اسلام آباد صرف پاکستان کا دارالحکومت نہیں بلکہ ملک کا سیاسی، سفارتی اور انتظامی مرکز بھی ہے۔ مگر دلچسپ امر یہ ہے کہ جس شہر سے پورے ملک کے صوبوں کو حکمرانی کے اصول اور نظامِ حکومت دیے جاتے ہیں، خود اسلام آباد کے عوام کو ایک مکمل منتخب صوبائی حکومت حاصل نہیں۔ حالیہ دنوں میں اسلام آباد کے لیے 27 رکنی اسمبلی اور ایک منتخب چیف ایگزیکٹو قائم کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ تجویز کے مطابق اسلام آباد کے اپنے انتظامی محکمے ہوں گے اور چیف ایگزیکٹو کو میئر یا وزیراعلی کا نام دیا جا سکتا ہے۔یہ تجویز دراصل ایک بڑے سوال کی طرف اشارہ کرتی ہے:کیا اسلام آباد کو صرف وفاقی دارالحکومت رہنا چاہیے یا اسے باقاعدہ صوبے کا درجہ بھی دیا جانا چاہیے؟ میرے خیال میں اس سوال پر سنجیدہ قومی بحث ہونی چاہیے کہ اسلام آباد صوبہ کیوں بنے یا نہ بنے؟ پاکستان میں صوبائی حکومتیں عوام کو تعلیم صحت بلدیاتی سہولتوں،ترقیاتی منصوبوں اور روزمرہ انتظامی امور میں براہِ راست خدمات فراہم کرتی ہیں۔ اسلام آباد کے شہری بھی ٹیکس دیتے ہیں، ووٹ دیتے ہیں اور ریاستی اداروں کو چلاتے ہیں، مگر ان کے پاس پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے عوام کی طرح اپنی صوبائی اسمبلی اور صوبائی حکومت نہیں۔یہ صورت حال طویل عرصے سے ایک انتظامی خلا پیدا کر رہی ہے۔اسلام آباد میں سڑک، پانی، صفائی، ٹریفک، صحت، تعلیم، بلڈنگ کنٹرول، تجاوزات اور شہری منصوبہ بندی جیسے معاملات مختلف وفاقی اداروں کے درمیان تقسیم ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عام شہری کو یہ معلوم کرنا مشکل ہوتا ہے کہ اس کے مسئلے کا ذمہ دار کون سا ادارہ ہے۔اگر اسلام آباد کی اپنی منتخب حکومت ہو تو اختیارات ایک واضح انتظامی نظام کے تحت آ سکتے ہیں اور عوام براہِ راست اپنے نمائندوں سے سوال کر سکیں گے ۔صرف اسلام آباد یا راولپنڈی بھی؟ یہاں اصل بحث شروع ہوتی ہے۔اگر نیا صوبہ صرف موجودہ اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری پر مشتمل ہو تو یہ سب سے آسان اور کم پیچیدہ راستہ ہوگا۔ اسلام آباد شہر، اس کے دیہی علاقے، ترلائی، بارہ کہو، بنی گالہ، سہالہ، نیلور، ترنول اور دیگر موجودہ ICT علاقے اس کا حصہ رہیں گے۔لیکن دوسرا تصور یہ ہے کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کو ملا کر ایک نیا صوبہ بنایا جائے۔اس ماڈل کے حامی یہ دلیل دے سکتے ہیں کہ اسلام آباد اور راولپنڈی عملا ایک جڑواں شہری خطہ ہیں۔ لاکھوں افراد روزانہ ایک شہر سے دوسرے شہر سفر کرتے ہیں۔ روزگار، کاروبار، رہائش، تعلیم، صحت اور ٹرانسپورٹ کے معاملات بھی ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔اس صورت میں راولپنڈی، ٹیکسلا، واہ کینٹ، کہوٹہ، کلر سیداں اور گوجر خان جیسے علاقے بھی زیرِ بحث آ سکتے ہیں۔ مگر یہاں آئینی رکاوٹ ہیراولپنڈی اور اس کے دیگر علاقے اس وقت پنجاب کا حصہ ہیں۔ لہذا انہیں اسلام آباد کیساتھ ملانے کا مطلب صرف انتظامی نقشہ تبدیل کرنا نہیں بلکہ پنجاب کی صوبائی حدود میں تبدیلی ہوگا۔ایسی صورت میں معاملہ ایک عام قانون سے حل نہیں ہوگا بلکہ آئینی ترمیم اور متعلقہ آئینی تقاضوں کی تکمیل ضروری ہوگی۔اس لیے اسلام آباد کو صوبہ بنانے اور اسلام آباد و راولپنڈی کو ملا کر نیا صوبہ بنانے میں بہت بڑا آئینی فرق ہے۔ پہلا نسبتا آسان انتظامی و آئینی منصوبہ ہو سکتا ہے، دوسرا ایک بڑی سیاسی اور آئینی مشق۔اسلام آباد کی اپنی اسمبلی کتنی بڑی ہو؟
اگر موجودہ تجویز کے مطابق 27 رکنی اسمبلی قائم کی جاتی ہے تو یہ ایک قابلِ غور آغاز ہو سکتا ہے۔ لیکن اسمبلی کے ارکان کی تعداد صرف عددی معاملہ نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ نمائندگی کس بنیاد پر ہوگی۔ کیا تمام نشستیں براہِ راست انتخابات سے ہوں؟کیا خواتین اور اقلیتوں کے لییمخصوص نشستیں ہوں؟ کیا اسلام آباد کے دیہی علاقوں کو شہری علاقوں کے برابر نمائندگی ملے؟اور سب سے اہم سوال: کیا یہ اسمبلی قانون سازی کے مکمل اختیارات رکھے گی یا صرف بلدیاتی نوعیت کے معاملات تک محدود ہوگی؟ ان سوالات کا واضح جواب دیے بغیر نئی اسمبلی کا قیام محض نام کی تبدیلی بن سکتا ہے۔گورنر ہوگا یا میئر؟ اگر اسلام آباد کو مکمل صوبے کا درجہ دیا جاتا ہے تو پھر آئینی طور پر گورنر، وزیراعلی،کابینہ اور صوبائی اسمبلی کا مکمل نظام زیرِ بحث آئے گا۔لیکن اگر اسے صوبہ بنائے بغیر ایک بااختیار وفاقی دارالحکومت کا ماڈل بنایا جاتا ہے تو چیف ایگزیکٹو کو میئر یا کسی دوسرے عنوان سے رکھا جا سکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ موجودہ 27 رکنی اسمبلی کی تجویز کو فوری طور پر نیا صوبہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق اس تجویز کا مقصد اسلام آباد کو ایک منتخب انتظامی حکومت دینا ہے۔پولیس کس کے پاس ہوگی؟ یہ سب سے اہم سوالوں میں سے ایک ہے۔اسلام آباد پاکستان کا دارالحکومت ہے۔ صدرِ مملکت، وزیراعظم، پارلیمنٹ، سپریم کورٹ، آئنی کورٹ،سفارت خانے اور اہم قومی ادارے یہاں موجود ہیں۔ لہذا اگر اسلام آباد کو صوبائی حکومت دی جاتی ہے تو یہ طے کرنا ہوگا کہ پولیس مکمل طور پر منتخب حکومت کے ماتحت ہوگی یا وفاق کے پاس خصوصی اختیارات برقرار رہیں گے۔میری رائے میں ایک دو سطحی نظام زیادہ مناسب ہو سکتا ہے۔عام شہریوں کے لیے پولیس، ٹریفک، بلدیاتی انتظام اور روزمرہ امن و امان منتخب حکومت کے ماتحت ہوں، جبکہ پارلیمنٹ، سفارت خانوں، ایوانِ صدر، وزیراعظم ہاس اور دیگر اہم وفاقی تنصیبات کی سکیورٹی وفاق کے پاس رہے۔اس سے دارالحکومت کی قومی حیثیت بھی برقرار رہے گی اور شہری حکومت بھی بااختیار ہوگی۔اسلام آباد کا اپنا ہائی کورٹ؟ اگر اسلام آباد کو مکمل صوبہ بنایا جاتا ہے تو عدالتی ڈھانچے کا سوال بھی پیدا ہوگا۔موجودہ اسلام آباد ہائی کورٹ وفاقی دارالحکومت کے لیے کام کر رہی ہے۔ اگر اسلام آباد باقاعدہ صوبہ بنتا ہے تو اس عدالت کی آئینی حیثیت، دائر اختیار اور وفاقی عدالتوں کے ساتھ تعلق کو بھی نئے سرے سے متعین کرنا پڑے گا۔
اسی طرح ایڈووکیٹ جنرل، پراسیکیوشن، پولیس، جیل اور دیگر محکموں کا انتظام بھی تشکیل دینا ہوگا۔سب سے بڑا فائدہ: جواب دہ حکومت اسلام آباد صوبہ بنانے کا سب سے بڑا فائدہ میرے نزدیک جوابدہی ہوگا۔آج اگر اسلام آباد کا کوئی شہری سڑک، پانی، صفائی، ٹریفک، تجاوزات یا کسی بنیادی شہری سہولت کے بارے میں شکایت کرے تو اسے مختلف اداروں کے دروازے کھٹکھٹانے پڑ سکتے ہیں۔ایک منتخب حکومت میں عوام کے پاس واضح نمائندہ ہوگا۔اگر سڑک خراب ہے تو حکومت سے سوال ہوگا۔اگر پانی نہیں آ رہا تو حکومت سے سوال ہوگا۔اگر ہسپتال کی حالت خراب ہے تو حکومت سے سوال ہوگا اور اگر تعلیم کا نظام خراب ہے تو عوام اگلے انتخابات میں اپنی حکومت تبدیل کر سکیں گے۔یہی جمہوری نظام کی اصل روح ہے۔لیکن ایک خطرہ بھی ہیصوبہ بنانا ہر مسئلے کا حل نہیں۔ اگر صرف نئی اسمبلی، نیا سیکریٹریٹ، نئی وزارتیں، نئی سرکاری گاڑیاں اور نئی مراعات پیدا کی گئیں تو اسلام آباد کے عوام پر حکمرانی کا خرچ کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ سکتا ہے۔اس لیے اگر اسلام آباد کو صوبائی حیثیت دی جائے تو چھوٹی، مثر اور جدید حکومت کا تصور اپنایا جائے۔ زیادہ سے زیادہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے جائیں، ای گورننس کو لازمی بنایا جائے اور سرکاری اداروں میں غیر ضروری افسر شاہی ختم کی جائے۔میرا فارمولا۔میرے خیال میں اسلام آباد کے لیے تین مرحلوں کا ماڈل اختیار کیا جا سکتا ہے۔ پہلا مرحلہ: موجودہ ICT کو مکمل بااختیار منتخب حکومت دی جائے۔دوسرا مرحلہ: 27 رکنی اسمبلی کے ساتھ منتخب چیف ایگزیکٹو، کابینہ اور شہری محکمے قائم کیے جائیں۔ تیسرا مرحلہ: چند سال کے تجربے کے بعد عوام، پارلیمنٹ اور ماہرین کی رائے سے فیصلہ کیا جائے کہ اسلام آباد کو مکمل آئینی صوبے کا درجہ دینا مناسب ہے یا نہیں۔اگر راولپنڈی کو بھی شامل کرنا مقصود ہو تو اس کیلئے الگ سے سیاسی اور آئینی اتفاقِ رائے پیدا کیا جائے۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں