کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی زندگی اپنے اندر محبت، وفاداری، انسان دوستی اور رشتوں کی حرارت کی ایسی مثالیں سموئے ہوتی ہے کہ ان کے خاندان میں پیش آنے والا ہر دکھ صرف ایک گھرانے کا غم نہیں رہتا بلکہ ان تمام لوگوں کے دلوں میں بھی اتر جاتا ہے جو ان کے اخلاص، کردار اور محبت سے کبھی نہ کبھی فیض یاب ہوئے ہوں۔ تین جولائی 2026 کی صبح سنیل دت چیکر جو کہ روشن لال چیکر کے سب سے چھوٹے بھائی تھے، بھارت کے شہر ریواڑی میں تقریبا ستر برس کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ موت ایک اٹل حقیقت ہے لیکن بعض اموات انسان کے دل پر اس لیے زیادہ اثر چھوڑتی ہیں کہ ان کے ساتھ وابستہ خاندان محبت، شرافت اور انسانی قدروں کی ایسی روشن مثال ہوتا ہے جس کا احترام سرحدوں، مذاہب اور نسلوں سے کہیں بلند ہوتا ہے۔
زندگی کا سب سے بڑا سچ یہی ہے کہ دنیا میں آنے والا ہر انسان ایک دن اپنے خالق کے حضور حاضر ہوتا ہے۔ انسان خواہ کسی بھی ملک میں رہتا ہو، کسی بھی زبان میں گفتگو کرتا ہو یا کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو، جدائی کا دکھ ہر دل کو یکساں طور پر زخمی کرتا ہے۔ ایک بھائی کی جدائی دوسرے بھائی کے لیے ہمیشہ ناقابلِ بیان صدمہ ہوتی ہے، خاص طور پر اس عمر میں جب زندگی کے بیشتر ساتھی، بزرگ اور عزیز ایک ایک کرکے رخصت ہو رہے ہوں۔ ایسے میں ایک چھوٹے بھائی کا دنیا سے چلے جانا دل کے اس حصے کو ویران کر دیتا ہے جسے کوئی دوسرا بھر نہیں سکتا۔
روشن لال چیکر کا نام میانوالی کے لوگوں کے لیے کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ وہ ان ہزاروں خاندانوں میں شامل تھے جنہوں نے بٹوارے کے وقت اپنی جنم بھومی چھوڑنے پر مجبور ہو کر بھارت کی طرف ہجرت کی لیکن انہوں نے اپنی مٹی کو کبھی اپنے دل سے جدا نہیں ہونے دیا۔ وقت گزرتا گیا، نسلیں بدلتی گئیں، شہروں کے نقشے بدل گئے، سرحدیں سخت ہوتی گئیں مگر ان کے دل میں میانوالی کی محبت ویسے ہی زندہ رہی جیسے بچپن کی کوئی حسین یاد کبھی پرانی نہیں ہوتی۔ہجرت صرف گھر چھوڑنے کا نام نہیں بلکہ اپنے بچپن کی گلیاں، اپنے دوست، اپنے ہمسائے، اپنے درخت، اپنے سکول، اپنے بازار اور اپنی یادوں کی پوری دنیا پیچھے چھوڑنے کا نام ہے۔ بٹوارے کے بعد لاکھوں لوگ دونوں طرف منتقل ہوئے۔ بہت سے لوگ نئے حالات میں اس قدر مصروف ہوگئے کہ ماضی صرف ایک داستان بن کر رہ گیا لیکن کچھ لوگ ایسے بھی تھے جنہوں نے اپنی جنم بھومی کو دل کی دھڑکنوں میں محفوظ رکھا، روشن لال چیکر انہی لوگوں میں شامل ہیں۔
تقریبا پینتالیس برس بعد جب انہوں نے پہلی مرتبہ میانوالی کی سرزمین پر قدم رکھا تو یہ صرف ایک سفر نہیں تھا بلکہ جذبات، یادوں اور محبتوں کی واپسی تھی۔ ان کی آنکھوں میں برسوں کی جدائی کا درد بھی تھا اور اپنی مٹی کو دوبارہ دیکھنے کی خوشی بھی۔ انہوں نے صرف ایک مرتبہ آ کر اپنے فرض کی ادائیگی نہیں سمجھی بلکہ بار بار میانوالی آتے رہے۔ فروری 2025 تک وہ سترہ مرتبہ اپنے آبائی شہر تشریف لا چکے تھے۔ یہ تعداد محض ایک عدد نہیں بلکہ اپنی سرزمین سے عشق کی ایک زندہ مثال ہے۔آج بانوے برس کی عمر میں بھی ان کا اپنے وطن سے والہانہ تعلق اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ محبت کبھی بوڑھی نہیں ہوتی۔ انسان کا جسم کمزور ہوسکتا ہے، قدم لڑکھڑا سکتے ہیں مگر اگر دل میں اپنی مٹی کی محبت زندہ ہو تو عمر کی تمام حدیں بے معنی ہو جاتی ہیں۔ نئی دہلی میں اپنی رہائشی بستی کا نام میانوالی نگر رکھنا بھی اسی لازوال محبت کا ایک حسین اظہار ہے۔ یہ نام صرف ایک کالونی کی شناخت نہیں بلکہ اس بات کا اعلان ہے کہ فاصلے انسان کو اس کی جڑوں سے جدا نہیں کرسکتے۔
روشن لال چیکر کی گفتگو، عاجزی، شائستگی اور خلوص بے مثال ہے۔ان کے لہجے میں میانوالی کی مٹی کی خوشبو محسوس ہوتی ہے۔ وہ اپنے شہر کا ذکر ایسے کرتے تھے جیسے کوئی شخص اپنے محبوب کا ذکر کرتا ہے۔ ان کی آنکھوں میں اپنے بچپن کی یادیں روشن تھیں اور ان کے دل میں اپنے پرانے دوستوں اور ہم وطنوں کے لیے بے مثال محبت موجود تھی۔ ان کی شخصیت نے یہ احساس مضبوط کیا کہ اصل عظمت انسانیت میں ہوتی ہے، نفرت میں نہیں۔
سرحدیں سیاسی فیصلوں سے بنتی ہیں لیکن محبت پر کوئی سرحد قائم نہیں کی جاسکتی۔ زبان، ثقافت، تہذیب اور مشترکہ یادیں وہ رشتے ہیں جو نسلوں تک قائم رہتے ہیں۔ میانوالی کے لوگوں نے ہمیشہ روشن لال چیکر کو اپنا سمجھا اور انہوں نے بھی کبھی اپنے آپ کو اس شہر سے الگ تصور نہیں کیا۔ یہی وہ جذبہ ہے جو انسانیت کو زندہ رکھتا ہے۔ سنیل دت چیکر کا انتقال یقینا پورے خاندان کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ ایک ایسا نقصان جس کی تلافی ممکن نہیں۔ زندگی میں بعض خلا ہمیشہ کے لیے رہ جاتے ہیں۔ وقت زخموں کی شدت کو کم ضرور کر دیتا ہے لیکن یادوں کو کبھی ختم نہیں کرسکتا۔ مرحوم اپنے خاندان کے لیے محبت، شفقت اور وابستگی کی ایک یادگار تھے۔ ان کے جانے سے جو خلا پیدا ہوا ہے، وہ ہمیشہ محسوس کیا جاتا رہے گا۔
ضلع میانوالی کے باشندوں کا اس غم میں شریک ہونا اس بات کی علامت ہے کہ محبت کا رشتہ صرف خون کے رشتوں تک محدود نہیں رہتا۔ جب کوئی انسان اپنی محبت، خلوص اور کردار سے دلوں میں جگہ بنا لیتا ہے تو اس کے دکھ اور خوشیاں پوری برادری کی مشترکہ کیفیت بن جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج میانوالی کے بے شمار لوگ روشن لال چیکر کے غم کو اپنا غم سمجھتے ہیں۔ہماری تہذیب کی سب سے بڑی خوبصورتی یہی ہے کہ ہم غم میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ تعزیت صرف رسمی الفاظ ادا کرنے کا نام نہیں بلکہ کسی کے دکھ کو محسوس کرنے، اس کے آنسوں کی قدر کرنے اور اسے یہ یقین دلانے کا نام ہے کہ وہ تنہا نہیں ہے۔ یہی وہ اقدار ہیں جو معاشروں کو مضبوط بناتی ہیں۔ روشن لال چیکر کی شخصیت اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ محبت مذہب نہیں دیکھتی، انسانیت کی کوئی سرحد نہیں ہوتی اور اپنے وطن سے عشق کبھی ختم نہیں ہوتا۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی میں نفرت کے بجائے محبت کو ترجیح دی، فاصلے کے بجائے تعلق کو مضبوط کیا اور ماضی کو صرف یاد نہیں رکھا بلکہ اسے زندہ بھی رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج ان کے خاندان کا دکھ میانوالی کے لوگوں کے دلوں تک پہنچا ہے۔
ضلع میانوالی کے تمام باشندے اس غم کی گھڑی میں روشن لال چیکر اور ان کے پورے خاندان کے ساتھ دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔ مرحوم کی یاد ہمیشہ ان کے اہلِ خانہ کے دلوں میں زندہ رہے گی اور روشن لال چیکر کی اپنی جنم بھومی سے بے مثال محبت آنے والی نسلوں کے لیے ہمیشہ ایک روشن مثال بنی رہے گی۔ یہی محبت دراصل وہ سرمایہ ہے جو انسان کے دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتا ہے اور یہی سرمایہ کسی بھی انسان کی سب سے بڑی کامیابی ہوتا ہے۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں