بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 27.8°C
Sunday, 26 July 2026 | پاکستان: 12 صفر 1448

مستونگ کا المناک سانحہ، بیرونی سازش

Sunday, 26 July, 2026

بلوچستان کا ضلع مستونگ ایک بار پھر دہشت گردی کی وحشت ناک لہر کا نشانہ بنا ہے، جہاں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی ٹارگٹڈ شہادت اور ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری کا شدید زخمی ہونا محض ایک مجرمانہ کارروائی نہیں، بلکہ پاکستانی ریاست کے ستونوں پر براہِ راست حملہ ہے۔ کوئٹہ سے مستونگ جاتے ہوئے ولی خان بائی پاس کے قریب جس بے دردی سے عدالتی حکام کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا، اس نے ملک بھر کے سکیورٹی اداروں، قانونی حلقوں اور عام عوام کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ سکیورٹی ماہرین اور تجزیہ کار اس واقعے کو قانون کی حکمرانی کو سبوتاژ کرنے، عدلیہ کو ہراساں کرنے اور بلوچستان میں ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کی ایک گہری اور ملٹی لیئرڈ (کثیر سطحی) حکمت عملی کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے عزم کو توڑنے میں ناکامی کے بعد، اب دہشت گردوں نے ججوں، پراسیکیوٹرز اور سول اداروں کو سافٹ ٹارگٹ کے طور پر منتخب کیا ہے تاکہ معاشرے میں مایوسی اور خوف کی فضا پیدا کی جا سکے۔یہ حملہ کسی مقامی عسکریت پسند گروہ کی ذاتی کارروائی نہیں، بلکہ اس کے تاریں سرحد پار دہلی اور کابل میں بیٹھے ان ہینڈلرز سے جا ملتی ہیں جو پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے ایک پیچیدہ ہائبرڈ وارفیئر کا سہارا لے رہے ہیں۔ سکیورٹی اداروں نے اس نیٹ ورک کو بے نقاب کیا ہے جس کے تحت کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) اور بلوچستان یکجہتی کمیٹی (BYC) جیسے گروہ ایک سوچے سمجھے گٹھ جوڑ کے تحت کام کر رہے ہیں۔ جہاں بی ایل اے مسلح حملوں، ٹارگٹڈ کلنگ اور ریاستی بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کی ذمہ دار ہے، وہاں بی وائی سی جیسے شہری پروکسیز ایک نظریاتی بیانیہ تیار کرتی ہیں۔ ان کا مقصد مسلح جنگجوں کو قانونی و اخلاقی احتساب سے بچانے کے لیے سیاسی تحفظ فراہم کرنا اور انسانی حقوق کا لبادہ اوڑھ کر عوامی ہمدردی حاصل کرنا ہے۔ مزید برآں، حملے کے فورا بعد آئی ایس کے پی (ISKP) جیسی بین الاقوامی تنظیموں کی طرف سے ذمہ داری قبول کرنے کا ڈرامہ رچایا جاتا ہے تاکہ عالمی برادری کی توجہ اصل مجرموں بی ایل اے اور ان کے بیرونی آقاں سے ہٹائی جا سکے۔پاکستان کا یہ موقف ہمیشہ سے واضح اور ٹھوس رہا ہے کہ بلوچستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیمیں بیرونی مالی معاونت، اسلحہ اور تربیت کے بغیر اتنی بڑی کارروائیاں نہیں کر سکتیں۔ بھارت کی جانب سے سرحد پار دہشت گرد نیٹ ورکس کی پشت پناہی اور افغان سرزمین پر موجود دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں پاکستان کی سلامتی کے لیے مسلسل خطرہ بنی ہوئی ہیں۔ پاکستانی حکام نے متعدد بار بین الاقوامی فورمز پر ناقابلِ تردید شواہد پیش کیے ہیں کہ کس طرح پاکستان دشمن قوتیں افغانستان کے غیر مستحکم حالات کا فائدہ اٹھا کر بلوچستان کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ مستونگ کا یہ سانحہ عالمی برادری کے لیے ایک پیغام ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں دوہرے معیار ترک کرے اور سرحد پار موجود دہشت گردوں کے مالی وسائل، سہولت کاروں اور بیرونی رابطوں کے خلاف موثر اور عملی کارروائی کے لیے پاکستان کا ساتھ دے۔اگر دہشت گرد تنظیمیں ریاست کے نمائندوں اور ججوں کو نشانہ بنانے میں کامیاب ہوتی رہیں، تو اس کے بھیانک اثرات صرف بلوچستان تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ یہ پورے ملک کے نظامِ انصاف اور داخلی سلامتی کو دبا میں لے آئیں گے۔ عدلیہ کسی بھی آزاد معاشرے میں انصاف کی فراہمی کا آخری قلعہ ہوتی ہے، اور اگر اس قلعے کو غیر محفوظ بنا دیا جائے تو پورا سماجی ڈھانچہ بکھر جاتا ہے۔ لہذا، اب وقت آ گیا ہے کہ سکیورٹی ایجنسیاں اور حکومت مل کر ججوں اور عدالتی عملے کے تحفظ کے لیے ہنگامی بنیادوں پر فول پروف سکیورٹی پلان تشکیل دیں۔ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کا دائرہ کار وسیع کیا جائے تاکہ دہشت گردوں کے سلیپر سیلز اور ان کے شہری سہولت کاروں کو جڑ سے اکھاڑا جا سکے۔دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ محض عسکری قوت سے نہیں جیتی جا سکتی۔ اس کے لیے پوری قوم، سیاسی قیادت، عدلیہ اور مسلح افواج کا ایک پیج پر ہونا ناگزیر ہے۔ پاکستان کی سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ماضی میں بے پناہ قربانیاں دے کر دہشت گردی کا رخ موڑا ہے، اور اب بھی ان کا عزم متزلزل نہیں ہوا ہے۔ عوام کو ان ہائبرڈ ہتھکنڈوں اور پراپیگنڈے سے ہوشیار رہنا ہوگا جو حقوق کی آڑ میں ریاست اور اداروں کے خلاف نفرت پھیلانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ قومی یکجہتی، مضبوط انٹیلی جنس شیئرنگ اور ایک فعال عدالتی نظام ہی وہ ہتھیار ہیں جن کے ذریعے دشمن کے ان مذموم عزائم کو خاک میں ملایا جا سکتا ہے۔ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے محافظ کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔ ان کی شہادت اس عزم کو مزید فولادی بناتی ہے کہ پاکستان دہشت گردی اور اس کے بیرونی سرپرست عناصر کے سامنے کبھی سر نہیں جھکائے گا۔ قانون کی حکمرانی کو ہر قیمت پر برقرار رکھا جائے گا اور ریاست اپنے شہریوں اور اداروں کے تحفظ کے لیے آخری حد تک جائے گی۔ مستونگ کا واقعہ ایک یاد دہانی ہے کہ پاکستان کے خلاف جاری یہ جنگ کثیر جہتی ہے، جس کا جواب ہمیں ایک مضبوط، متحد اور آہنی حکمت عملی سے دینا ہوگا تاکہ آئندہ کوئی بھی جج، فوجی یا شہری دشمن کی بربریت کا نشانہ نہ بن سکے۔
بے اعتمادی کو ہوا دینا
پاکستان کا شعبہ توانائی طویل عرصے سے نااہلی اور بڑھتے ہوئے گردشی قرضوں کے ایک ایسے چکر میں پھنسا ہوا ہے جس سے نکلنا مشکل ہو رہا ہے۔صارفین کو بار بار یہ بتایا گیا ہے کہ نظام کو فعال رکھنے کا واحد طریقہ ٹیرف (نرخوں) میں اضافہ اور وصولیوں میں سختی ہے۔تاہم،آڈٹ کے حالیہ نتائج سے انکشاف ہوا ہے کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے صرف ایک ماہ میں صارفین کو 47 ارب روپے کے زائد بل بھیجے۔تقریبا 2 لاکھ 79 ہزار صارفین کو زائد رقم والے بل موصول ہوئے،جن میں سے اکثریت کا تعلق لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) سے تھا۔اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ الزام ہے کہ یہ عمل نچلی سطح کے عہدیداروں کی جانب سے بجلی چوری اور لائن لاسز (بجلی کے ضیاع) کو چھپانے کی ایک دانستہ کوشش تھی۔حکومت نے آزاد بجلی پیدا کرنے والے اداروں کے ساتھ معاہدوں پر نظر ثانی کی ہے،آئی ایم ایف کے وعدوں کے تحت سبسڈی میں کمی کی ہے اور بار بار گردشی قرضوں کے مسئلے کو حل کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔اس کے باوجود،اس سلسلے کی سب سے کمزور کڑی پر اب تک کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی۔تقسیم کار کمپنیاں مسلسل ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کے بھاری نقصانات ظاہر کر رہی ہیں جبکہ کئی علاقوں میں وصولی کے اہداف کا حصول اب بھی ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔دریں اثنا،سارا بوجھ ایک ہی سمت منتقل ہوتا جا رہا ہے۔صرف جبر کے ذریعے قوانین کی پابندی کو برقرار نہیں رکھا جا سکتا؛اس کا انحصار اعتماد پر بھی اتنا ہی ہے۔حکومتی ردعمل–کہ اسمارٹ میٹرز نصب کیے جا رہے ہیں اور ایسی شکایات میں کمی آئی ہے–خوش آئند تو ہے لیکن اس سے اطمینان نہیں ہوتا۔پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے اسمارٹ میٹرنگ کے بارے میں سنتا آ رہا ہے۔یہ درست ہے کہ ٹیکنالوجی انسانی صوابدید (اپنی مرضی سے فیصلے کرنے کے اختیار) کو کم کر سکتی ہے،لیکن یہ کمزور اداروں کی کمی کو پورا نہیں کر سکتی۔اصل مسئلہ احتساب کا ہے۔یہ اسکینڈل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت کئی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کے عمل کو آگے بڑھا رہی ہے اور اس کا مقف ہے کہ نجی انتظام کارکردگی کو بہتر بنائے گا اور نقصانات میں کمی لائے گا۔ذمہ داران کو پہنچائے گئے نقصان کے تناسب سے سزا ملنی چاہیے۔اس کے علاوہ، بلنگ کا عمل محض تقسیم کار کمپنیوں کے زیرِ کنٹرول ایک بند انتظامی عمل نہیں رہنا چاہیے۔انسانی مداخلت یا صوابدید کو کم سے کم کرنے کے لیے میٹر ریڈنگ اور بلنگ کے ریکارڈ کو مکمل طور پر ڈیجیٹل کیا جانا چاہیے،جبکہ کسی آزاد ریگولیٹر یا تھرڈ پارٹی آڈیٹر کو وقتا فوقتا ان کے درست ہونے کی تصدیق کرنی چاہیے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *