تئیس برس قبل امریکہ عراق میں داخل ہوا تھا تو دنیا کو بتایا گیا کہ صدام حسین کی حکومت کا خاتمہ، مبینہ تباہ کن ہتھیاروں کا خطرہ ختم کرنا اور عراق میں ایک نیا سیاسی نظام قائم کرنا اس فوجی کارروائی کے بنیادی مقاصد میں شامل تھا۔کیا ہ مقاصد پورے ہوئے جب 30 ستمبر 2026 عراق میں امریکی افواج کا انخلا مکمل ہوا؟ تو تاریخ کا ایک طویل باب بند ہوا مگر اس سوال کا جواب باقی ہے کہ امریکہ نے اس جنگ میں کیا کھویا اور کیا پاپایا؟۔ بغداد میں داخل ہونیوالے امریکی ٹینکوں سے لیکر آخری امریکی فوجی کے انخلا تک عراق نے ایک ایسا سفر دیکھا جس میں حکومتیں بدلیں، ریاستی ادارے کمزور ہوئے، فرقہ وارانہ تشدد نے جنم لیا، القاعدہ اور پھر داعش نے سر اٹھایا، ایران کا اثر بڑھا اور امریکہ نے ایک جنگ کے بعد دوسری مرتبہ عراق میں فوجی مداخلت کی۔ آج امریکی فوجی عراق سے جاچکے ہیں، مگر 2003 کی جنگ کے اثرات عراق، مشرق وسطیٰ اور عالمی سیاست میں اب بھی موجود ہیں۔ عراق جنگ کی اصل کہانی سمجھنے کیلئے ہمیں مارچ 2003 میں واپس جانا ہوگا ۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے صدام حسین کی حکومت کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی اور چند ہی ہفتوں میں بغداد پر قبضہ کرلیا۔ صدام حسین کی حکومت ختم ہوئی، مگر اس کے ساتھ ہی وہ سوال شروع ہوا جس کا جواب آج تک پوری طرح نہیں مل سکا کہ ایک ریاست کو طاقت کے ذریعے تبدیل کرنے کے بعد اسے مستحکم کیسے رکھا جائے۔ امریکی فوج نے عراق میں قدم تو رکھ دیا، مگر جلد ہی اسے مزاحمت، مسلح بغاوت اور فرقہ وارانہ تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ حکومت کا تختہ الٹنا نسبتاً آسان ثابت ہوا، لیکن ایک مستحکم سیاسی نظام قائم کرنا کہیں زیادہ مشکل نکلا۔صدام حسین کے خاتمے کے بعد عراق میں اقتدار کی نئی تقسیم شروع ہوئی۔ شیعہ سیاسی قوتیں مرکزی حیثیت میں آئیں، کردوں نے اپنے خودمختار خطے میں اپنی پوزیشن مضبوط کی، جبکہ سنی علاقوں میں نئی سیاسی صورتِ حال کے خلاف مزاحمت پیدا ہوئی۔ ریاستی اداروں کی کمزوری، سابق فوجیوں اور بعث پارٹی سے وابستہ افراد کی بے دخلی، القاعدہ سے وابستہ گروہوں کی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ کشیدگی نے عراق کو ایک طویل اور خونریز بحران میں مبتلا کردیا۔ امریکہ ایک ایسی جنگ میں الجھتا چلا گیا جس کے بارے میں ابتدا میں شاید خود واشنگٹن نے بھی اتنی طویل مدت کا تصور نہیں کیا تھا۔2007 میں عراق میں امریکی فوجیوں کی تعداد ایک لاکھ ستر ہزار سے تجاوز کرگئی تھی۔ امریکی فوجی موجودگی کے اعتبار سے یہ عراق میں امریکی تعیناتی کا عروج تھا۔ مگر فوج کی تعداد بڑھانے کے باوجود مسئلہ صرف فوجی نہیں تھا۔ عراق کا بنیادی مسئلہ سیاسی مفاہمت، ریاستی اداروں کی مضبوطی، مختلف طبقوں کے درمیان اعتماد اور بیرونی اثرات کا تھا۔ جنگ نے امریکہ کو بھی بھاری انسانی اور مالی قیمت ادا کرنے پر مجبور کیا۔ رائٹرز کے مطابق عراق میں دو دہائیوں سے زیادہ عرصے کے دوران تقریباً ساڑھے چار ہزار امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔2011 میں صدر باراک اوباما کے دور میں امریکی افواج عراق سے نکل گئیں۔ اس وقت ایسا محسوس ہوا کہ شاید عراق جنگ کا باب بند ہوگیا ہے، مگر صرف تین برس بعد حالات نے ایک بار پھر امریکہ کو عراق واپس آنے پر مجبور کردیا۔ 2014 میں داعش نے عراق اور شام کے وسیع علاقوں پر قبضہ کرلیا۔ موصل جیسے اہم شہر اس کے قبضے میں چلے گئے اور اس دہشت گرد تنظیم نے اپنی نام نہاد خلافت قائم کرنے کا اعلان کردیا۔ عراق کی ریاستی سلامتی کو ایک بار پھر شدید خطرہ لاحق ہوگیا۔ بغداد کی درخواست پر امریکہ دوبارہ عراق آیا اور بین الاقوامی اتحاد کی قیادت کرتے ہوئے داعش کے خلاف کارروائی شروع کی۔یہاں امریکی کردار پہلے دور سے مختلف تھا۔ 2003 میں امریکہ خود عراق کی حکومت گرانے والا مرکزی فریق تھا، جبکہ 2014 میں وہ عراقی حکومت کی درخواست پر داعش کے خلاف جنگ میں شریک ہوا۔ عراقی فوج، انسدادِ دہشت گردی فورسز اور کرد پشمرگہ کو امریکی فضائی مدد، تربیت، انٹیلی جنس اور دیگر معاونت حاصل ہوئی۔ کئی برس کی جنگ کے بعد داعش عراق میں اپنے زیرِ قبضہ علاقے سے محروم ہوگئی۔ امریکی قیادت میں قائم اتحادی مشن کی ایک بڑی کامیابی یہی تھی کہ داعش کی علاقائی حکومت ختم ہوگئی، اگرچہ تنظیم مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ آج بھی اس کے خفیہ نیٹ ورک اور سلیپر سیلز کے بارے میں خدشات موجود ہیں۔ رائٹرز کی تازہ رپورٹ میں بھی عراقی سکیورٹی حکام اور تجزیہ کاروں کی جانب سے یہ خدشات سامنے آئے ہیں کہ امریکی انٹیلی جنس، فضائی نگرانی اور دیگر وسائل کے خاتمے سے داعش کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع مل سکتا ہے۔امریکہ اور عراق نے 2024 میں فوجی مشن کی منتقلی کا منصوبہ طے کیا ۔ اس منصوبے کے تحت اتحادی افواج کا عراق میں داعش مخالف فوجی مشن ختم ہونا تھا اور تعلقات کو ایک طویل المدت دو طرفہ سکیورٹی شراکت داری میں تبدیل کرنا تھا۔ پہلے مرحلے میں عراق میں اتحادی فوجی مشن ختم ہوا، جبکہ دوسرے مرحلے میں عراق میں موجود بعض امریکی و اتحادی صلاحیتوں کو شام میں داعش کیخلاف کارروائیوں کیلئے ستمبر 2026 تک برقرار رکھنے کی گنجائش رکھی گئی۔ اس عمل کی آخری تاریخ ستمبر 2026 رکھی گئی تھی۔ امریکی حکام نے اس وقت واضح کیا تھا کہ عراق اور امریکہ کے تعلقات فوجی مشن کے خاتمے کے ساتھ مکمل طور پر ختم نہیں ہوں گے بلکہ نئے دو طرفہ سکیورٹی تعلقات جاری رہیں گے۔اب سوال یہ ہے کہ امریکہ عراق سے کیا لیکر گیا اور کیا چھوڑ کر گیا؟ امریکہ کیلئے سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ اس نے ایک طویل اور مہنگی فوجی مصروفیت ختم کردی۔ عراق میں موجود امریکی فوجیوں کی تعداد برسوں پہلے ہی بہت کم ہوچکی تھی، مگر ان کی موجودگی اب بھی ایک خطرہ اپنے ساتھ رکھتی تھی۔ خصوصاً ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی نے عراق کو ایک مرتبہ پھر دونوں طاقتوں کے درمیان ممکنہ میدان بنا دیا تھا۔ امریکی تنصیبات اور فوجی اہلکاروں کو حملوں کا خطرہ لاحق رہا۔ تازہ اطلاعات کے مطابق عراق سے امریکی فوجی انخلا ایسے وقت میں مکمل ہوا ہے جب خطے میں ایران کے ساتھ کشیدگی اور جنگ نے پہلے ہی سلامتی کی صورتِ حال کو پیچیدہ بنا رکھا ہے۔(…جاری ہے)






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں