کے باوجود دشمنوں کا ساتھ دیا۔ رسولۖ اللہ پر جادو کیا۔رسولۖاللہ کو شہید کرنے کی کوشش کی۔ سازشوں کی وجہ سے مدینے سے نکالے گئے ۔ اسی طرح یورپ کے سارے ملکوں میں سے اپنی سازشوں کی وجہ سے کئی بار نکالے گئے۔ آخری بار جرمنی کے ہٹلر نے انہیں گیس کی بھٹیوں میں ڈال کر موت کے منہ میں ڈالا ۔ یہودیوں کے دانشور لکھتے ہیں اگر ہمیں دنیا میں کہیں سکون ملا تو مسلمانوں کے اسپین اور عثمانی سلطنت میں ملا۔ عیسائیوں کے کچھ انسانیت پسند دانشور، دبے الفاظ میں لکھتے رہے ہیں کہ عیسائیوں نے پیسے کی لالچ اور مسلم دشمنی میں بل لفور معاہدے کے تحت یہودیوں سے جان چھڑا کر ان کو مسلمانوں کے ملک فلسطین میں آباد ہونے دیا۔پھر دنیا نے دیکھا کہ احسان فراموش فسادی یہودیوں نے فلسطین کے مسلمانوں کے ساتھ کیسا ظلم کیا ۔ فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے نکال دیا۔ ان کی زمینوں پر دہشت گردی سے قبضہ کرلیا۔ دنیا میں بھکرے ہوئے یہودیوں کو لا لا کر فلسطین میں آباد کیا۔ اقوام متحدہ نے اس ظلم کیخلاف فلسطین کے حق میں درجنوں قرادادیں پاس کیں۔ مگر دہشت گرد خود سر، اسرائیل نے ان پر عمل نہیں کیا۔ جب بھی قرارداد پیش ہوتی امریکا مسلم دشمنی میں اسے اسرائیل کے حق میں ویٹو کر دیتا۔ یہود نے پیسے، سازش اور مسلمانوں کے دوبارہ عروج میں آنے کے خوف سے ڈرا کر، عیسائیوںپر غلبہ پا لیا۔ اسی پر ایک صدی پہلے فلسفی شاعر علامہ اقبال نے فلسطینیوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا:۔
تری ددا، نہ، جنیوا میں ہے نہ لندن میں
فرنگ کی رگ جاں پنجہ یہود میں
جب ظلم حد سے بڑھا تواللہ تعالیٰ نے اپنی داہمی سنت پر عمل کرتے ہوئے اپنی مخلوق کو اسرائیل کیخلاف کر دیا۔ اسرائیل نے غزہ کو کھنڈرات بنا دیا۔ غزہ کے لاکھ سے زیادہ شہریوں،جن میں بچوں کی تعداد زیادہ ہے کی نسل کشی کی۔لاکھوں ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ سیکڑوں لاپتہ ہیں۔ سیکڑوں کو قید کر لیاگیا۔بھوک کو جنگی ہتھیار بنایا گیا۔ امداد پہنچنے والے راستوں کی بندش کی ہے ۔ حیاتی اسلحُہ استعمال کر کے غزہ سیکڑوں شہریوںکوہوا میں تحلیل کردیا ہے۔ تیسری بار فساد پرپا کرنے پر اللہ نے اپنی ساری مخلوق کو یہود کیخلاف کر دیا۔ان مظالم کی وجہ سے اسرائیل کاوجود ممکن نہیں رہا۔ اللہ کے باغی یہود جلد پھر پہلے کی طرح تتربتر ہونے والے ہیں۔ یہودیوں کی آباد کاری کرنے والی تنظیم ”جیوش نیشنل فنڈ ” سال١٩٠١ ء میں قائم ہوئی تھی۔ یہ تنظیم فلسطین میں آباد ہونیوالے یہودیوں کو فنڈنگ بھی کرتی ہے۔اس کے ایک ممبر جو اس وقت اسرائیلی پارلیمنٹ کا بھی ممبر ہے،نے موجودہ مشکل حالت کو دیکھتے ہوئے تنظیم کو مشورہ دیا ہے کہ یونان میں پچاس جزیرے خالی پڑے ہوئے ہیں۔ ان کو خرید کر اپنے لیے محفوظ مقام کی بنیا درکھنی چاہیے۔ جسے فنڈنک کمیٹی نے فی الحال منطور نہیں کیا۔ اس سے اشارے ملتے ہیںکہ یہود فلسطین سے بھاگنے کے منصوبے بنا رہے ہیں۔ ویسے موجودہ جنگ سے ڈر کر لاکھوں یہود اسرائیل چھوڑ چکے ہیں۔ اسرائیلی حکومت کے لوگ نیتن یاہو جو، اسرائیل پرسولہ سال سے حکومت کر رہا ہے تنگ ہوگئے ہیں ۔ اس سے جان چھڑانے کیلئے شور مچاتے رہے ہیں ۔ اسرائیل کے ایک ریٹائردڈجنرل نے، ایک و یڈیو وائرہوئی جس میں اس نے نیتن یاہوکو وارکریمنل کہا۔ اسرائیل میں اختلافات اس حد تک پہنچ گئے کہ اسرائیل میں ایک پروگرام کی ویڈیووائرل ہوئی۔ جس میں ایک اسرائیلی نے تقریر کرنیوالے اسرائیل کے وزیر دفاع ”یسرائل کاتز” پر پسٹل تان لیا۔اور کہا تمھاری وجہ سے ایران کو ہم پر فتح حاصل ہوئی۔ پارلیمنٹ میں ایک ممبراسرائیل کی پارلیمنٹ سے اسرائیل کے سلامتی کے وزیر”ایتمار بن گویر” نے فلسطینی قیدی جو اسرائیل کی جیلوں میں سزا کاٹ رہے ہیں کو پھانسی دینے کا قانون پاس کرایا۔چند کو پھانسی پرچڑھا بھی دیا۔ ساری دنیا کی انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس ظلم کے خلاف آواز اُٹھائی ۔اسرائیل کو ظالم قرار دیا۔جب ایران نے پلٹ وار میں اسرائیل پر کلسٹر میزائیلوں کی بارش کر کے اسرائیل کے کئی شہر،ایٹمی شہر ڈیمونہ سمیت کھنڈر بنا دیے تو اسرائیل کے وزیر دفاع کہتے ہوئے سنا گیا کہ اسرائیل پر کلسٹر میزائیل مارنے بین الاقوامی قانون کے خلاف ہے۔ غزہ کو کھنڈر بنانیوالے کو اب بین الاقوامی قانون یاد آیا۔ اسرائیل میںجنگ کیخلاف ایک احتجاج میں ایک شہری نے ایک فوجی کی پٹائی کرتے ہوئے کہا تم لوگوں نے جنگ چھیڑ کر اسرائیل عوام کو مصیبت میں مبتلاکیا ہے۔ اسرائیل میں شہری جنگ بند کرنے اور نیتن کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہیں۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک میٹنگ میں اسرائیل کے وزیراعظم بن یمن نیتن یاہو کو کتا کہہ کر پکارا اور کہاکہ تم نے ہمیشہ امریکا کو سازش کر کے جنگوں میں ملوث کیا ہے۔ شاید ٹرمپ کا ا شارہ عراق، لیبیا، افغانستان کی جنگوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔ا یک سروے کے مطابق ا مریکی عوام نے اسرائیل اور امریکہ کی طرف سے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے پر اکسٹھ فیصد عوام نے غلطی قرار دیا۔ایک امریکی پروفیسر رابٹ پیب نے اپنی بیان میں کہاہے امریکہ لڑ کر ایران کو کبھی بھی ہرا نہیں سکتا۔ جنگ میں ایران کا پلڑا اتنا بھاری ہو گیا کہ امریکہ ایران سے مذاکرات کی درخواست کر رہا ہے۔ ایک امریکی جرنلسٹ ” اینا کسپرین” نے نیتن کو فلسطینیوں کی غزہ میں نسل کشی پر جنگی مجرم کہا ۔ اس نے ارادہ ظاہر کیا کہ وہ بار بار کسی کی پروا کیے بغیر ایسا کرتی رہے گی۔ اس نے ایک میڈیا تقریر کرتے ہوئے کہ اسرائیل امریکی عوام کے پیسے پرجنگی جراہم کرتا ہے جو مجھے نامنظور ہے۔ ایک امریکی معاشی ماہر نوبل انعام یافتہ نے امریکہ کو اسرائیل پر فلسطینیوں کو مارنے کیلئے اسلحہ فروخت کرنے کا الزام لگایا۔ یہودی ہمیشہ عیسائیوں سے نفرت کرتے رہے ہیں۔اسی لیے ایک اسرائیل فوجی نے لبنان میں حضرت عیسیٰ کے اسٹیچو کے منہ پرہتھوڑیا مارنے کی ویڈیو سوشل میڈیا میں وائرل ہوئی۔ایک ا مریکی اینکر نے چلاتے ہوئے ٹرمپ کو اسرائیلی کتا کہا اور نفرت کا اظہار کرتے ہوئے کہ تم ہمیں ایران سے مروائو گے۔ بادشاہ چارلس نے ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا اگر میں نہ ہوتا تو تم جاہل ہوتے ۔ امریکی اسمبلی میں ایک سینیٹر امریکی صدر پربرس پڑا تم فسادی ہو۔چائنہ سے معافی مانگو۔ امریکہ کے کسی شخص نے خفیہ میٹنگ میں امریکا کے نائب صدر”جے ڈی وینس” پر قاتلانہ حملہ کرکے امریکا کی اسرائیل پالیسی کے خلاف اپنا غصہ نکالا۔
(……جاری ہے)







تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں