اسلام آباد پاکستان کا دارالحکومت اور بہت خوبصورت شہرہے، مگر آج کل اسے دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے دارالحکومت کم اور کنٹینروں کی بندر گاہ ہو جس شہر کی پہچان کشادہ شاہراہیں، سبزہ، خوبصورت چوک اور منظم ٹریفک ہونی چاہیے، وہاں ہر اہم چوک اور شاہراہ پر لوہے کے دیوہیکل ڈبے کھڑے دکھائی دیں تو عام شہری کے ذہن میں پہلا سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ شہر ہے یا بندرگاہ؟ فرق صرف اتنا ہے کہ بندرگاہ میں کنٹینر سامان لیکر آتے ہیں اور اسلام آباد میں بسا اوقات کنٹینر عوام کے راستے بند کرتے ہیں۔کنٹینر بذاتِ خود کوئی بری چیز نہیں۔ جدید دنیا میں تجارت، نقل و حمل، تعمیرات ، ہنگامی حالات اور بعض حفاظتی انتظامات میں کنٹینر انتہائی مفید ہیں۔ انہوں نے دنیا بھر میں سامان کی ترسیل کو آسان، محفوظ اور منظم بنایا ہے لیکن ہر مفید چیز کا ہر جگہ اور ہر وقت استعمال مفید نہیں ہوتا۔ دوا ضرورت کے وقت شفا دیتی ہے، ضرورت سے زیادہ ہو تو نقصان بھی پہنچا سکتی ہے ۔ کنٹینر بھی کچھ ایسا ہی ہے؛ مناسب جگہ پر حفاظتی انتظام، مگر ہر چوک پر کھڑا ہو تو شہری زندگی کیلئے رکاوٹ اور اذیت!اسلام آباد کے شہریوں کا اصل سوال کنٹینر کی ایجاد پر نہیں بلکہ اس کے استعمال پر ہے۔ اگر کسی ممکنہ احتجاج کے پیش نظر شہر کے راستے پہلے ہی بند کر دیے جائیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ احتجاج سے پہلے ہی شہریوں کو سزا کیوں مل رہی ہے؟ ابھی مظاہرین سڑک پر نہیں آئے، ابھی کوئی قافلہ نہیں پہنچا، ابھی کسی چوک پر ہجوم نہیں، لیکن سڑکوں پر کنٹینر پہلے سے موجود ہیں۔ گویا اسلام آباد میں اب شاید موسم کی پیش گوئی سے زیادہ احتجاج کی پیش گوئی اہم ہو گئی ہے؛ بادل بعد میں آتے ہیں، چھتری پہلے کھل جاتی ہے۔عدالتوں نے متعدد مواقع پر شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت، سڑکوں کی بندش اور احتجاج کے دوران عوام کو درپیش مشکلات کے معاملے کو اہمیت دی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی سڑکیں بند کرنے اور شہریوں کی آمد و رفت کوازادانہ بنانے کے متعلق فیسلہ بھی دیا ہے۔ سوال بہت سادہ ہے: اگر عدالت یہ اصول تسلیم کرتی ہے کہ احتجاج کے نام پر شہریوں کے راستے مکمل طور پر بند نہیں کیے جا سکتے تو کیا یہی اصول انتظامیہ پر بھی لاگو نہیں ہونا چاہیے؟ احتجاج کرنے والے اگر سڑک بند کریں تو ان سے سوال ہونا چاہیے کہ شہریوں کا راستہ کیوں روکا گیا؟ لیکن اگر انتظامیہ سڑک بند کرے کیاتو انتظامیہ سے یہ سوال ہونا چاہیے پوچھنا کہ شہریوں کا راستہ کیوں روکا گیا؟آخر یہ کنٹینر آتے کہاں سے ہیں؟ کیا یہ حکومت کی ملکیت ہیں؟ اگر سرکاری ملکیت ہیں تو ان کی نقل و حرکت، تعیناتی، حفاظت اور ممکنہ نقصان کا حساب کون رکھتا ہے؟ اگر یہ نجی ملکیت کے ہیں تو انہیں کس سے کرائے پر لیا جاتا ہے؟ فی کنٹینر کتنا کرایہ ادا کیا جاتا ہے؟ کتنے کنٹینر منگوائے گئے؟ کتنے دن کے لیے؟ ادائیگی کس مد سے ہوئی؟ اور اگر احتجاج ہوا ہی نہیں تو پہلے سے کھڑے کنٹینروں کی لاگت کون برداشت کرے گا؟یہ سوالات کسی سیاسی مخالفت کیلئے نہیں بلکہ سرکاری وسائل کی شفافیت کیلئے اٹھائے گئے ہیں۔ عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ ان کے ٹیکس سے چلنے والی حکومت ایک انتظامی اقدام پر کتنا خرچ کر رہی ہے۔ اگر کنٹینر سرکاری ہیں تو وہ عوامی ملکیت ہیںاور اگر نجی ہیں تو ان کا کرایہ بھی بالآخر کسی نہ کسی سرکاری خزانے سے ہی ادا ہوتا ہے۔ یوں کنٹینر صرف سڑک پر نہیں کھڑا ہوتا، اس کے ساتھ ایک مالی سوال بھی کھڑا ہو جاتا ہے پاکستان تو ایک غریب ملک کہاں سے آتے ہیں اتنے کنٹینر جو سڑکوں پر مہینوں کھڑے رہتے ہیں؟اور اگر سرکاری کنٹینر بار بار سڑکوں، چوکوں اور شاہراہوں پر کھڑے کیے جائیں تو ان کے نقصان کا سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے۔ سرکاری املاک عوام کی ملکیت ہوتی ہیں۔ان کا نقصان کسی وزیر، افسر یا سیاسی جماعت کی جیب سے نہیں بلکہ بالآخر عوام کے وسائل سے پورا ہوتا ہے۔اسلام آباد ایک خوبسصورت شہر ہے کنٹینر نہ صرف خوبصورتی متاثر کرتے ہیں بلکہ یہ کنٹینر سڑک کے کنارے کھڑے ہو تو راستہ تنگ ہوتا ہے اور ٹریفک کی روانی متاثر ہوتی ہے، گاڑیوں کا دباؤ متبادل راستوں پر منتقل ہوتا ہے، سفر کا وقت بڑھتا ہے اور حادثات کا خطرہ بھی پیدا ہو سکتا ہے اور مریض، طلبہ، ملازمین، مزدور، دکاندار، بزرگ اور عام شہری سب اس سے متاثر ہوتے ہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ حکومت کو امن و امان برقرار رکھنے کا حق اور ذمہ داری حاصل ہے۔ اگر کسی احتجاج سے تشدد، توڑ پھوڑ یا حساس تنصیبات کو خطرہ ہو تو انتظامیہ کو حفاظتی اقدامات کرنا پڑتے ہیںلیکن سوال یہ ہے کہ حفاظتی انتظامات ضرورت ، تناسب اور قانون کے مطابق ہیں یا نہیں؟ ہر ممکنہ خطرے کا جواب پورا شہر بند کرنا نہیں ہو سکتا ۔ ریاستی اختیار کا حسن اور حکمت اس وقت سامنے آتا ہے جب وہ خطرے سے بھی نمٹے اور شہریوں کی معمول کی زندگی بھی جاری رکھے۔ایک عام آدمی ”سازش” جیسے الفاظ استعمال کرتا سنا گیا ہے۔ کوئی کہ شاید کنٹینروں کی یہ پیشگی تعیناتی کسی ممکنہ احتجاج کو مزید نمایاں اور مؤثر اور کامیاب بنانے کی سازش ہو سکتی ہے۔ کوئی دوسرا شخص یہ سوال اٹھا سکتا ہے کہ کہیں حکومت اور احتجاج کرنے والوں کے درمیان کسی قسم کی ملی بھگت تو نہیں اور یہ یہ سوال ضرور پوچھا جا سکتا ہے کہ ایسے انتظامات کا سب سے زیادہ نقصان کس کو ہو رہا ہے؟اگر احتجاج کرنیوالے سڑک بند کریں تو عوام پریشان اور اگر حکومت سڑک بند کرے تو بھی عوام کو تکلیف۔ ایک عام شہری جسے نہ دھرنے میں دلچسپی ہے، نہ سیاسی تصادم میں، نہ کنٹینر میں ۔ اسے صرف دفتر پہنچنا ہے، بچے کو اسکول سے لینا ہے، مریض کو اسپتال پہنچانا ہے یا اپنی دکان کھولنی ہے آخر اسے تکلیف اور اذیت کیوں دی جاتی ہے؟۔عوام پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری، کاروباری مشکلات اور روزمرہ اخراجات کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ ایسے میں اگر سفر بھی غیر یقینی بنا دیا جائے تو شہری کیلئے زندگی مزید مشکل ہو جاتی ہے۔ حکومت اگر عوام کو سہولت دینے کیلئے ہوتی ہے تو اسے یہ سوچنا ہوگا کہ انتظامی فیصلے کا اصل پیمانہ سرکاری فائل نہیں بلکہ عام شہری کی زندگی ہے۔اور اگر ہر احتجاج کے امکان پر اسلام آباد کے ہر بڑے چوک کو کنٹینر سے بند کرنے کا فارمولہ معمول بن گیا تو پھر سوال یہ ہے کہ اس کی اگلی منزل کہاں ہے؟ کیا یہی ماڈل لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ تک جائے گا؟ کیا پھر ضلعی ہیڈکوارٹرز، تحصیلوں اور چھوٹے شہروں کے چوک بھی کنٹینروں کے حوالے ہوں گے؟ اگر ایسا ہوا تو شاید ایک دن پاکستان میں ”روڈ میپ” سے زیادہ اہم ”کنٹینر میپ” ہو جائے گا۔طنز اپنی جگہ، معاملہ سنجیدہ ہے۔ احتجاج جمہوری معاشرے کا حصہ ہے اور احتجاج کرنے والوں کو بھی قانون، شہریوں کے حقوق اور ٹریفک کی روانی کا خیال رکھنا چاہیے۔ اسی طرح حکومت کو بھی قانون، عدالتی احکامات اور شہریوں کے بنیادی حقوق کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔ اگر ایک فریق کیلئے سڑک بند کرنا غلط ہے تو دوسرے فریق کیلئے بلاضرورت سڑک بند کرنا بھی سوال سے بالاتر نہیں ہو سکتا۔ریاست کی طاقت کا اصل امتحان یہ نہیں کہ وہ کتنے کنٹینر کھڑے کر سکتی ہے۔ اصل امتحان یہ ہے کہ وہ کشیدہ سیاسی ماحول میں بھی شہری کی زندگی کو معمول پر کیسے رکھ سکتی ہے۔ مضبوط انتظامیہ وہ نہیں جو ہر راستے پر رکاوٹ کھڑی کر دے؛ مضبوط انتظامیہ وہ ہے جو خطرے سے نمٹے، مگر عام آدمی کیلئے راستہ بھی کھلا رکھے ۔ اس لیے اسلام آباد کے ہر چوک پر کھڑے کنٹینر سے ایک ہی سوال بنتا ہے: آپ یہاں کس لیے ہیں؟ اگر جواب امن و امان ہے تو امن ایسا ہونا چاہیے جس میں عوام محفوظ بھی ہوں اور متحرک بھی۔ اگر جواب احتجاج روکنا ہے تو احتجاج سے پہلے عوام کو کیوں روکا جا رہا ہے؟ اگر جواب حفاظتی انتظام ہے تو اس کی قانونی بنیاد، مدت اور ضرورت کیا ہے؟ اور اگر یہ سب عوام کے پیسے سے ہو رہا ہے تو عوام کو اس کا حساب کب ملے گا ؟ آخرکار کنٹینر لوہے کا ایک ڈبہ ہے، اسے سیاست کا مستقل استعارہ بنانے کی ضرورت نہیں۔ احتجاج کرنیوالوں کو بھی راستہ بند کرنے سے گریز کرنا چاہیے اور حکومت کو بھی ہر سیاسی خدشے کا جواب سڑک پر کنٹینر رکھ کر نہیں دینا چاہیے ۔ اسلام آباد کو دارالحکومت رہنے دیا جائے، کنٹینر سٹی نہ بنایا جائے اور عدالتی فیصلے کا احترام بھی لازم۔ عوام کو پہلے ہی بہت سی رکاوٹیں درپیش ہیں؛ کم از کم سڑکوں پر کھڑی رکاوٹیں تو کم کیجیے۔





تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں