بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 24.6°C
Thursday, 23 July 2026 | پاکستان: 9 صفر 1448

ایرانی وزیرداخلہ کادورہ پاکستان اوراعلیٰ حکام سے ملاقاتیں

Thursday, 23 July, 2026

ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سیدعاصم منیر سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کی ہیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل اسکندر مومنی کی ملاقات کے دوران علاقائی اور دو طرفہ سکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ایرانی وزیرداخلہ سے ملاقات کے دوران شہباز شریف نے خلیج میں حالیہ کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسے اقدامات سے گریز کریں جو خطے میں مزید عدم استحکام کا باعث بن سکتے ہیںانہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان ایک دیانتدار اور مخلص ثالث اور سہولت کار کے طور پر اپنا کردار جاری رکھے گا اور خطے میں امن و استحکام کیلئے اپنے مضبوط عزم کا اعادہ کیا۔مشرقِ وسطیٰ اور بالخصوص خلیج کی بساطِ سیاست و سکیورٹی اس وقت جس دبا اور بے یقینی کا شکار ہے۔ اس تناظر میں اسلام آباد میں ہونیوالی اعلیٰ سطح کی سفارتی و عسکری سرگرمیاں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی کی وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں صرف دو ہمسایہ ممالک کی روایتی ہم آہنگی کا مظہر نہیں بلکہ خطے کو درپیش سنگین سکیورٹی چیلنجز کے حل کی جانب ایک ٹھوس پیشرفت ہیں۔ ملاقاتوں کے دوران علاقائی و دو طرفہ سکیورٹی کی مجموعی صورتحال پر باریک بینی سے تبادلہ خیال کیا گیا جس نے دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان تذویراتی اعتماد کو مزید تقویت بخشی ہے۔خلیج میں حالیہ پیدا ہونیوالی سکیورٹی کشیدگی کے باعث پائیدار امن کے خدشات گہرے ہو چکے ہیں۔ ایسے میں وزیراعظم شہباز شریف کا خلیج کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار اور تمام متعلقہ فریقوں کو تحمل، برداشت اور دانشمندی کا مظاہرہ کرنے کی تاکید، پاکستان کی متوازن اور بصیرت افروز خارجہ پالیسی کا واضح ثبوت ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ طاقت کے استعمال یا یکطرفہ اقدامات سے پیدا ہونیوالے تنازعات صرف تباہی لاتے ہیں اور ان سے علاقائی عدم استحکام میں اضافہ ہوتا ہے۔ پاکستان کا بطور دیانتدار اور مخلص ثالث اپنے کردار کو پیش کرنا ایک ایسا سفارتی قدم ہے جو نہ صرف مسلم امہ بلکہ عالمی برادری کی ضرورت کے عین مطابق ہے۔ پاکستان کا جغرافیا، اس کی سفارتی تاریخ اور عسکری صلاحیت اسے اس قابل بناتی ہیں کہ وہ خطے کی مختلف قوتوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرے۔ خلیج کی کشیدگی میں کمی لانے اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے پاکستان کا یہ پُرعزم موقف خطے میں کسی بھی نئے بحران کو روکنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے ملاقاتوں کے دوران پاکستان کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت بشمول وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیرکی انتھک سفارتی و ثالثانہ کوششوں کی جو کھلے دل سے سراہنا کی ہے، وہ پاکستان کی عالمی اور علاقائی سطح پر بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت کا اعتراف ہے۔ ان مسلسل کاوشوں کے نتیجے میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا طے پانا کوئی عام واقعہ نہیں بلکہ یہ بات چیت کے ذریعے مسائل کے حل کی ایک شاندار مثال ہے۔ یہ مفاہمتی یادداشت اس بات کا ثبوت ہے کہ جب نیتیں مخلص ہوں اور سفارتکاری میں تدبر شامل ہو تو مشکل سے مشکل تنازعات میں بھی پیش رفت کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔ معاہدے کے ذریعے نہ صرف پاک ایران سرحدوں کی حفاظت، انسدادِ دہشت گردی اور اسمگلنگ کے خاتمے جیسے دو طرفہ مسائل کو حل کرنے کیلئے ایک مضبوط فریم ورک میسر آیا ہے بلکہ اس نے خطے کے دیگر ممالک کیلئے بھی پرامن بقائے باہمی اور مذاکرات کا ایک کامیاب ماڈل قائم کر دیا ہے۔پاکستان اور ایران نو سو کلومیٹر سے زائد طویل مشترکہ سرحد رکھتے ہیں۔ یہ سرحد ماضی میں متعدد بار سکیورٹی خدشات، سرحد پار کارروائیوں اور غیر قانونی سرگرمیوں کی وجہ سے دبائو کا شکار رہی ہے۔ تاہم فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ایرانی وزیر داخلہ کی ملاقات اس بات کا واضح پیغام ہے کہ دونوں ممالک کی عسکری و سکیورٹی قیادت سرحدی انتظام کو مضبوط بنانے، معلومات کی بروقت فراہمی اور مشترکہ دشمنوں یعنی دہشت گرد گروہوں کے قلع قمع کیلئے مکمل طور پر یکسو ہیں۔ پاک ایران سرحد کوامن اور خوشحالی کی سرحدبنانا دونوں ممالک کی معاشی اور سکیورٹی ضرورت ہے۔ سرحدی بازاروں کے قیام اور اقتصادی روابط کو فروغ دینے کے منصوبے اسی صورت میں بارآور ثابت ہو سکتے ہیں جب سرحدی سکیورٹی فول پروف ہو۔ آئی ایس پی آر کا یہ بیان کہ ملاقات میں دو طرفہ سکیورٹی صورتحال پر گفتگو ہوئی، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آئندہ دنوں میں بارڈر مینجمنٹ اور سکیورٹی کوآپریشن میں مزید پیش رفت دیکھنے کو ملے گی ۔ سکیورٹی اور سفارتی ہم آہنگی کے ساتھ ساتھ، پاکستان اور ایران کیلئے ناگزیر ہے کہ وہ دوطرفہ تجارت، توانائی کے شعبے اور علاقائی روابط میں بھی تیزی لائیں۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری اور ایران کی گوادر و چابہار بندرگاہوں کے درمیان تعاون جیسے منصوبے پورے خطے کا اقتصادی منظرنامہ بدل سکتے ہیں۔ اگر پاکستان اور ایران اپنے باہمی تجارتی حجم کو بڑھانے اور سرحدی خطوں میں خوشحالی لانے میں کامیاب ہو جاتے ہیںتو اس سے نہ صرف انتہا پسندی کا خاتمہ ہوگا بلکہ بیرونی مداخلت کا راستہ بھی ہمیشہ کیلئے بند ہو جائے گا۔ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی کا یہ دورہ اوراسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کا عزم پاک ایران تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ موجودہ بین الاقوامی حالات، جہاں بلاک سجی اور مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی بحران عروج پر ہیں، تقاضا کرتے ہیں کہ پاکستان اور ایران جیسے ذمہ دار ہمسایہ ممالک اپنے تعلقات کو ہر قسم کی بیرونی سازشوں اور غلط فہمیوں سے محفوظ رکھیں۔ پاکستان نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ محض اپنے مفادات کا محافظ نہیں بلکہ پورے خطے میں امن، استحکام اور یکجہتی کا داعی ہے۔اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر فوری اور مکمل عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے، سکیورٹی و انٹیلی جنس اداروں کے درمیان رابطوں کو مزید متحرک کیا جائے اور خلیج کے دیگر برادر ممالک و ایران کے درمیان دوریاں کم کرنے کیلئے پاکستان اپنا ثالثانہ و مخلصانہ کردار پوری توانائی سے جاری رکھے۔ اگر خطے کی قیادت نے دانشمندی، تدبر اور اتحاد کا دامن تھامے رکھا، تو مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کو درپیش سکیورٹی اور معاشی بحرانوں کو ناکامی میں بدلا جا سکتا ہے اور خطے میں پائیدار امن کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے۔
پٹرولیم مصنوعا ت کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیادپرردوبدل
حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ، جہاں ایک طرف عوام کیلئے شدید تشویش اور بے چینی کا باعث بن رہا ہے، وہاں دوسری طرف موجودہ معاشی تناظر اور بین الاقوامی منڈی کے حالات کا عکاس بھی ہے۔ پٹرول کی قیمت میں 4 روپے 93 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 15 پیسے فی لیٹر اضافے کے بعد نئی قیمتیں بالترتیب 320 روپے 73 پیسے اور 367 روپے 21 پیسے مقرر کر دی گئی ہیں۔ عوام کا یہ سوال بجا ہے کہ جب عالمی منڈی میں معمولی کمی کا فائدہ صارفین تک انتہائی معمولی انداز میں پہنچایا جاتا ہے تو قیمتوں میں اضافے کے وقت جھٹکا اتنا شدید کیوں ہوتا ہے۔ یہ ادراک اور تاثر عوامی سطح پر شدید تلخی اور حکومت کی قیمتوں سے متعلق پالیسی پر عدم اعتماد کو جنم دیتا ہے۔عوامی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو پٹرول اور بالخصوص ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست عام آدمی کی جیب اور زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ڈیزل کی قیمت میں ساڑھے سات روپے کے قریب اضافہ براہ راست زراعت، مال برداری اور پبلک ٹرانسپورٹ کو متاثر کرتا ہے، جس کے نتیجے میں سبزیوں، غلہ جات اور عام استعمال کی اشیا کی قیمتوں میں ازخود اضافہ ہو جاتا ہے۔ تاہم ایک ذمہ دارانہ معاشی پالیسی وہ ہوتی ہے جو حکومتی ریونیو کے اہداف اور عام شہری کی برداشت کے درمیان ایک معقول توازن قائم کرے۔ اگر حکومت کو بین الاقوامی حالات یا مالیاتی مجبوریوں کے باعث قیمتیں بڑھانا بھی پڑتی ہیں تو اسے شفافیت کیساتھ ان عوامل کو عوام کے سامنے پیش کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ جب بین الاقوامی سطح پر قیمتوں میں کمی کا رجحان ہو تو اس کا پورا فائدہ تاخیر کے بغیر صارفین تک پہنچایا جائے تاکہ پالیسی پر عوام کا اعتماد قائم رہے۔ صرف مالیاتی خسارہ پورا کرنے کی پالیسی کے بجائے اگر زراعت اور نقل و حمل کے شعبوں کو مخصوص ٹارگٹڈ سبسیڈی دی جائے تو اس سے معیشت کو سہارا بھی ملے گا اور عوام کو مہنگائی کے شدید سائے سے بچایا بھی جا سکے گا۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *