بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 29°C
Tuesday, 25 August 2026 | پاکستان: 13 ر بیع الاول 1448

آئی ایم ایف کا نگران حکومت سے اخراجات میں کمی اور نجکاری کا عمل تیز کرنے کا مطالبہ

Thursday, 7 September, 2023

اسلام آباد: آئی ایم ایف نے نگران حکومت سے اسٹینڈ بائی پروگرام کی شرائط پر عمل درآمد کا مطالبہ کر دیا جن میں اخراجات میں کمی، اداروں کی نجکاری اور 203 سرکاری کمپنیوں کو منسٹریز سے نکال کر وزارت خزانہ کے ماتحت کرنے کے مطالبات شامل ہیں۔ آئی ایم ایف کی شرائط سے نگران حکومت کا امتحان شروع ہوگیا، آئی ایم ایف نے نگران حکومت سے اخراجات کم کرنے اور اداروں کی نجکاری کا عمل تیز کرنے کا مطالبہ کر دیا، 3 ارب ڈالر کے اسٹینڈ بائی معاہدے کے تحت 203 سرکاری کمپنیوں کو رواں مالی سال وزارت خزانہ کے انتظامی کنٹرول میں دینا ہے۔وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کا موقف ہے کہ ان کمپنیوں کا انتظام لائن منسٹریز کے پاس ہونا بہتری میں رکاوٹ ہے، پاور سیکٹر میں جنکوز اور ڈسکوز میں ناقص گورننس کے باعث نقصانات میں اضافہ ہوا، پیٹرولیم ڈویژن کی تیل و گیس کی منافع بخش کمپنیوں کو بڑے خسارے کا سامنا ہے۔وزارت خزانہ نے یہ بھی بتایا کہ اسی طرح آئی ایم ایف رواں مالی سال پی آئی اے، اسٹیل مل ، آر ایل این جی پاور پلانٹس اور ڈسکوز کی نجکاری چاہتا ہے۔دریں اثنا کابینہ کی نجکاری کمیٹی کا اجلاس نگران وزیر خزانہ شمشاد اختر کی زیر صدارت منعقد ہوا۔اجلاس میں پی آئی اے کی نجکاری اور تنظیم نو کے حوالے سے رکاوٹوں کے حل کے لیے تکنیکی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اوروزارت ہوا بازی کو نجکاری کمیشن کے ساتھ مل کر واضح ٹائم فریم ورک کے ساتھ تفصیلی ایکشن پلان پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *