کافی عرصے سے سوچ رہا تھا کہ اس موضوع پر لکھوں ۔پھر خیال آتا تھا کہ کچھ دوست احباب ناراض نہ ہو جائیں،پھر سوچا اس پر ضرور لکھا جائے اور اگر کسی ایک شخص نے بھی اس سلسلے میں اپنی سوچ تبدیل کرلی تو میں سمجھوں گا کہ میری کاوش رائیگاں نہیں گئی۔ میں نے تقریبا پینتیس سال سرکاری نوکری کی۔میری ساری نوکری راولپنڈی اورمیانوالی میں گزری اور کچھ عرصہ سلطنت آف عمان میں گزارا ۔ اگرچہ فطرتا میں گھومنے پھرنے کا شوقین تھا لیکن نوکری میں زیادہ علاقے دیکھنے کا موقع نہیں ملا ۔ریٹائرمنٹ کے بعد جب نئی اسائنمنٹ ملی تو مجھے سرگودھا، گجرات،منڈی بہاوالدین،اور راولپنڈی ڈویژن کے تمام اضلاع کے شہری اور دیہاتی علاقوں میں جانے اور انھیں نزدیک سے دیکھنے کا موقع ملا ۔جہلم،سرائے عالمگیر ، کھاریاں ، گوجر خان اور اٹک کی تحصیل حضرو کے مضافاتی علاقوں اور پنڈی گھیب کے علاقے احمدال میں جا کر میں نے جو ایک خاص چیز نوٹ کی وہ یہ تھی کہ وہاں بہت عالیشان کوٹھیاں بنی ہوئی تھیں ۔نہ صرف یہ کہ بڑے عالیشان گھر نظر آتے ہیں بلکہ وہاں پر اکثر ٹرسٹ کے جدید ترین ہسپتال ،تعلیمی ادارے اور ایمبولینس سروسز دیکھنے کو ملیں ۔ جب میں نے وہاں کے مقامی لوگوں سے ان ساری چیزوں کی تفصیل جاننا چاہی تو کچھ حیران کن انکشافات ہوئے ۔لوگوں نے بتایا کہ یہاں کے لوگوں کی اکثریت غیر ممالک عموما یورپ اور خاص طور پر انگلینڈ میں رہتی ہے ۔ مزید انکشاف ہا کہ پچاس اور ساٹھ کی دھائی میں یہاں کے لوگ یورپ اور انگلینڈ گئے تو وھاں جا کر اپنے علاقے کو بھول نہیں گئے اور خاموشی سے بیٹھ نہیں گئے بلکہ آہستہ آہستہ اپنے رشتہ داروں کو وہاں ان ممالک میں لے جانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ اور ابھی تک یہ سلسلہ رکا نہیں ۔ جو نئے لوگ گئے انھوں نے دوسرے لوگوں کو ان ممالک میں بلوانے اور وہاں ان کو سیٹل ہونے میں مدد کرنے کا سلسلہ جاری رکھا اور نتیجہ یہ ہے کہ ان علاقوں کی بڑی اکثریت اب یورپ،امریکہ اور انگلینڈ میں رہتی ہے۔یہ لوگ اپنے علاقے کو اور اپنے لوگوں کو بھولے نہیں بلکہ اپنے گائوں میں فلاحی کام ہسپتال،سکول اور ایمبولینس سروس وغیرہ جیسے منصوبے بنائے ۔ مثلاً ہم حضرو کے ایک گائوں حیدر خرد فارمولی میں پھر رہے تھے تو مجھے ایک جگہ پر دس بارہ ایمبولینس نظر آئیں ۔جب ہم اس سنٹر میں گئے تو پتہ چلا کہ اس گاں کا ایک شخص کافی عرصہ پہلے ہانگ کانگ گیا اور پھر آہستہ آہستہ اس نے پورے قبیلے کو ویاں بلوا لیا ۔عمارت کی دیوار پر پچیس جوانوں کی تصویریں لگی تھیں ۔ہمیں بتایا گیا کہ ان نوجوانوں نے اپنے علاقے کے لوگوں کیلئے”آل برادرز ایمبولینس سروس” کے نام سے یہ سروس شروع کی۔ساتھ ہی تابوت پڑے تھے جن میں ائیر کنڈیشن اور بیٹری لگی تھی۔یہ نوجوان ہانگ کانگ رہتے ہیں لیکن اس سروس کا اور اس کے ملازمین کا خرچہ برداشت کرتے ہیں ۔اسی طرح مجھے گوجر خان کے دیہاتی علاقے بیول جانے کا موقع ملا تو وہاں ایک ڈاکٹر صاحب جو خود انگلینڈ رہتے ہیں ، ڈاکٹر عتیق الرحمان نام ہے ان کا غالبا ۔ انھوں نے اپنے گائوں بیول میں ایک جدید ترین ہسپتال بنایا ہے جس میں جدید ترین آپریشن تھیٹر ہیں(ایسے آپریشن تھیٹر راولپنڈی کے سرکاری ہسپتالوں میں بھی نہیں)اور جدید ڈالیسیز مشینیں موجود ہیں ۔ڈاکٹر صاحب ہر سال اپریل میں ایک ماہ کیلئے آتے ہیں۔ کیمپ لگاتے ہیں ۔خود اور ان کے ساتھی آپریشن کرتے ہیں۔ویسے پورا سال یہ ہسپتال چلتا رہتا ہے ۔یہ تو صرف دو مثالیں ہیں ۔اس طرح کی کئی اور مثالیں موجود ہیں۔مجھے اپنے اوورسیز میانوالینز سے جو گلہ ہے (یاد رہے گلہ اپنوں سے کیا جاتا ہے نہ کہ غیروں سے)کہ میں نے نہیں سنا یا دیکھا کہ ہمارے میانوالی کا کی شخص امریکہ،انگلینڈ یا یورپ کے دوسرے ممالک گیا ہو اور پھر اس نے اپنے رشتہ داروں کو بھی اس ملک میں بلوا لیا ہو۔شاید کوئی ایک آدھ ہو لیکن میرے علم میں نہیں ۔اسی طرح ہمارے کسی بھی اوورسیز میانوالین بھائی نے اپنے گائوں میں کوئی فلاحی منصوبہ شروع کیا ہو،میرے علم میں نہیں۔اگر میں اپنے گائوں شہباز خیل کی مثال دوں تو پچاس اور ساٹھ کی دھائی میں میرے والد کے تین کزن انگلینڈ گئے تھے اور وہ تقریبا وہیں کے ہو کے رہ گئے ۔ان کے سگے بھانجے اور بھتیجے گاں میں بیروزگار پھرتے رہے لیکن مجال ہے کہ وہ کسی ایک کو بھی وہاں لے کر گئے ہوں یا گائوں میں ماں باپ کے نام پر ہی سہی کوئی فلاحی منصوبہ شروع کیا ہو۔مجھے میانوالی کے ایک جاننے والے نے ایک اور بڑا دلچسپ واقعہ سنایا۔اس نے کہا کہ میرے بیٹے کو امریکہ جانے کا شوق تھا ۔وہ کہتا ہے میں نے اپنا سب کچھ بیچ کر اس کی پہلے سمسٹر کی فیس جمع کروائی اور اسے امریکہ میں یونیورسٹی میں داخلہ دلوایا۔سمسٹر ختم ہونے پر ہمارے پاس دوسرے سمسٹر کی فیس نہیں تھی تو میرا بیٹا ایک سٹور پر کام کرنے لگ گیا ۔ظاہر ہے وہ غیر قانونی تھا۔ بچے کے ماموں نے جو پہلے سے امریکہ میں موجود تھا نہ صرف کہ اس کی مدد نہیں کی بلکہ پولیس کو شکایت لگا دی کہ فلاں شخص غیر قانونی طور پر رہ رہا ہے ۔بہرحال سٹور کے سکھ مالک نے کسی طرح اس کو بچایا اور پھر وہ بچہ ایک دوسری ریاست چلا گیا اور دوسال چھپ کر ایک سٹور پر کام کرتا رہا۔ اب تو خیر میرے وہ جاننے والے بیگم سمیت امریکا جا چکے ہیں اور ان کا بیٹا بھی قانونی طور پر وہاں کام کرتا ہے ۔مجھے سمجھ نہیں آئی کہ ہم میانوالینز اس سلسلے میں میر پور آزاد کشمیر،جہلم ،گجرات،گوجر خان اور حضرو کے لوگوں سے کیوں پیچھے ہیں؟ ہمارے میانوالینز جو ان ممالک میں بہت آسودہ زندگی گزار رہے ہیں وہ اپنے غریب رشتہ داروں کو وہاں لے جانے میں ان کی مدد کیوں نہیں کرتے اور اس سلسلے میں ان کی راہنمائی کیوں نہیں کرتے۔اللہ تعالی ہمیں بھی اور ہمارے اوورسیز میانوالینز کو بھی اپنے علاقے کے لوگوں کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین







تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں