بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 21.1°C
Saturday, 10 October 2026 | پاکستان: 29 ر بیع الثانی 1448

مقبوضہ وادی میں آبادی کا تناسب تبدیل

Saturday, 10 October, 2026

بی جے پی کی بھارتی حکومت نئی مردم شماری کے ذریعے مقبوضہ جموں وکشمیرمیں آبادی کا تناسب تبدیل اور ہندوتوا ایجنڈا مسلط کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ بھارتی حکومت 5اگست 2019کے غیر قانونی اقدامات کے بعداپنے ناجائز قبضے اور فوجی موجودگی کو مزید مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ علاقے میں مردم شماری کے ذریعے اپنے نوآبادیاتی منصوبے کو بھی آگے بڑھا رہی ہے جس کا مقصد مقبوضہ علاقے کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنا ہے۔مقبوضہ جموں و کشمیر اور لداخ خطے میں مردم شماری کا عمل جاری ہے جس کے دوران بھارتی فوج، پیراملٹری فورسز اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔ مقبوضہ علاقے میںنئے ڈومیسائل قانون کے نفاذ اور غیر مقامی افراد کو زمینیں الاٹ کرنے کے ذریعے آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق غیر مقامی افراد کی اکثریت بھارتی ہندوئوں پر مشتمل ہے۔ مودی حکومت پہلے ہی بھارتی صنعت کاروں کو اقوام متحدہ کے تسلیم شدہ متنازعے علاقے میں ہزاروں کنال اراضی صنعتیں قائم کرنے، بھارتی شہریوں کو بطور مزدور رکھنے اور انہیں مقبوضہ علاقے میں مستقل طورپرآباد کرنے کیلئے فراہم کرچکی ہے۔ مقبوضہ جموں وکشمیر میں عارضی طور پر مقیم بھارتی شہریوں کو نام نہاد اسمبلی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی اجازت بھی دی گئی ہے۔کل جماعتی حریت کانفرنس نے بی جے پی حکومت کو خبردارکیا ہے کہ وہ مردم شماری میں غیر مقامی افراد کو شامل کرنے سے بازرہے، بصورت دیگر کشمیر دشمن اقدامات کیخلاف بڑے پیمانے پر احتجاجی تحریک شروع کی جائیگی ۔ حریت کانفرنس نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر کے متنازعے علاقے میں بھارت کے غیر قانونی اقدامات کا نوٹس لے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کو پرامن طور پر حل کرنے پر بھارت پردبائو ڈالے۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میرواعظ عمرفاروق اورڈیموکریٹک فریڈم پارٹی نے سینئر حریت رہنما شبیر احمد شاہ کی ضمانت مسترد کیے جانے کو انتہائی مایوس کن اورناانصافی قرار دیا ہے۔ طویل اسیری نے شبیر احمد شاہ کی صحت کو شدید متاثر کیا ہے اور انہیں فوری طبی نگہداشت اور اپنے اہلِ خانہ کی دیکھ بھال کی ضرورت ہے۔قابض حکام نے ضلع بارہمول میں اسٹیڈیم کالونی کے قریب شہید محمد افضل گورو کے خاندان کے ڈیری یونٹ کے ڈھانچے کو مسمار کر دیا۔ جائیداد کی مسماری کے دوران علاقے میں بھارتی فورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کیلئے براہ راست مردم شماری کی بجائے مختلف قانونی، انتظامی اور سیاسی اقدامات کا سہارا لیا جا رہا ہے، جنہیں مبصرین “ڈیموگرافک انجینئرنگ ” قرار دیتے ہیں ۔ اگست 2019 میں بھارتی حکومت نے جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کی، جس کے تحت غیر مقامی افراد کے وہاں زمین خریدنے اور مستقل رہائش اختیار کرنے پر پابندی تھی۔ اکتوبر 2020 میں نئے قوانین کا نفاذ کیا گیا جس کے بعد بھارت کا کوئی بھی شہری مقبوضہ کشمیر میں جائیداد اور زمین خرید سکتا ہے، جس کا مقصد علاقے کی مسلم اکثریتی شناخت کو متاثر کرنا ہے۔ مغربی پاکستان کے مہاجرین، بھارتی سرکاری ملازمین اور دیگر افراد کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کا اجراء کیا گیا ہے تاکہ وہ مقامی ووٹرز اور رہائشی فہرستوں کا حصہ بن سکیں ۔ 2022 میں ہونے والی نئی حلقہ بندیوں کے ذریعے مسلم اکثریتی وادیِ کشمیر کے مقابلے میں ہندو اکثریتی جموں کے حلقوں میں اس طرح ردوبدل کیا گیا کہ سیاسی اقتدار اور اسمبلی میں تناسب تبدیل کیا جا سکے۔ سڑکوں، تاریخی مقامات اور سرکاری اداروں کے نام تبدیل کرنے کے اقدامات بھی جاری ہیں تاکہ علاقے کی مقامی شناخت کو مسخ کیا جا سکے۔ پاکستان اور کشمیری رہنماؤں کی طرف سے ان اقدامات کی شدید مذمت کی گئی ہے اور اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا جاتا ہے۔اگر دنیا کی سپر پاورز توجہ دیتیں تو یہ تنازعہ کبھی کا حل ہوچکا ہوتا۔ اب بھارت مقبوضہ کشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے تو اس بارے میں اقوام متحدہ کو لازماً اپنا کردارادا کرنا چاہیے اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو بھی چاہیے کہ وہ صرف خط لکھنے پر اکتفا نہ کرے بلکہ اس معاملے میں بھارت سے سفارتی سطح پر باقاعدہ احتجاج بھی کرے اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھی قرارداد جمع کرائے تاکہ اس پر بحث ہوسکے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *