بانی سردار خان نیازی

🌤 Columbus 15.6°C
Wednesday, 26 August 2026 | پاکستان: 14 ر بیع الاول 1448

ریاست کیخلاف ڈیجیٹل یلغار۔۔!

Saturday, 17 January, 2026

مبصرین کے مطابق ہم اس وقت ایک ایسے ڈیجیٹل عہد میں داخل ہو چکے ہیں جہاں گمراہ کن معلومات اور منظم ڈیجیٹل اثراندازی محض رائے سازی تک محدود نہیں رہی بلکہ براہِ راست سیاسی عدم استحکام اور آئینی نظم کو کمزور کرنے کا ذریعہ بن چکی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، جو ابتدا میں جمہوری مکالمے اور اظہارِ رائے کے فروغ کے لیے وجود میں آئے تھے،آج جھوٹے بیانیوں، من گھڑت الزامات اور ادارہ جاتی بداعتمادی پھیلانے کے موثر ہتھیار بن چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ جب مؤثر ضابطہ کاری نہ ہو اور الگورتھم سنسنی خیزی کو فروغ دیں تو جھوٹ آہستہ آہستہ حقیقت کا روپ دھار لیتا ہے اور بالآخر زمینی انتشار میں بدل جاتا ہے ۔ سنجیدہ حلقوں کے بقول پی ٹی آئی کا انتشاری بیانیہ محض نعروں تک محدود نہیں بلکہ ایک منظم پروپیگنڈا حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد ریاستی اداروں، عدالتی نظام اور آئینی عمل کو متنازع بنانا ہے۔”کیا ہم کوئی غلام ہیں؟ ”جیسے نعرے عوامی غصے کو سیاسی ایندھن میں بدلنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، جہاں ہر قانونی کارروائی کو جبر اور ہر احتساب کو سازش قرار دیا جاتا ہے۔ اس بیانیے میں حقائق کے بجائے جذبات، شواہد کے بجائے الزامات اور قانون کے بجائے ہجوم کی نفسیات کو ترجیح دی جاتی ہے۔ ماہرین کے بقول یہ پروپیگنڈا اصلاح یا جمہوری جدوجہد نہیں بلکہ دانستہ انتشار، ادارہ جاتی کمزوری اور مستقل عدم استحکام کی راہ ہموار کرتا ہے۔ یہ امر خصوصی توجہ کا حامل ہے کہ اس ڈیجیٹل ماحول میں بعض سیاسی ایجنڈے اصلاح یا احتساب کے بجائے ریاستی اختیار کو ہی چیلنج بنانے پر مرکوز دکھائی دیتے ہیں۔ آزادیِ اظہار کو ایک مطلق ڈھال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جبکہ اسی آزادی کے غلط استعمال کو مظلومیت کے بیانیے میں ڈھال کر قانونی جواب دہی کو سیاسی انتقام قرار دیا جاتا ہے۔ اس طرزِ عمل کا مقصد واضح ہوتا ہے: مسلسل عدم استحکام پیدا کر کے ریاستی اداروں کی ساکھ کو کمزور کرنا۔اسی تناظر میں برطانیہ میں جولائی تا اگست 2024 کے دوران پیش آنے والے فسادات ایک عالمی مثال کے طور پر سامنے آئے۔ ساؤتھ پورٹ میں تین بچیوں کے قتل کے بعد چند ہی گھنٹوں میں سوشل میڈیا پر یہ جھوٹ پھیلایا گیا کہ ملزم ایک پناہ گزین اورمسلمان اور شدت پسند تھا۔ اگرچہ یہ دعوے بعد ازاں غلط ثابت ہوئے۔ تاہم اس دوران اس جھوٹے بیانیینے مساجد، پولیس،مہاجر رہائش گاہوں اور کاروباری مراکز پر حملوں کو جنم دیا۔قانونی ماہرین کے بقول پاکستان کو 2022 کے بعد سے ایک مختلف مگر ساختی طور پر مشابہ ڈیجیٹل چیلنج کا سامنا ہے، جسے اکثر عالمی سطح پر غلط انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ ایک منظم نیٹ ورک، جس میں مخصوص سیاسی وابستگی رکھنے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس، بیرونِ ملک مقیم یوٹیوبرز اور خود ساختہ کارکن شامل ہیں، مسلسل اشتعال انگیزی اور ادارہ مخالف بیانیہ تشکیل دے رہا ہے۔ طریقہ کار تقریباً یکساں ہوتا ہے: سب سے پہلے کسی سرکاری یا نیم سرکاری نوعیت کے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ سے الزام لگایا جاتا ہے، پھر یوٹیوب پر سنسنی خیز تبصروں کے ذریعے اسے خفیہ سازشوں، غداری اور مبینہ قتل جیسے دعوؤں سے جوڑ دیا جاتا ہے، اور آخرکار درجنوں اکاؤنٹس اسے”بریکنگ نیوز”بنا کر پھیلا دیتے ہیں، بغیر کسی ثبوت کے۔اسی تناظر میں عدالتوں اور قانونی کارروائیوں کو منظم انداز میں سیاسی رنگ دیا جاتا ہے۔ گرفتاریوں ، فردِ جرم اور عدالتی فیصلوں کو آمریت کی علامت قرار دے کر ججوں، تفتیشی افسران اور سیکیورٹی اداروں کو سازشی کرداروں کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ بیانیہ دراصل ریاست کی قانونی حیثیت کو ہی متنازع بنانے کی کوشش ہے، تاکہ عوام کا عدالتی نظام سے اعتماد اٹھ جائے اور حکمرانی مفلوج ہو کر رہ جائے۔یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ پاکستانی عدالتی ریکارڈ کے مطابق 2022 سے 2025 کے دوران ایک مخصوص انتشاری ٹولے کی جانب سے متعدد مواقع پر ججوں، فوجی افسران اور تفتیش کاروں پر قتل، تشدد، غداری اور خفیہ سزاؤں جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے، جن کے حق میں کوئی شواہد پیش نہیں کیے گئے۔عدیل راجہ کا کیس اس رجحان کی ایک نمایاں مثال ہے۔ ایک سابق فوجی افسر اور یوٹیوبر کے طور پر انہوں نے نہ صرف پاکستان میں انتشار انگیز بیانیے کو فروغ دیا بلکہ مالی فوائد بھی حاصل کیے۔ اکتوبر 2025 میں لندن ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا کہ انہوں نے ایک ریٹائرڈ پاکستانی بریگیڈیئر پر بدعنوانی اور جرائم کے جھوٹے الزامات لگائے، جو ہتکِ عزت کے زمرے میں آتے ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ آزادیِ اظہار جان بوجھ کر جھوٹ بولنے اور اشتعال پھیلانے کا لائسنس نہیں۔ڈیجیٹل منظرنامے میں یوٹیوب کا کردار بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس پلیٹ فارم کا مالیاتی ماڈل تصدیق کے بجائے سنسنی، غصے اور جذباتی مواد کو انعام دیتا ہے۔ نتیجتاً جعلی خبریں اور سازشی نظریات ایک منافع بخش کاروبار بن چکے ہیں، جہاں سیاسی عدم استحکام براہِ راست آمدن کا ذریعہ بنتا ہے۔مرزا شہزاد اکبر کا معاملہ بھی اسی پس منظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ وہ محض ایک مبصر نہیں بلکہ القادر ٹرسٹ کیس میں مرکزی ملزم اور مفرور قرار دیے جا چکے ہیں۔ عدالتوں میں پیش نہ ہونے کے باعث ان کے خلاف باقاعدہ قانونی کارروائی اور حوالگی کی درخواستیں دائر کی گئیں، مگر ڈیجیٹل بیانیے میں اس سب کو سیاسی انتقام بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔اسی طرح عمران خان کے مقدمات کو بھی اکثر سیاق و سباق سے ہٹا کر عالمی سطح پر پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ عدالتی ریکارڈ کے مطابق کئی کیسز میں ضمانت، بریت یا کارروائی کی معطلی ہو چکی ہے۔ اس کے باوجود ہر قانونی قدم کو مظلومیت کے بیانیے میں ڈھال دیا جاتا ہے۔جنوری 2026 میں معید پیرزادہ کی سزا بھی اسی تسلسل کا حصہ ہے ۔ بارہا طلبی کے باوجود عدالت میں پیش نہ ہونے اور 9 مئی 2023 کے پرتشدد واقعات کے دوران اشتعال انگیز مواد پھیلانے پر عدالت نے اسے مجرمانہ فعل قرار دیا۔ یہ فیصلہ اختلافِ رائے کو دبانے کیلئے نہیں بلکہ قانونی حدود کے نفاذ کیلئے تھا۔اسی تناظر میں ڈراپ سائٹ نیوز جیسے اداروں کی جانب سے شائع ہونیوالے دعوؤں کو تنقیدی نگاہ سے دیکھنا ناگزیر ہے۔”اختلاف کرنے والوں کے قتلِ عام”جیسے الزامات بغیر کسی نام، ثبوت یا آزاد تصدیق کے لگائے جاتے ہیں اور وہی ذرائع ان کا سہارا بنتے ہیں جو خود عدالتی مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ پاکستان میں بھی یہی مسئلہ ایک سیاسی رنگ میں سامنے آ رہا ہے۔ جب دانستہ جھوٹ، اشتعال انگیزی اور عدم استحکام کو منافع بخش بنا دیا جائے تو ریاست کی جانب سے قانون کی عملداری جمہوریت کیخلاف نہیں بلکہ اس کے تحفظ کیلئے ہوتی ہے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *