اسلام آباد: حکومت کو پیش کی گئی ایک انٹیلی جنس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر میں بجلی کے زیادہ نرخوں اور آٹے کی قیمتوں کیخلاف ایک تحریک کے طور پر سامنے آنے والی کالعدم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی بتدریج ایک ایسی غیر ملکی حمایت یافتہ مہم میں تبدیل ہوگئی جس کا مقصد کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے موقف کو کمزور کرنا اور ریاستی اداروں کو نشانہ بنانا تھا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایسے ’’قابلِ اعتماد شواہد‘‘ موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ دشمن انٹیلی جنس ایجنسیوں سمیت بیرونی عناصر نے بالخصوص برطانیہ اور یورپ میں موجود اپنے نیٹ ورکس کے ذریعے مالی، تشہیری اور تنظیمی معاونت فراہم کر کے اس تحریک سے فائدہ اٹھایا۔ رپورٹ کے مطابق کالعدم کمیٹی کی تحریک سماجی و معاشی مطالبات سے آگے بڑھ کر ایک سیاسی مہم میں تبدیل ہوگئی، جس میں آزاد جموں و کشمیر کے آئینی ڈھانچے کو چیلنج کیا گیا۔
ان مطالبات میں آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین کیلئے مختص 12 نشستوں کے خاتمے اور بعض رہنماؤں کی جانب سے انتخابی نظام سے پاکستان سے الحاق کے حلف کو ختم کرنے کے مطالبات بھی شامل تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مہاجر نشستیں مقبوضہ کشمیر کے مہاجرین کی سیاسی نمائندگی برقرار رکھنے کیلئے قائم کی گئی تھیں۔ اس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اگرچہ آئینی اصلاحات پر سیاسی فورمز میں بحث کی جا سکتی ہے، تاہم انتخابات میں خلل ڈالنے کی دھمکیاں دینا اور آئینی دفعات کو مسترد کرنا سیاسی جبر کے مترادف ہے۔ رپورٹ میں اس تحریک کے ارتقاء کو دو بڑی احتجاجی مہمات کے تناظر میں بیان کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق، مئی 2024 کے لانگ مارچ کے نتیجے میں حکومت نے آٹے اور بجلی کی قیمتوں میں ریلیف کا اعلان کیا، تاہم یہ احتجاج تشدد پر ختم ہوا جس میں ایک قانون نافذ کرنے والے ادارے کا اہلکار شہید اور تین شہری جاں بحق ہوئے۔ بعد ازاں 29 ستمبر سے 4 اکتوبر 2025 تک جاری رہنے والے دوسرے لانگ مارچ میں سات شہری اور تین قانون نافذ کرنے والے اہلکار جان سے گئے، جس کے بعد 4 اکتوبر 2025 کو وفاق کی ثالثی میں ایک معاہدہ طے پایا۔ رپورٹ کے مطابق، اس معاہدے کی بیشتر شقوں پر یا تو عملدرآمد ہو چکا ہے یا عمل جاری ہے۔ تاہم رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی نے معاہدے پر عمل کے بجائے بعد میں اپنے مطالبات تبدیل کر دیے۔ رپورٹ میں 9 جون کے احتجاجی اعلان سے قبل پیش آنے والی حالیہ کشیدگی کا بھی ذکر کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر حکومت نے انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ ان پرتشدد جھڑپوں کے بعد کیا، جن میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے چار اہلکار شہید اور مزید 32 زخمی ہوئے۔
سکیورٹی اداروں نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ مظاہرین نے لاٹھیوں، پتھروں اور آتشیں اسلحے کا استعمال کیا جبکہ آزاد جموں و کشمیر کے پہاڑی علاقوں سے بھی فائدہ اٹھایا گیا۔ رپورٹ میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ احتجاجی مقامات پر عسکری پس منظر رکھنے والے بعض افراد اور ان کے مسلح ساتھی بھی موجود تھے۔ رپورٹ کا ایک بڑا حصہ اس وسیع بیرونِ ملک مہم پر مشتمل ہے جسے اس میں کالعدم ایکشن کمیٹی کی حمایت سے منسوب کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، لندن، برطانیہ کے دیگر شہروں، جنیوا اور یورپی پارلیمنٹ کے باہر پاکستانی سفارتی مشنز کے سامنے مظاہرے کیے گئے تاکہ اس معاملے کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کیا جا سکے۔ اس میں الزام لگایا گیا ہے کہ کشمیری قوم پرست گروہوں، تحریک انصاف کے حامی کارکنوں، سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور بھارت نواز پلیٹ فارمز نے مربوط آن لائن مہمات کے ذریعے کالعدم ایکشن کمیٹی کے بیانیے کو فروغ دیا۔رپورٹ کے مطابق، واٹس ایپ گروپس کے ذریعے الجزیرہ، اسکائی نیوز، رائٹرز، ایسوسی ایٹڈ پریس، بلوم برگ، فاکس نیوز اور ڈی ڈبلیو نیوز سمیت بین الاقوامی میڈیا اداروں کے نمائندوں کی رابطہ معلومات پھیلائی گئیں تاکہ احتجاج کو عالمی میڈیا میں زیادہ سے زیادہ کوریج مل سکے۔ مزید الزام عائد کیا گیا ہے کہ مربوط ہیش ٹیگز اور منظم پیغامات کے ذریعے چلائی گئی سوشل میڈیا مہمات کا مقصد آزاد جموں و کشمیر کو انسانی حقوق کے بحران کے طور پر پیش کرنا تھا، جبکہ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں مبینہ بھارتی مظالم پر خاموشی اختیار کی گئی۔رپورٹ میں یونائیٹڈ کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی کا خصوصی طور پر ذکر کرتے ہوئے اسے ایکشن کمیٹی کے بیرونِ ملک سرگرم ترین حامیوں میں شمار کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق یونائیٹڈ کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی طویل عرصے سے آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں پاکستان کے انتظامی کردار کے خلاف بین الاقوامی سطح پر مہم چلاتی رہی ہے اور حالیہ احتجاج کو اپنی لابنگ مزید تیز کرنے کیلئے استعمال کیا۔رپورٹ میں 29 ستمبر 2025 کو لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کے باہر یونائیٹڈ کشمیر پیپلز نیشنل پارٹیکے زیر اہتمام احتجاج میں ایکشن کمیٹی کی کور کمیٹی کے ایک رکن کی شرکت کو دونوں تنظیموں کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت کا ثبوت قرار دیا گیا ہے۔انٹیلی جنس رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ ایکشن کمیٹی کو دشمن انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جانب سے برطانیہ اور یورپ میں موجود ہمدرد عناصر کے ذریعے خاطر خواہ مالی معاونت فراہم کی گئی۔رپورٹ کے مطابق، جائیداد، ٹریول اور منی ایکسچینج کے شعبوں سے وابستہ بعض کاروباری شخصیات نے مبینہ طور پر مالی معاونت فراہم کی، جبکہ فنڈز کی ایک بڑی مقدار غیر رسمی ہنڈی اور حوالہ نظام کے ذریعے منتقل کی گئی۔اس میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ برطانیہ میں مقیم ایکشن کمیٹی کے بعض رہنماؤں کے رشتہ داروں نے آزاد جموں و کشمیر میں سرگرم کارکنوں تک رقوم پہنچانے میں کردار ادا کیا۔ رپورٹ میں ان مبینہ بیرونِ ملک نیٹ ورکس کو وسیع تر سکیورٹی خدشات سے جوڑتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دشمن انٹیلی جنس ایجنسیاں ماضی میں بھی ایسے ہی معاونتی ڈھانچوں کو جاسوسی، نگرانی، اہداف کی نشاندہی، مالی معاونت اور پاکستان کے اندر ٹارگٹ کلنگ کے لیے استعمال کرتی رہی ہیں۔اس میں خبردار کیا گیا ہے کہ ایسے مقامی نیٹ ورکس، جو سڑکوں پر احتجاج منظم کرنے، معلومات اکٹھی کرنے اور پروپیگنڈا پھیلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، دشمنانہ سرگرمیوں کیلئے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ رپورٹ میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ دشمن انٹیلی جنس ایجنسیوں کی معاونت سے اسلحہ اور خطرناک جرائم پیشہ عناصر نے ایکشن کمیٹی کے احتجاجی مظاہروں میں دراندازی کی۔تاہم اپنی سکیورٹی تشویشات کے باوجود رپورٹ میں یہ بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ ابتدا میں بڑی تعداد میں عام شہری ایکشن کمیٹی میں اس لیے شامل ہوئے تھے کہ وہ حقیقی معاشی مشکلات کے خلاف احتجاج کرنا چاہتے تھے، نہ کہ اس کے بعد کے سیاسی ایجنڈے کی حمایت کیلئے۔ رپورٹ کے مطابق، کور کمیٹی کے کئی ارکان نے راولاکوٹ دھرنے کے دوران آئینی ڈھانچے کو چیلنج کرنے اور ریاستی اداروں پر تنقید پر مبنی تقاریر کے بعد تنظیم کی بدلتی سمت سے اختلاف کرتے ہوئے عوامی طور پر خود کو اس سے الگ کر لیا۔ رپورٹ کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ حکومت کو عوام کے جائز مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش جاری رکھنا چاہئے، تاہم تشدد، بیرونی مالی معاونت سے چلائی جانے والی تحریک، ریاست مخالف پروپیگنڈا اور دشمن نیٹ ورکس سے مبینہ تعاون کو جمہوری احتجاج قرار دے کر قبول نہیں کیا جا سکتا۔ رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ ایک جانب عوامی فلاح سے متعلق وعدوں پر عملدرآمد جاری رکھا جائے، جبکہ دوسری جانب پرتشدد اور بیرونی پشت پناہی رکھنے والے عناصر کو الگ تھلگ کیا جائے اور آزاد جموں و کشمیر کے داخلی سیاسی مباحث سے فائدہ اٹھا کر کشمیر کے بارے میں پاکستان کے موقف کو کمزور کرنے کی مبینہ بیرونی کوششوں کو بے نقاب کیا جائے۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں