اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسداد منشیات و جرائم کی جاری کردہ رپورٹ میںکہا گیا افغانستان میں 10 ہزار 200 ہیکڑز پر افیون کی کاشت کی گئی۔ 2024 میں افیون کی کاشت میں پچھلے سال کی نسبت 19 فیصد اضافہ ہوا۔ 2025 میں بھی بڑی تعداد پر افیون کاشت کی گئی۔ زابل، کنڑ اور تخار میں افیون کی کاشت میں اضافہ ہوا ہے۔ افغانستان میں افیون اسٹاک 2026 تک کی عالمی طلب پوری کرنے کیلئے کافی ہے۔ افغانستان میں 2025 میں افیون کی پیداوار 296 ٹن رہی۔ ادارہ اقوام متحدہ برائے انسداد منشیات و جرائم کے مطابق پلانٹ بیسڈ پوست کی بجائے اب سنتھیٹک منشیات منافع بخش کاروبار بن چکی۔ آئس کی پیداوار افغانستان میں تیزی سے بڑھ رہی ہے، جرائم پیشہ گروہ پیداوار اور اسمگلنگ میں آسانی کی وجہ سے آئس کو ترجیح دے رہے ہیں۔ افغانستان کا شمار افیون پیدا کرنیوالے دنیا تین بڑے ممالک میں ہوتا ہے۔افغانستان سے جڑے منشیات کی سمگلنگ اور جرائم پیشہ نیٹ ورکس طویل عرصے سے علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ رہے ہیں۔ یہ نیٹ ورکس افیون، ہیروئن اورسنتھیٹک منشیات (جیسے کہ میتھمفیٹامین یا آئس) کی پیداوار اور بین الاقوامی سمگلنگ میں ملوث ہیں۔ افغانستان دنیا میں پوست اور ہیروئن کی بڑی پیداوار کا مرکز رہا ہے، جہاں سے منشیات کے سمگلنگ کے خفیہ راستے وسطی ایشیا، مشرق وسطیٰ، یورپ اور جنوبی ایشیا تک جاتے ہیں۔ پڑوسی ممالک خصوصاً پاکستان اور ایران کے راستے منشیات کی ترسیل ہوتی ہے، جس سے نہ صرف ان ممالک میں منشیات کی لت بڑھتی ہے بلکہ مسلح عسکریت پسندی اور کالعدم تنظیموں کی مالی معاونت بھی ہوتی ہے۔ یہ مجرمانہ نیٹ ورکس منی لانڈرنگ، غیر قانونی اسلحے کی سمگلنگ، اور انسانی سمگلنگ کے مکروہ دھندے میں بھی باہم پیوست ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق منشیات کے سمگلر اکثر غریب کسانوں اور کمزور طبقات کو استعمال کرتے ہیں۔ پاکستان میں اے این ایف اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے سرحدوں اور ملک کے اندر ان بین الاقوامی و مقامی سمگلنگ نیٹ ورکس کیخلاف مسلسل کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔مکروہ جرائم اور مجرمانہ نیٹ ورکس میں ملوث افغان باشندوں نے میزبان ممالک کے امن وامان کو بھی خطرے میں ڈال دیا۔ افغان جریدے افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق افغان شہری تاجکستان میں منشیات کی اسمگلنگ، امن دشمنی، جنسی جرائم اور جوئے کے اڈوں جیسے سنگین جرائم میں ملوث ہیں۔ سنگین جرائم اور ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث کئی افغان شہریوں کو گرفتار کر کے ملک بدر کر دیا گیا، تاجکستان میں منشیات سمگلنگ کے 670 اور امن دشمنی میں 32 افغان شہری ملوث پائے گئے ہیں۔ پولینڈ نے بھی رواں ماہ کے دوران درجن سے زائد غیر قانونی افغان باشندوں کو گرفتار کرکے جیل منتقل کردیا ہے۔ ماہرین کے مطابق متعدد ممالک کی جانب سے افغان شہریوں پر ویزہ پابندیاں اور ملک بدری کے اقدامات ان کی مبینہ مجرمانہ اور جرائم پیشہ سرگرمیوں کا نتیجہ ہیں۔ افغان طالبان حکومت کے زیرِ انتظام افغانستان میں منشیات کی سمگلنگ اور دہشت گرد عناصر کی سرپرستی کے باعث علاقائی امن و استحکام شدید خطرات سے دوچار ہو گیا ہے۔ تاجک سکیورٹی فورسز کی جانب سے جاری کردہ حالیہ تفصیلات کے مطابق، افغانستان کی سرحدیں منشیات کی ترسیل کے لیے خطرناک حد تک فعال ہو چکی ہیں۔افغانستان انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق، تاجکستان کی سرحد سے متصل افغان علاقے منشیات سمگلنگ کیلئے مرکزی راستوں کی حیثیت اختیار کر گئے ہیں۔ تاجک سکیورٹی فورسز نے رواں سال کے دوران سرحد پر ایک بڑا کریک ڈاؤن کیا، جس میں 17 افغان سمگلرز کو ہلاک جبکہ 18 کو گرفتار کیا گیا۔ گرفتار سمگلرز کے قبضے سے 601 کلوگرام سے زائد منشیات برآمد کی گئی ہیں۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ رواں سال کے پہلے چھ ماہ میں مجموعی طور پر ایک ٹن اور 513 کلوگرام منشیات پکڑی گئی ہیں۔ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 2025 میں افغان سرحد پر ضبط شدہ منشیات کی مقدار 2 ہزار 742 کلوگرام تک پہنچ گئی ہے، جو کہ 2024 کے مقابلے میں 50 فیصد زائد ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان کے اندر منشیات اور مصنوعی منشیات کی تیاری میں ملوث لیبارٹریاں تاحال مکمل طور پر فعال ہیں۔عالمی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ افغان رجیم نے ملک کو ایک “نارکو ٹیرر” ریاست میں تبدیل کر دیا ہے۔ اس معاشی ڈھانچے کا دارومدار منشیات کی غیر قانونی آمدنی پر ہے، جس سے حاصل ہونے والا پیسہ جدید ہتھیاروں کی خریداری میں خرچ کیا جاتا ہے۔ ان ہتھیاروں کا استعمال ہمسایہ ممالک میں دہشت گردانہ کارروائیوں کیلئے کیا جا رہا ہے، جو پورے خطے کیلئے ایک بڑا سیکورٹی چیلنج بن چکا ہے۔طالبان کے زیر اقتدار افغان سرزمین منشیات،سمگلنگ اور دہشت گردی کا گڑھ بن گئی ہے۔ افیون کی کاشت کیلئے مشہور افغانستان کریسٹل میتھ اور کیمیائی منشیات کا عالمی مرکز بن چکا ہے۔افغانستان میں کیمیائی منشیات کی پیداوار اور سمگلنگ میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے۔ افغانستان مصنوعی منشیات، خاص طور پر کرسٹل میتھ(آئس) پیدا کرنے کا نیا مرکز بن گیا ہے۔افغانستان میں تیزی سے افیون کی زیر کاشت زمین کی جگہ منشیات بنانے والی کیمیائی لیبارٹریاں لے رہی ہیں۔2017 سے 2021 تک مصنوعی منشیات کی ضبط شدہ مقدار 30 ٹن تک پہنچ گئی ہے۔ مغربی افغانستان میں مقامی جھاڑی ”ایفیڈرا” میتھ پیدا کرنے کا خام مواد فراہم کرتی ہے ، ہلمند، فرح، ہیرات اور نیمروز میں منشیات کی سینکڑوں چھوٹی منشیات لیبارٹریاں فعال ہیں ، افغانستان میتھ ڈرگز کا مرکز بننے کے بعد غیر قانونی منشیات کی ترسیل کا بھی مرکز بن گیا ہے ۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں منشیات کے کاروبار کو اب چھپایا نہیں جا سکتا ، خطہ بالخصوص پاکستان افغانستان سے منشیات سمگلنگ جیسے خطرے سے دوچار ہے ، پاکستانی حکومت نے منشیات کے تدارک اور انسدادِ اسمگلنگ کیلئے اہم اور مؤثر اقدامات کیے ہیں۔







تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں