیفٹی تشکیل دی۔ جنوری 1893 میں اس گروہ نے مسلح ہوکر شاہی محل کو گھیر لیا۔ اس دوران امریکی وزیر جان ایل اسٹیونز نے امریکی بحری جہاز یو ایس ایس بوسٹن سے میرینز اور بحری فوجی اتارے۔ بظاہر یہ اقدام امریکی شہریوں اور املاک کے تحفظ کے لیے کیا گیا تھا، مگر ان مسلح دستوں کی موجودگی نے عملی طور پر ملکہ کے حامیوں کو خوف زدہ اور دبا میں مبتلا کردیا۔اپنے عوام کی جانیں خطرے میں ڈالنے کے بجائے ملکہ نے مزاحمت ترک کردی۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی برتر قوت کے سامنے اقتدار سے دستبردار ہورہی ہیں، اس امید کے ساتھ کہ انصاف بالآخر ان کا تخت انہیں واپس دلا دے گا۔ اس کے فورا بعد سانفورڈ بی ڈول کی سربراہی میں ایک عبوری حکومت قائم ہوئی، جسے امریکی نمائندے اسٹیونز نے تسلیم کرلیا۔ ڈول خود بھی ان مشنری خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے جنہوں نے ہوائی میں گہری جڑیں قائم کرلی تھیں۔صدر گروور کلیولینڈ نے معاملے کی تحقیقات کرائیں۔ کمشنر جیمز بلانٹ کی رپورٹ کے بعد ان کا نتیجہ یہ تھا کہ آئینی حکومت کو امریکی نمائندوں کی فعال معاونت اور امریکی بحری افواج کی مسلح موجودگی کے ذریعے کمزور اور معطل کیا گیا تھا۔ صدر کلیولینڈ نے الحاق کا زیرِ غور معاہدہ واپس لے لیا اور ملکہ کو دوبارہ تخت پر بحال کرنے کی کوشش کی، مگر عبوری حکومت نے انکار کردیا اور کانگریس بھی عملی اقدام کیلئے آمادہ نہ ہوئی۔مقامی ہوائی باشندوں نے بھی اپنی آواز بلند کی۔ کیوای کے نام سے پیش کی جانے والی درخواستوں پر اکیس ہزار سے زیادہ دستخط موجود تھے، جو مقامی بالغ آبادی کی ایک بڑی اکثریت کی نمائندگی کرتے تھے۔ ان درخواستوں میں امریکی کانگریس سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ ہوائی کے الحاق کو مسترد کیا جائے۔ مگر یہ آواز بھی طاقت کے شور میں دب گئی۔ 1898 میں، ہسپانوی۔امریکی جنگ اور بحرالکاہل میں بدلتی ہوئی تزویراتی صورتِ حال کے پس منظر میں، ہوائی کو ایک مشترکہ قرارداد کے ذریعے امریکہ کا حصہ بنا لیا گیا۔ 1959 میں ہوائی امریکہ کی پچاسویں ریاست بن گیا۔تقریبا ایک صدی بعد، 23 نومبر 1993 کو صدر بل کلنٹن نے ایک قرارداد پر دستخط کیے جس میں 1893 کے واقعے پر سرکاری طور پر افسوس اور معذرت کا اظہار کیا گیا۔ امریکی حکومت کی جانب سے اس امر کا اعتراف تھی کہ ہوائی کی آئینی حکومت کا تختہ الٹنا غیر قانونی اقدام تھا اور مقامی ہوائی باشندوں نے اپنی خودمختاری کے دعوے سے دستبرداری اختیار نہیں کی تھی۔ قرارداد کانگریس کے دونوں ایوانوں سے منظور ہوئی، مگر ماضی کا وہ تاج جسے ایک صدی پہلے چھین لیا گیا تھا، آج تک اپنے اصل وارثوں کو واپس نہیں کیا گیا۔
(……جاری ہے)

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *