روس کی سلطنت جب ٹوٹی تو کئی ریاستیں آزاد ہوئیں۔ انہی میں سے ایک ریاست آذربائیجان ہے۔ 1991میں آزاد ہونے والا یہ ملک آج ہمارا برادر اسلامی ملک ہے۔ 96 فیصد مسلمان آبادی، مسجدیں، آذان اور پاکستان سے بے پناہ محبت۔ جب کاراباخ کی جنگ ہوئی تو پاکستان واحد ملک تھا جس نے آرمینیا کو آج تک تسلیم نہیں کیا، صرف آذربائیجان کی محبت میں۔ ہماری یہ محبت بے لوث ہے لیکن گزشتہ ہفتے باکو سے آنیوالی ایک خبر نے اس محبت کرنیوالے دل کو دکھ پہنچایا ہے۔ آذربائیجان کی حکومت نے 21 ستمبر کو قرارداد نمبر 309 کے ذریعے سرکاری اسکولوں میں ایسا لباس پہننے پر پابندی لگا دی ہے جو “سیکولر اصولوں” کیخلاف ہو۔ قانون میں براہ راست حجاب کا نام نہیں لکھا، لیکن باکو کے اسکول نمبر 69، 322 اور کئی دیگر سکولوں میں اس کی تشریح حجاب پر پابندی کے طور پر کی جا رہی ہے۔ بچیوں کو گیٹ پر روکا جا رہا ہے، استانیوں کو کلاس سے نکالا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں ایک طالبہ روتے ہوئے کہتی ہے کہ میرے سارے نمبر A ہیں، مجھے کیوں روکا جا رہا ہے؟ استانی زہرا حسنووا کہتی ہیں کہ یہ میری ذاتی پسند ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مغرب میں جب فرانس حجاب پر پابندی لگاتا ہے تو وہ دلیل دیتا ہے کہ شناخت کا مسئلہ ہے۔ لیکن آذربائیجان میں کون سی شناخت کا مسئلہ ہے؟ وہاں تو ماں، بہن، بیٹی سب مسلمان ہیں۔ پھر یہ پابندی کیوں؟اصل وجہ شناخت نہیں، معیشت ہے۔ آج دنیا میں میک اپ، فیشن اور بے حیائی کی انڈسٹری 500 بلین ڈالر سے زیادہ کی انڈسٹری بن چکی ہے۔ یہ انڈسٹری عورت کو ایک پروڈکٹ کے طور پر بیچتی ہے۔ سرخی، پاڈر، لپ اسٹک، چھوٹے کپڑے، سب اسی لیے ہیں کہ عورت اپنی زینت دکھائے۔ جب ایک عورت حجاب پہنتی ہے تو وہ اس انڈسٹری کی گاہک نہیں بنتی۔ اس لیے یہ انڈسٹری حجاب کو اپنا دشمن سمجھتی ہے۔ حالانکہ حجاب قید نہیں، عزت ہے۔ یہ اللہ کا حکم ہے۔ پہلا حکم سورة الاحزاب، آیت 59 کا ترجمہ:اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی چادریں اپنے اوپر لٹکا لیا کریں۔ یہ زیادہ مناسب طریقہ ہے تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور انہیں ستایا نہ جائے، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ اس ترجمے میں اللہ نے حجاب کی حکمت خود بیان کر دی۔ فرمایا کہ جب عورت حجاب میں ہوگی تو پہچانی جائے گی کہ یہ شریف اور با عزت عورت ہے، تو اسے کوئی تنگ نہیں کریگا۔ حجاب تحفظ ہے۔دوسرا حکم – سورة النور، آیت 30اور 31کا ترجمہ:اللہ فرماتا ہے کہ مومن مردوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے، بے شک اللہ جانتا ہے جو وہ کرتے ہیں۔ اور مومن عورتوں سے کہہ دو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو خود ظاہر ہو جائے، اور اپنے دوپٹے اپنے سینوں پر ڈالے رکھیں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے اپنے شوہروں کے۔ یہ حکم بالکل واضح ہے۔ اللہ نے پہلے مرد کو نظریں نیچی رکھنے کا کہا، پھر عورت کو پردے کا حکم دیا۔ یہ کسی مولوی کا فتوی نہیں، یہ قرآن کا حکم ہے۔ اسلام نے عورت کو قید نہیں کیا، اسے عزت دی ہے۔ تیسرا حکم:سورة الاحزاب، آیت 33 کا ترجمہ: اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور پہلے دور جاہلیت کی طرح بنا سنگھار دکھاتی نہ پھرو، اور نماز قائم کرو اور زکو دو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔آج وہی جاہلیت نئے نام سے آ رہی ہے۔ اسے فیشن کہتے ہیں، اسے آزادی کہتے ہیں۔ لیکن حقیقت میں یہ عورت کو پھر سے ایک چیز بنا رہا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورت پردے میں رہنے کی چیز ہے۔ جیسے قیمتی ہیرا ڈبے میں رکھا جاتا ہے، ایسے ہی قیمتی بیٹی کو حجاب میں رکھا جاتا ہے۔اب آتے ہیں آذربائیجان کے آئین کی طرف۔ آذربائیجان کا آئین خود دو باتیں کہتا ہے۔ آرٹیکل 7کہتا ہے کہ آذربائیجان سیکولر ریاست ہے لیکن اسی آئین کا آرٹیکل 48 کہتا ہے کہ ہر شخص کو ضمیر کی آزادی اور مذہب کی آزادی حاصل ہے تو کیا سیکولرزم کا مطلب یہ ہے کہ آپ مسلمان بچی کو اس کے مذہب پر عمل کرنے سے روک دیں؟ دنیا بھر میں سیکولرزم کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ ریاست سب کو آزادی دے گی۔ فرانس نے اس کی غلط تشریح کی اور آج وہاں ہر اسکول میں جھگڑا ہے۔ کیا آذربائیجان بھی وہی غلطی دہرائے گا؟اس فیصلے کا نقصان تعلیم کو ہو رہا ہے۔ باکو میں ہی کئی والدین نے اپنی بچیوں کو اسکول سے نکال لیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم اپنی بچی کو بے حجاب نہیں کریں گے تو کیا ریاست چاہتی ہے کہ بچیاں جاہل رہیں؟ کیا حجاب اور تعلیم ایک ساتھ نہیں چل سکتے؟دنیا کی بڑی بڑی سائنسدان، ڈاکٹر، انجینئر با حجاب ہیں۔ حجاب نے کبھی کسی کو ڈاکٹر بننے سے نہیں روکا۔ترکی، جو آذربائیجان کا سب سے قریبی دوست ہے، اسکے حکام نے بھی اس پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ترک صدر کے مشیر نے کہا کہ ایمان کی وجہ سے سر ڈھانپنے والی طالبہ کو اسکول کے گیٹ پر روکنا کسی انصاف میں کیسے آ سکتا ہے؟آذربائیجان نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ کشمیر کے مسئلے پر آذربائیجان نے ہمیشہ پاکستان کی حمایت کی ہے۔ ہم اس احسان کو نہیں بھولے۔ اسی محبت کی وجہ سے ہم یہ بات کہہ رہے ہیں۔ کیونکہ محبت کا تقاضا یہ ہے کہ حق بات کہی جائے۔ ہماری گزارش صرف اتنی ہے کہ اس فیصلے پر نظرثانی کی جائے۔ آذربائیجان کی حکومت اس قرارداد میں وضاحت کرے کہ حجاب سیکولرازم کیخلاف نہیں۔ جس طرح ترکی نے سالوں بعد اس غلطی کو درست کیا اور یونیورسٹیوں میں حجاب کی اجازت دی، آذربائیجان بھی اس غلطی کو درست کرے۔ عورت کو فیصلہ کرنے دیں۔ اگر کوئی بچی حجاب پہننا چاہتی ہے تو اسے پہننے دیں لیکن ایک مسلمان ملک میں مسلمان بچی کو حجاب سے روکنا، یہ زیادہ تکلیف دہ ہے۔




تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں