معزز قارئین موت سے کسی کو مفر نہیں ۔اﷲ کی اس وسیع کائنات میں موت سے بڑی کوئی حقیقت نہیں ۔فرمودات حضرت علی کرم اﷲ وجہہ میں سے ہے کہ موت ایسی اٹل حقیقت ہے جو ہمیشہ ٹھہرائے ہوئے اندازے پر غالب آتی ہے اور جہاں حیات کا سفر کھینچ کر لے جاتا ہے وہی حیات کی منزل منتہا ہے ۔حضرت علی نے ایک جماعت کو ان کے مرنے والے کی تعزیت کرتے ہوئے فرمایا کہ اس موت کی ابتدا تم سے ہوئی اور نہ اس کی انتہا تم پر ہے ۔یہ تمہارا ساتھی (بسلسلہ تجارت) مصروف سفر رہتا تھا اب بھی یہی سمجھو کہ وہ کسی سفر پر ہے اگر وہ آ گیا تو بہتر ورنہ تم خود اس کے پا س پہنچ جائو گے ۔”ایک بار حضرت علی سے پوچھا گیا کہ آپ کا کیا حال ہے ؟تو آپ نے فرمایا کہ اس کا کیا حال ہو گا جسے زندگی موت کی طرف لے جا رہی ہو اور جس کی صحت بیماری کا پیش خیمہ ہو اور جسے اپنی پناہ گاہ سے گرفت میں لے لیا جائے ۔” حکیم سجاد احمد قادری مرحوم جنہیں مرحوم لکھنے کو جی نہیں چاہتا کی ذات فرمان جناب امیر پر پورا اترتی تھی کہ ”لوگوں سے اس طریقہ سے ملو کہ اگر مر جائو تو تم پر روئیں اور زندہ رہو تو تمہارے مشتاق رہیں ۔”قابل صد ستائش ہیں وہ لوگ جو مر کر بھی نہیں مرتے اور گزرجانے کے بعد بھی ان کی یادیں ،ان کی باتیں مستقبل کے انسانوں کی امانت بن جاتی ہیں ۔کسی کے دل میں رہنے سے بہتر بھی کوئی جائے قیام اس کائنات میں موجود ہے ۔جناب حکیم سجاد احمد قادری بھی اپنے چاہنے والوں کو چھوڑ کر بظاہر راہی ملک عدم ہو چکے ہیں لیکن ان کے دلوں اور دماغوں میں ان کی محبتیں جلوہ گر رہیں گی ۔معزز قارئین زندگی مسلسل ایک سفر کا نام ہے ۔اس سفر میں کئی منزلیں ہیں لیکن کوئی منزل آخری نہیں ہوتی ۔ہر منزل ایک نئی منزل کی نشاندہی کرتی ہے ۔زندگی کے سفر میں کئی ساتھی ملتے ہیں اور کئی بچھڑتے ہیں ۔مسافر کو کبھی نئے ساتھیوں کے ہمراہ پرانے راستوں سے گزرنا پڑتا ہے اور بعض اوقات وہ پرانے ساتھیوں کے ہمراہ ایک نئے راستے پر سفر کی تیاریاں شروع کرتا ہے ۔کئی ساتھی سدا ساتھ چلتے ہیں اور ہر دن یہ محبت اور پیار زوال کی بجائے شدت کی طرف گامزن رہتا ہے ۔راقم کا حکیم سجاد احمد قادری کے ساتھ رشتہ محبت و شناسائی تقریباً پچیس سال سے زائد عرصہ پر محیط تھا ۔حکیم سجاد احمد قادری صحافت کے حوالے سے بھی ضلع سیالکوٹ میںایک پہچان رکھتے تھے ۔ہیڈ مرالہ سے روزنامہ نوائے وقت سے وابستہ تھے ۔حکیم صاحب صحافت میں کسی صلہ کی تمنا کے بغیر سماج میں خوشیاں تقسیم کرنے اور عوام کی خدمت کیلئے صبح شام مصروف رہے ۔میرے یہی کرم فرما تھے جن کی کرم گستری ،راہنمائی اور حوصلہ افزائی سے راقم نے خار زار صحافت میں قدم رکھا اور مجھے ہر لمحہ لکھنے کی ترغیب دیتے رہے ۔معزز قارئین قدرت کی طرف سے ہر انسان کیلئے کچھ خصائص مختص ہوتے ہیں ۔ہر آدمی اچھا ادیب ،سیاستدان ،سیاح یا مورخ نہیں بن سکتا کیونکہ وہ ایسے شعبوں کیلئے فطری طور پر موزوں نہیں ہوتا ۔قدرت کی مہربانی سے ہی وہ اہل ہوتا ہے اور ایسے کاموں کیلئے منتخب کیا جاتا ہے ۔وہ انسان پوری توانائی ،تندہی اور جانکاہی کے ساتھ اپنی منزل موعودہ کی طرف قدم بڑھاتا چلا جاتا ہے اور پھر عوامی تحسین و ستائش کا مستحق ٹھہرتا ہے ۔یہی حال حکیم سجاد احمد قادری کا تھا ۔ان کی مثال ایک ماہر کوہ پیما کی تھی جو صرف اپنے سامنے برف میں پائوں رکھنے کی جگہ بناتا ہے اور نہ اوپر بلندیوں کی طرف دیکھتا ہے اور نہ نیچے گہرے کھڈ کی طرف نظر دوڑاتا ہے بلکہ مستقل مزاجی سے اپنی منزل کے حصول کی طرف گامزن رہتا ہے اور بلآخر کوہ گراں کو سر کر لیتا ہے ۔حکیم سجاد احمد قادری نے مختصر زندگی میں اتنے بڑے کام کئے ہیں کہ عقل حیرت زدگی کا شکار ہو جاتی ہے پاکستان میں اولیائے کرام کا شاید ہی کوئی مزار ایسا ہو جس کی زیارت سے حکیم صاحب محروم رہے ہوں ۔اولیائے کرام پر لکھا گیا ان کا ہر کالم بہت زیادہ وقت ،لامحدود فرصت اور محنت کا متقاضی تھا ۔حکیم سجاد احمد قادری نہ صرف ایک بہترین صحافی تھے بلکہ ایک مخلص درویش صفت انسان ،شفیق طبیب اور لوگوں کے دکھ درد بانٹنے والے ایک سچے ،کھرے ہمدرد انسان تھے ۔راقم اس حقیقت کا خود شاہد ہے کہ اس مادی دور میں کسی مریض سے بھی انہوں نے کبھی دوائی کیلئے پیسوں کا مطالبہ نہیں کیا ،اگر کسی نے کچھ ادا کر دیا تو لے لیا وگرنہ مفت میں ہی مریض دوائی لے کر چلا گیا ۔صرف اتنا کہا کہ دعائوں میں یاد رکھنا ۔ان کے مطب خانہ پر ہر وقت رونق اور میلہ کا سماں نظر آتا تھا ۔ان کی مجلس میں ہر شعبے ،ہر مذہب اور ہر مزاج کے لوگ آتے ۔ان کا دستر خوان ہر وقت سجا ہی دکھائی دیتا اور چائے کا دور جاری و ساری رہتا ۔اندر کی خوبصورتی ،سچائی ،سلامتی اور سکون نے ان کے چہرے پر آشتی اور طمانیت کا ایک غازہ بکھیر دیا تھا ۔بیورو کریسی ،صحافت ،سیاست ،تعلیم اور قانون سے متعلقہ اہم شخصیات اس آستانے کا رخ کرتیں ۔محبت ملائمت ،استقامت ،سچائی اور نرماہٹ سے گندھی ہوئی شخصیت ،ہونٹوں پر مسکراہٹ سجائے ہمیشہ استقبال کرتی ۔ان پر کبھی کوئی شکوہ ،گلہ رنج ،شکایت جگہ نہیں پاتی اور چہرے پر کبھی ناگواری ،کرب یا ناراضی کا کوئی سایہ نہیں ہوتا تھا ۔ہر ایک کی بات خوشدلی سے سننا اور محبت ،خیر اور سچائی کی دلیل سے مطمئن کرنا ان کا کام تھا ۔حالات حاضرہ سے لیکر عمرانیات ،دین سے لے کر تصوف ،نفسیات سے لے کر روحانیت اور ادب سے لیکر صحافت تک ہر موضوع پر سیر حاصل گفتگو ہوتی ۔ گرمی ہو یا سردی ،آندھی ہو یا بارش لوگوں کی آمدورفت کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہا ۔سرور بنکوی کا یہ شعر ان پر صادق آتا ہے
جن سے مل کر زندگی سے عشق ہو جائے وہ لوگ
آپ نے شاید دیکھے نہ ہوں ،مگر ایسے بھی ہیں






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں