گزشتہ دو دہائیوں میں ایران نے اپنے میزائل پروگرام کو محض ایک دفاعی صلاحیت سے ترقی دے کر مغربی ایشیا میں اپنی عسکری طاقت کی حکمتِ عملی کا بنیادی ستون بنا دیا ہے۔ آج بیلسٹک میزائل، کروز میزائل اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز تہران کے دفاعی نظریے کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ انہی صلاحیتوں نے پابندیوں، محدود فضائی قوت اور بین الاقوامی دباؤ کے باوجود ایران کو خطے میں ایک موثر عسکری طاقت کے طور پر برقرار رکھا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی میزائل قوت نے امریکہ، اسرائیل اور خلیجی ریاستوں کی سیکیورٹی حکمتِ عملی کو ازسرِنو تشکیل دینے پر مجبور کر دیا ہے۔ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشمکش اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جسے تیسرا مرحلہ کہا جا سکتا ہے۔پہلا مرحلہ اقتصادی پابندیوں، سفارتی تنہائی اور خفیہ کارروائیوں پر مشتمل تھا جن کا مقصد ایران کے جوہری اور عسکری پروگرام کو محدود کرنا تھا۔ دوسرا مرحلہ عراق، شام، لبنان اور بحیرہ احمر میں پراکسی جنگوں، سائبر حملوں اور محدود فوجی کارروائیوں سے عبارت تھا۔ اب تیسرا مرحلہ براہِ راست میزائلوں، ڈرونز اور جدید گائیڈڈ ہتھیاروں کے ذریعے طویل فاصلے کے حملوں کی شکل اختیار کر چکا ہے، جس نے مشرقِ وسطی میں ڈیٹرنس کے تصور کو نئی جہت دی ہے۔ایران اب اپنی اسٹریٹجک رسائی کیلئے صرف اتحادی گروہوں پر انحصار نہیں کرتا بلکہ اس کی مقامی میزائل ٹیکنالوجی اس کی دفاعی حکمتِ عملی کا مرکز بن چکی ہے۔ تہران نے بیلسٹک اور کروز میزائلوں، خودکش ڈرونز اور ایسے جدید نظاموں میں سرمایہ کاری کی ہے جو کثیرالطبقاتی فضائی دفاعی نظاموں کو چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کا مقصد امریکہ یا اسرائیل کیساتھ روایتی فضائی جنگ نہیں بلکہ ایسی قابلِ اعتماد جوابی صلاحیت پیدا کرنا ہے جو کسی بھی ممکنہ حملہ آور کیلئے ناقابلِ قبول قیمت پیدا کر سکے۔
یہ پیش رفت محض عسکری میدان تک محدود نہیں رہی بلکہ ایران کا میزائل پروگرام ایک اسٹریٹجک ایکوئلائزر بن چکا ہے۔ جدید جنگی طیاروں پر پابندیوں اور مسلسل اقتصادی دبا کے باوجود ایران نے ایک خود کفیل دفاعی صنعت قائم کر لی ہے جو جدید اور نسبتا درست نشانہ لگانے والے میزائل تیار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس خود انحصاری نے پابندیوں کے ذریعے ایران کو کمزور کرنے کی حکمتِ عملی کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔حالیہ فوجی جھڑپوں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ بیک وقت مختلف سمتوں سے آنے والے بڑی تعداد میں میزائل اور ڈرون جدید ترین فضائی دفاعی نظاموں کو بھی شدید دبا میں لا سکتے ہیں۔دفاعی ماہرین کے مطابق کوئی بھی ایئر ڈیفنس سسٹم مکمل تحفظ فراہم نہیں کر سکتا، خصوصاً جب
حملوں کی تعداد دفاعی صلاحیت سے زیادہ ہو جائے۔ ایسے حالات میں انٹرسیپٹر میزائلوں کی دستیابی، بروقت انٹیلی جنس اور فوری ردعمل فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتے ہیں۔یہی صورتحال ایران امریکہ ٹکراؤ کے تیسرے مرحلے کی نمایاں خصوصیت ہے۔ اب مسئلہ صرف ایران کو عسکری صلاحیت حاصل کرنے سے روکنا نہیں بلکہ ایک ایسے خطے کا انتظام کرنا ہے جہاں ایران کے پاس پہلے ہی اتنی میزائل طاقت موجود ہے کہ وہ امریکی اڈوں، اتحادی ریاستوں اور اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا سکے۔اسرائیل کیلئے اس تبدیلی کے گہرے اثرات ہیں۔ امریکہ کو بھی نئے آپریشنل چیلنجز درپیش ہیں۔ خلیج، عراق، شام اور اردن میں اس کے فوجی اڈے روایتی ڈیٹرنس اور تیز رفتار فوجی تعیناتی کیلئے قائم کیے گئے تھے، لیکن اب انہیں ایسے درست نشانہ لگانے والے میزائلوں کا سامنا ہے جو رن ویز، کمانڈ سینٹرز، لاجسٹک مراکز اور توانائی کے انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ خلیجی ریاستیں اس صورتحال میں سب سے زیادہ حساس مقام پر کھڑی ہیں۔ اگرچہ ان کے امریکہ کے ساتھ مضبوط دفاعی تعلقات ہیں، لیکن ان کا جغرافیہ انہیں ایرانی میزائلوں کی براہِ راست زد میں رکھتا ہے۔ اسی لیے کئی خلیجی ممالک حالیہ برسوں میں ایران کے ساتھ سفارتی روابط بہتر بنانے اور براہِ راست تصادم سے گریز کی پالیسی اختیار کر رہے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ کسی بھی بڑی جنگ کی قیمت صرف عسکری نہیں بلکہ معاشی اور انسانی بھی ہوگی۔توانائی کی سلامتی بھی اس تنازع کے مرکز میں ہے۔ آبنائے ہرمز اور باب المندب عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کیلئے انتہائی اہم سمندری راستے ہیں۔ ان علاقوں میں کسی بھی بڑے میزائل تصادم کے نتیجے میں عالمی توانائی کی منڈیاں، تیل کی قیمتیں اور بین الاقوامی تجارت شدید متاثر ہو سکتی ہیں۔عالمی جغرافیائی سیاست بھی تبدیل ہو رہی ہے۔ چین اور روس نے تہران کیساتھ اپنے سیاسی اور اسٹریٹجک روابط مضبوط کیے ہیں، جبکہ امریکہ ایران کو اب صرف ایک علاقائی حریف نہیں بلکہ ایک وسیع تر عالمی اسٹریٹجک چیلنج کے طور پر دیکھتا ہے۔ اس کے نتیجے میں مشرقِ وسطی کی کشیدگی عالمی طاقتوں کے درمیان مقابلے کا بھی حصہ بنتی جا رہی ہے۔اس تنازع نے جدید جنگ کی ایک بنیادی حقیقت بھی واضح کر دی ہے۔ جدید فضائی دفاعی نظام انتہائی مثر ضرور ہیں، مگر ناقابلِ تسخیر نہیں۔ دوسری جانب ایران کی میزائل قوت نے اپنی لچک اور موثریت ثابت کی ہے، اگرچہ اسے بھی امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ دونوں فریقوں نے کچھ حکمتِ عملی کی کامیابیاں حاصل کیں، لیکن ان کی کمزوریاں بھی نمایاں ہو کر سامنے آئیں۔اس تیسرے مرحلے کا سب سے اہم سبق یہ نہیں کہ کسی ایک فریق نے مکمل عسکری برتری حاصل کر لی ہے، بلکہ یہ کہ خطے کا اسٹریٹجک توازن پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو چکا ہے۔ ایران کی میزائل صلاحیت نے پیشگی حملوں کی لاگت بڑھا دی ہے اور یہ تصور کمزور کیا ہے کہ صرف فوجی طاقت کے ذریعے سیاسی مقاصد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ بین الاقوامی تعلقات کا ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ ڈیٹرنس صرف عسکری طاقت سے نہیں بلکہ حریف پر ناقابلِ قبول قیمت عائد کرنے کی صلاحیت سے پیدا ہوتی ہے۔ ایران نے میزائل ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کے ذریعے اپنے ڈیٹرنس کو مضبوط کیا ہے، اگرچہ دیگر عسکری شعبوں میں اسے اب بھی محدودیت کا سامنا ہے۔
آخرکار، ایران امریکہ ٹکراؤ کا تیسرا مرحلہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ صرف فوجی دبا یا جدید ہتھیار پائیدار امن کی ضمانت نہیں بن سکتے۔ انہوں نے ایک ایسا نازک توازن ضرور پیدا کیا ہے جس میں کسی بھی غلط اندازے یا اشتعال انگیزی کے نتیجے میں پورا خطہ ایک وسیع جنگ، معاشی تباہی اور انسانی بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔مغربی ایشیا کا مستقبل اب کسی فیصلہ کن فوجی فتح پر نہیں بلکہ اسٹریٹجک تحمل، مثر ڈیٹرنس اور فعال سفارت کاری پر منحصر ہے۔ جیسے جیسے میزائل ٹیکنالوجی مزید ترقی کرے گی، سفارت کاری کمزوری نہیں بلکہ ایک ناگزیر اسٹریٹجک ضرورت بن جائے گی۔ مستقبل کا علاقائی امن اسی وقت ممکن ہوگا جب اعتماد سازی، مسلسل مذاکرات اور باہمی مفادات پر مبنی سیکیورٹی ڈھانچہ قائم کیا جائے۔ ممکن ہے تاریخ اس مرحلے کو کسی واضح فاتح کی وجہ سے نہیں بلکہ اس حقیقت کے اعتراف کے طور پر یاد رکھے کہ مغربی ایشیا میں طاقت کا مستقبل صرف میزائلوں سے نہیں بلکہ ڈیٹرنس، تدبر اور سفارت کاری سے متعین ہوگا۔





تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں