بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi °C
Wednesday, 15 July 2026 | پاکستان: 2 صفر 1448

افغان سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال ہو رہی ہے

Wednesday, 15 July, 2026

پاکستان کے خلاف بھارت اور افغان حکومت کا گٹھ جوڑ خطے میں پاکستان کے لیے ایک سٹریٹیجک اور سلامتی کا چیلنج ہے۔ اس کے تحت افغان سرزمین کو پاکستان مخالف دہشت گرد تنظیموں کے لیے استعمال ہونے کی سہولت فراہم کرنے اور پاکستان کے خلاف ہائبرڈ وار چلانے کی اطلاعات سامنے آتی رہتی ہیں۔ پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کے مطابق، افغان عبوری حکومت اور انٹیلی جنس کی مبینہ پشت پناہی کے ساتھ بھارتی ایجنسیاں پاکستان میں تخریبی کارروائیوں اور دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو فنڈنگ فراہم کر رہی ہیں۔ اس گٹھ جوڑ کا بنیادی مقصد پاکستان کو اندرونی طور پر غیر مستحکم کرنا ہے۔گزشتہ دنوں عالمی سطح پر افغانستان کا کردار مختلف دہشتگردانہ واقعات میں واضح طور پر سامنے آیاجن میں پاکستان میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات، امریکہ میں فائرنگ اور تاجکستان میں چینی ملازمین پر ڈرون حملہ شامل ہیں۔پاکستان متعدد بار یہ مؤقف اختیار کر چکا ہے کہ افغانستان دہشتگرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے۔یورپی یونین، ڈنمارک اور کئی دیگر ممالک بھی افغانستان میں موجود شدت پسند گروہوں کو خطے اور دنیا کے امن کے لیے خطرہ قرار دے چکے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی تازہ رپورٹ کے مطابق افغان طالبان کی حکومت دہشت گرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہی ہے جو علاقائی سلامتی کے لیے شدید تشویش کا باعث ہے۔اس کے باوجود بھارت افغانستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو وسعت دے رہا ہے۔بھارت اور افغانستان کے درمیان بڑھتے ہوئے روابط نے خطے میں سکیورٹی کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے جبکہ عالمی سطح پر ہونے والے حالیہ دہشت گردی کے واقعات نے اس گٹھ جوڑ کے تشویشناک اثرات کو بے نقاب کر دیا ہے۔ بھارت کی سرپرستی میں افغان سرزمین سے مختلف ممالک میں دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے خدشات عالمی امن کیلئے بڑے خطرے کی صورت اختیار کر رہے ہیں ۔ اکتوبر 2025 میں افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کے دورہ بھارت کے دوران متعدد معاہدے طے پائے جبکہ اسی وقت پاکستان کے خلاف افغان سرزمین سے بلااشتعال کارروائی بھی سامنے آئی۔دونوں ممالک اب ایک دوسرے کے سفارتخانوں میں تجارتی نمائندے بھی تعینات کریں گے۔تجزیاتی حلقوں کے مطابق بھارت افغانستان کو خیرسگالی کی بنیاد پر نہیں بلکہ پاکستان کے خلاف پراکسی کے طور پر استعمال کرنے کی حکمت عملی پر گامزن ہے۔ افغانستان اور بھارت کے بڑھتے ہوئے تعلقات سے جنوبی ایشیا کی سیاسی اور سکیورٹی صورت حال مزید غیر مستحکم ہو رہی ہے، جبکہ عالمی سطح پر دہشتگرد گروہوں کی موجودگی کے حوالے سے بڑھتی تشویش میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت۔افغان گٹھ جوڑ اور شدت پسندانہ پالیسیوں کے امتزاج نے خطے کے امن اور عالمی سلامتی کیلئے نئے اور شدید خطرات پیدا کر دیے ہیں۔ بلوچستان کے وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبے میں ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں میں افغان خفیہ ایجنسی نیشنل ڈائریکٹریٹ آف سیکیورٹی (این ڈی ایس) ملوث ہے، ان کے چھ ایجنٹوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جنہوں نے40معصوم بیگناہ شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ اور دہشتگردی میں ملوث ہونے کا اعتراف کر لیا ہے،پکڑے گئے دہشت گرد مْلک کو نقصان پہنچانے آئے تھے اور وہ ایف سی کے اہلکاروں پر حملوں میں بھی ملوث ہیں، ممکن ہے اْن کے ساتھ اور لوگ بھی ہوں۔ افغان انٹیلی جنس بھارتی انٹیلی جنس سے مل کر بلوچستان کے حالات خراب کر رہی ہے۔ دہشتگرد مہاجرین کا روپ دھار کر کارروائیاں کر رہے ہیں۔اِس سے پہلے بھی افغانستان کے جو خفیہ ایجنٹ بلوچستان سے پکڑے گئے ہیں انہوں نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا ہے کہ وہ بھارتی ایجنٹوں کے ساتھ مل کر دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے تھے۔ بھارتی ایجنٹ کلبھوشن یادیو نے بھی اِس سے ملتی جلتی باتیں دوران تفتیش بتائی ہیں اس کا مطلب ہے کہ دونوں حکومتیں ریاستی سطح پر پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہی ہیں۔ گزشتہ ڈیڑھ دو برسوں میں دہشت گردی کی جو کارروائیاں صوبہ خیبرپختونخوا میں ہوئی ہیں اْن میں یہ ثابت ہو چکا ہے کہ حملے کیلئے لوگ افغانستان سے آئے، وہیں سے بذریعہ ٹیلی فون انہیں کنٹرول کیا جا رہا تھا اور ہدایات دی جا رہی تھیں اِس کے ثبوت بھی افغان حکومت کو فراہم کئے گئے تھے، لیکن جب افغانستان کی خفیہ ایجنسی ہی دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہو گی تو حکومت ان غیر ریاستی ایکٹرز کیخلاف کیوں کارروائی کریگی جو بالواسطہ طور پر افغان حکومت کے مقاصد ہی پورے کر رہے ہیں۔بھارت اور افغانستان کے گٹھ جوڑ کے تازہ شواہد سامنے آنے کے بعد اب یہ ضروری ہو گیا ہے کہ پاکستان افغانستان کے بارے میں اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرے اور جہاں کہیں انہیں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے فوری طور پر ایسا کِیا جائے۔ یہ عجیب بات ہے کہ پاکستان تو افغانستان میں قیام امن کیلئے بھاگ دوڑ کر رہا ہے۔ اپنی توانائیاں اور وسائل اِس مقصد کے لئے خرچ کر رہا ہے، اپنے اخراجات سے افغانستان میں ترقیاتی منصوبے بھی مکمل کر رہا ہے، لیکن جواب میں افغانستان کی حکومت پاکستان کو مسلسل مطعون کر رہی ہے۔ زبانی کلامی طعن و تشنیع کا سلسلہ تو جاری رہتا ہی ہے اب اپنی خفیہ ایجنسیوں کے ذریعے اگر پاکستان کے سیکیورٹی اہلکاروں پر حملے کئے جا رہے ہیں اور دہشت گردی کی کارروائیاں کرائی جا رہی ہیں تو کیا اب وقت نہیں آ گیا کہ افغانستان کو اْسی کی زبان میں جواب دیا جائے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *