بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 16.9°C
Saturday, 17 October 2026 | پاکستان: 7 جمادی الاول 1448

ایمرجنسی کے سائے میں پاکستان

Saturday, 17 October, 2026

پاکستان اس وقت ایک نازک دور سے گزر رہا ہے جہاں قومی سلامتی، سیاسی استحکام، جمہوری روایات اور عوامی اعتماد آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج کے فیصلے نے قومی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت اسے امن و امان بہتر بنانے اور دہشت گردی کے بڑھتے خطرات سے نمٹنے کے لیے ضروری قرار دے رہی ہے، جب کہ اپوزیشن اس پر آئینی اور جمہوری اعتراضات اٹھا رہی ہے۔ ایسے ماحول میں اصل سوال یہ نہیں کہ کون آگے ہے اور کون پیچھے، بلکہ یہ ہے کہ ملک کو امن اور ترقی کی طرف کیسے لے جایا جائے۔ کسی بھی ریاست کی بنیادی ذمہ داری شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہے۔ خیبر پختونخوا نے گزشتہ کئی برسوں میں دہشت گردی کے باعث بے پناہ قیمت ادا کی ہے۔ یہاں کے عوام نے پیاروں کی قربانیاں دیں، کاروبار اجڑتے دیکھے، تعلیم میں رکاوٹیں برداشت کیں اور معمولات کی بحالی کے لیے طویل انتظار کیا۔ پولیس، سکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں نے یکساں طور پر اس صورتِ حال کا بوجھ اٹھایا۔ اس لیے دہشت گردی کا خاتمہ کسی ایک جماعت یا حکومت کا نہیں، پورے پاکستان کا مشترکہ مسئلہ ہے، جس کا حل قومی اتفاقِ رائے اور مسلسل عملی اقدامات میں ہے۔ تاہم غیر معمولی حالات میں غیر معمولی اختیارات کا استعمال ہمیشہ چار اصولوں پر پرکھا جانا چاہیے: واضح قانونی بنیاد، ضرورت، تناسب اور جواب دہی۔ ایمرجنسی کسی ریاست کے لیے بحران سے نمٹنے کا غیر معمولی آئینی راستہ ہوتی ہے، سیاسی اختلاف دبانے کا ذریعہ نہیں۔ اگر مقصد شہریوں کو تحفظ دینا ہے تو اس کے نتائج بھی سامنے آنے چاہئیں۔ اس کی کامیابی کے پیمانے واضح ہیں: دہشت گردی کے واقعات میں کمی، شہریوں کے تحفظ میں بہتری، متاثرہ علاقوں میں زندگی کی بحالی اور قانون کی مثر عمل داری۔ عوام کو یہ اعتماد ملنا چاہیے کہ اختیارات کا استعمال قانون کے دائرے میں ہو رہا ہے۔ پاکستان کی تاریخ بتاتی ہے کہ محض سخت فیصلے مستقل حل نہیں دیتے۔ انتظامی اقدامات کے ساتھ سیاسی تدبر، عوامی اعتماد اور اداروں کے درمیان تعاون ناگزیر ہے۔ اختلافِ رائے جمہوریت کی خوبصورتی ہے، لیکن جب وہ ذاتی دشمنی میں بدل جائے تو نقصان پورے معاشرے کو ہوتا ہے۔ اگر حکومت اور اپوزیشن قومی معاملات پر مکالمے کے دروازے بند کر دیں تو مسائل مزید پیچیدہ ہوں گے۔ قیادت کا اصل امتحان مشکل وقت میں ہوتا ہے، جب اسے اپنے حامیوں کے جذبات کے ساتھ پورے ملک کے مستقبل کو بھی دیکھنا پڑتا ہے۔ آج ضرورت ہے کہ تمام سیاسی رہنما اپنے مقف پر قائم رہتے ہوئے بھی برداشت اور آئینی راستوں کو ترجیح دیں۔ خیبر پختونخوا کے معاملے میں وفاق اور صوبے کے درمیان تعاون کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ دہشت گردی نہ انتظامی حد دیکھتی ہے نہ سیاسی تقسیم۔ اس کے اثرات ایک ضلع سے دوسرے ضلع تک پھیلتے ہیں۔ اس لیے وفاقی حکومت، صوبائی انتظامیہ، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان معلومات کا تبادلہ، وسائل کی فراہمی اور مشترکہ حکمتِ عملی ضروری ہے۔ جہاں سکیورٹی انتظامات کمزور ہوں وہاں نشان دہی، جہاں وسائل کم ہوں وہاں فراہمی اور جہاں غفلت ہو وہاں قانون کے مطابق احتساب ہونا چاہیے، مگر ہر قدم میں مقامی آبادی کی عزت اور بنیادی حقوق کو مقدم رکھا جائے۔ عوام کو ریاست کے ساتھ کھڑا کرنے کا بہترین طریقہ انہیں تحفظ، انصاف اور اعتماد دینا ہے۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ پائیدار امن صرف بندوق، چیک پوسٹ اور آپریشن سے قائم نہیں رہتا۔ اس کے لیے تعلیم، روزگار، انصاف اور معاشی مواقع بھی اتنے ہی اہم ہیں۔ جہاں نوجوانوں کو معیاری تعلیم اور روزگار نہ ملے، کاروبار کیلئے ماحول سازگار نہ ہو اور انصاف تک رسائی مشکل ہو، وہاں محرومی کا احساس بڑھتا ہے۔ اس کا مطلب تشدد کا جواز تلاش کرنا نہیں، بلکہ ان حالات کو بہتر بنانا ہے جو عدم استحکام پیدا کرتے ہیں۔ ایک باہنر اور با روزگار نوجوان اپنے خاندان اور ملک کے لیے زیادہ مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔ خیبر پختونخوا کے عوام کو یہ احساس دلانا بھی ضروری ہے کہ وہ قومی وحدت کا لازمی حصہ ہیں۔ دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں کی بحالی، شہدا کے لواحقین کی دیکھ بھال، زخمیوں کے علاج، تباہ حال کاروباروں کی معاونت اور بچوں کی تعلیم کا تسلسل حکومتی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔ ریاست کی کامیابی صرف خطرات کا مقابلہ کرنے میں نہیں، متاثرہ زندگیوں کو دوبارہ سنوارنے میں بھی ہے۔ موجودہ ماحول میں آئین اور پارلیمان کے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ کسی بھی جمہوری ریاست میں غیر معمولی اختیارات کی مدت، حدود اور نگرانی واضح ہونی چاہیے۔ حکومت اگر کسی اقدام کو ناگزیر سمجھتی ہے تو اسے وجوہات اور قانونی جواز پارلیمان اور عوام کے سامنے پیش کرنا چاہیے۔ اسی طرح اپوزیشن کو بھی اپنے تحفظات آئینی ذرائع سے سامنے لانے چاہئیں، جیسے پارلیمان میں بحث اور عدالتوں سے رجوع۔ اس عمل میں تشدد، نفرت انگیزی اور اشتعال سے گریز ضروری ہے۔ آئین کی بالادستی اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب دونوں فریق اس کے دائرے میں رہیں۔ مشکل وقت میں امید اور حوصلہ معاشرے کو ٹوٹنے سے بچاتا ہے۔ آج بھی اگر قیادت سنجیدگی دکھائے، ادارے قانون کے مطابق کام کریں اور عوام کو اعتماد میں لیا جائے تو بحران تصادم کے بجائے اصلاح کی طرف جا سکتا ہے۔ معاشی استحکام کا تعلق بھی براہِ راست امن سے ہے۔ بدامنی سے سرمایہ کاری متاثر ہوتی ہے، کاروبار سکڑتے ہیں اور ترقیاتی منصوبے سست پڑتے ہیں، جس کا سب سے زیادہ بوجھ عام شہری اٹھاتا ہے۔ اس لیے سکیورٹی اقدامات کے ساتھ مقامی معیشت کو سہارا دینا ضروری ہے۔ چھوٹے کاروباروں کیلئے سہولتیں، فنی تربیت، روزگار کے مواقع اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری اعتماد بحال کر سکتے ہیں۔ اگر حکومت سکیورٹی کیساتھ معاشی بحالی کا واضح منصوبہ پیش کرے تو عوام میں مثبت امید پیدا ہوگی۔ آج پاکستان کو ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو اختلافات کے باوجود قومی مفاد پر اتفاق پیدا کر سکے۔ حکومت کے پاس اختیارات ہیں، اس لیے اس پر زیادہ ذمہ داری ہے کہ وہ فیصلوں کی وضاحت کرے، قانونی تقاضے پورے کرے اور تنقید کو دشمنی نہ سمجھے۔ اپوزیشن پر بھی ذمہ داری ہے کہ وہ قومی سلامتی کے معاملات پر ذمہ دارانہ مقف اختیار کرے اور سیاسی مطالبات کو عوامی امن سے متصادم نہ ہونے دے۔ اقتدار عارضی ہے لیکن ریاست اور عوام کا مستقبل مستقل اہمیت رکھتا ہے۔ عام شہریوں کا کردار بھی اہم ہے۔ ووٹ یا جماعت کا اختلاف ہمیں معاشرتی تعلقات خراب کرنے پر آمادہ نہ کرے۔ کسی کو صرف سیاسی رائے کی بنیاد پر غدار یا دشمن قرار دینا تقسیم کو گہرا کرتا ہے۔ ایک مہذب معاشرے میں لوگ ایک دوسرے کی بات سنتے ہیں اور قانون کا احترام کرتے ہیں۔ قومی اتحاد کا مطلب سب کی رائے کا ایک جیسا ہونا نہیں، بلکہ اختلاف کے باوجود امن پر متفق ہونا ہے۔ آخر میں، ایمرجنسی کسی ملک کی منزل نہیں، بحران سے نمٹنے کا ذریعہ ہوتی ہے۔ اس کی کامیابی کا معیار یہ ہوگا کہ کیا شہری زیادہ محفوظ ہوئے، کیا آئینی حقوق برقرار رہے اور کیا مکالمے کے راستے کھلے رہے۔ پاکستان کو آج تصادم نہیں تدبر، نفرت نہیں مکالمہ اور غیر یقینی نہیں واضح حکمتِ عملی چاہیے۔ دہشت گردی کیخلاف کارروائی، آئین کا احترام، سیاسی برداشت اور عوامی فلاح کو ایک دوسرے کا معاون سمجھنا ہوگا۔ قومیں صرف طاقت سے نہیں، انصاف اور مشترکہ مقصد سے مضبوط ہوتی ہیں۔ اگر ہم اختلافات کو قومی وحدت پر غالب نہ آنے دیں اور شہریوں کے تحفظ کو ہر فیصلے کا مرکز بنائیں تو آج کی مشکل کل ایک بہتر پاکستان کی بنیاد بن سکتی ہے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *