بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 21.6°C
Tuesday, 15 September 2026 | پاکستان: 4 ر بیع الثانی 1448

اٹھارہ سالہ اقتدار اور سندھ کی محرومیاں۔۔!

Tuesday, 15 September, 2026

مبصرین کے مطابق مختصر مدت کی حکومت سے محدود نتائج کا سوال کیا جا سکتا ہے، لیکن اگرچہ تقریباً دو دہائیوں کی حکمرانی کو وقت کی کمی کا جواز نہیں دیا جا سکتا۔ سندھ میں اٹھارہ برس کے دوران انتظامی ڈھانچہ، پالیسی، بجٹ اور ترقیاتی ترجیحات ایک طویل سیاسی تسلسل کے زیر اثر رہیں۔ بنیادی سوال یہ نہیں کہ ماضی کے سیاسی کرداروں کو دوبارہ موضوعِ بحث بنایا جائے، بلکہ یہ ہے کہ صوبے کے وسائل کہاں خرچ ہوئے، عوام تک فائدہ کس حد تک پہنچا اور عام شہری کی زندگی میں کیا تبدیلی آئی؟۔معاشی ماہرین کے بقول اٹھارہ برس میں سندھ کا مجموعی بجٹ تقریباً 90 ارب امریکی ڈالر بنتا ہے اوراتنی بڑی رقم غیر معمولی مالی طاقت ہے۔ اگر یہ رقم اس مدت کے مجموعی مالی وسائل کی درست عکاسی کرتی ہے تو اس کا حساب عوام کے سامنے رکھنا ناگزیر ہے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ ہر سال بجٹ پیش کرنا کافی نہیں، اصل احتساب یہ ہے کہ کتنی رقم خرچ ہوئی، کہاں خرچ ہوئی، کون سا منصوبہ مکمل ہوا اور اخراجات سے تعلیم، صحت، روزگار، پانی، صفائی اور شہری سہولتوں میں کیا بہتری آئی۔یہ امر خصوصی توجہ کا حامل ہے کہ سندھ کی آبادی کو سہولتوں کے حوالے سے مشکلات ہیں۔ کراچی میں پانی، نکاسی آب، ٹریفک، کچرے اور سڑکوں کے مسائل سامنے آتے ہیں۔ اسی طرح اندرون سندھ کے کئی علاقوں میں اسکولوں، بنیادی مراکز صحت، صاف پانی اور پختہ سڑکوں کی شدید قلت ہے۔ اگر اربوں ڈالر کے مساوی وسائل خرچ ہونے کے باوجود عام آدمی بنیادی سہولتوں کے لیے ترستا رہے تو سوال منصوبہ بندی، ترجیحات، نگرانی اور اخراجات کے نظام کا بنتا ہے ۔ مبصرین کے مطابق کسی بھی حکومت کی کارکردگی کو نعروں کے بجائے قابلِ پیمائش نتائج سے جانچنا چاہیے۔ اگر تعلیم پر بجٹ بڑھا تو اسکولوں کی حالت، اساتذہ کی حاضری، طلبہ کے داخلے اور تعلیمی معیار کے اعداد و شمار سامنے آنے چاہئیں۔ اگر صحت پر خطیر رقم خرچ ہوئی تو اسپتالوں میں ادویات، ڈاکٹروں، بستروں اور ایمرجنسی سروسز کا جائزہ ہونا چاہیے۔ اگر زراعت اور دیہی ترقی کے لیے فنڈز رکھے گئے تو کسان اس سرمایہ کاری کے اثرات کیوں محسوس نہ کریں؟یہ بات قابلِ غور ہے کہ بجٹ کا حجم خود کامیابی کی ضمانت نہیں۔ اصل اہمیت یہ ہے کہ مالی وسائل کس معیار کے منصوبوں پر خرچ کیے گئے۔ اگر ترقیاتی اسکیموں کا انتخاب سیاسی ضرورت یا وقتی تشہیر کے تحت ہو تو بڑی رقم بھی پائیدار ترقی پیدا نہیں کرتی۔ سندھ میں ہر بڑے منصوبے کا آزادانہ آڈٹ، لاگت، تکمیل کی مدت اور عوامی فائدے کی تفصیل سامنے آنی چاہیے۔معاشی ماہرین کے بقول قومی ترقی میں شفافیت بنیادی شرط ہے، اور یہی اصول صوبائی مالیات پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ عوام یہ جاننے کا حق رکھتے ہیں کہ ٹیکس، وفاقی منتقلیوں اور دیگر آمدنی سے جمع ہونے والی رقم کہاں استعمال ہوئی۔ یہ حق کسی سیاسی جماعت کے خلاف مہم نہیں بلکہ جمہوری احتساب ہے۔ اگر حکومت نے اچھا کام کیا ہے تو اعداد و شمار اس کی کارکردگی مضبوط کریں گے، اور اگر ناکامی ہوئی ہے تو اس کی نشاندہی آئندہ پالیسی میں مدد دے گی۔یہاں اہم پہلو سندھ کے شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان ترقی کا فرق ہے۔ کراچی، حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ اور دیگر شہروں کے مسائل مختلف ہیں، جبکہ دیہی علاقوں کی ضروریات الگ ہیں۔ اس لیے ضلع وار کارکردگی کا جائزہ ضروری ہے۔ ہر ضلع کے لیے بتایا جانا چاہیے کہ کتنی رقم مختص، جاری اور خرچ ہوئی اور کتنے منصوبے مکمل ہوئے اور یہی طریقہ سیاسی بحث کو عوامی احتساب میں بدل سکتا ہے۔اسی تناظر میں دبئی یا کسی دوسرے شہر کا ذکر الزام کے طور پر نہیں بلکہ سوال کے طور پر ہونا چاہیے ۔ اگر عوامی وسائل کے بارے میں مالی بے ضابطگی، بدعنوانی یا ناجائز منتقلی کے الزامات ہیں تو تحقیقات شواہد کی بنیاد پر ہونی چاہئیں۔ صرف یہ کہنا کہ پیسہ سندھ کے بجائے دبئی چلا گیا، کافی نہیں؛ عوام کو ثبوت، دستاویزات، آڈٹ رپورٹس اور قانونی نتائج دکھانا ضروری ہے۔ مبصرین کے مطابق مخالفین کے الزامات کو حتمی فیصلہ سمجھنا بھی درست نہیں ۔ جان کاروں کے مطابق سندھ کی اصل ضرورت سیاسی شخصیات کے گرد بحث گھمانے کے بجائے نتائج کا غیر جانب دارانہ جائزہ ہے۔ بھٹو کو زندہ کرنے یا کسی جماعت کو مکمل طور پر سندھ کی نمائندہ قرار دینے سے نہ اسکول بہتر ہوگا، نہ اسپتال، نہ سڑک اور نہ پانی کا مسئلہ حل ہوگا۔ سیاست کا مرکز کارکردگی ہونا چاہیے۔ حکومت چاہے کسی بھی جماعت کی ہو، اسے اپنے فیصلوں کا حساب دینا ہوگا۔کیوں کہ اگر اٹھارہ برس میں تقریباً 90 ارب ڈالر کے مساوی بجٹ خرچ ہونے کا دعویٰ سامنے آتا ہے تو مناسب مطالبہ یہی ہے کہ اس رقم کا مکمل عوامی حساب پیش کیا جائے ۔ محکمے وار اخراجات، بڑے منصوبے، تکمیل کی شرح، غیر مکمل اسکیمیں، آڈٹ اعتراضات اور ترقیاتی نتائج ایک رپورٹ میں سامنے آئیں۔ اس سے الزامات کی سیاست کم ہوگی اور واضح ہوگا کہ سندھ کے وسائل نے سندھ کو کتنا بدلا۔یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ سندھ کے عوام کو کسی سیاسی بیانیے سے زیادہ عملی نتائج درکار ہیں۔ انہیں یہ جاننے کا حق ہے کہ بجٹ میں مختص ہر بڑی رقم نے ان کی زندگی میں کیا آسانی پیدا کی۔ سوال یہ نہیں کہ ماضی میں کس نے کیا کہا؛ سوال یہ ہے کہ اٹھارہ برس کی حکمرانی میں کیا حاصل ہوا۔ پیسہ کہاں لگا؟ سندھ میں، ترقی میں، عوامی سہولتوں میں یا کہیں اور؟ یہی سوال سیاسی بحث کا مرکز ہونا چاہیے، کیونکہ طویل اقتدار کے بعد صرف حساب باقی ہے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *