شنگھائی تعاون تنظیم کا 26واں سربراہی اجلاس یکم ستمبر 2026 کو کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں اختتام پذیر ہوا تو اس کے ساتھ ہی پاکستان کیلئے ایک نئی سفارتی ذمہ داری اور اہم موقع بھی پیدا ہوگیا۔ اجلاس کے اختتام پر کرغزستان نے تنظیم کی سالانہ سربراہی پاکستان کے حوالے کردی اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے باضابطہ طور پر 2026-27 کیلئے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہِ اجلاس کی ذمہ داری سنبھال لی۔ 2017 میں تنظیم کا مستقل رکن بننے کے بعد پاکستان کیلئے یہ ایک اہم تاریخی سنگِ میل ہے، جو اس کے بڑھتے ہوئے علاقائی کردار اور فعال سفارتکاری کا عکاس ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف 31 اگست کو بشکیک پہنچے جہاں کرغزستان کی قیادت نے ان کا استقبال کیا۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے قیام کے پچیس سال مکمل ہونے کے موقع پر منعقد ہونے والے اس اجلاس کا موضوع تھا، شنگھائی تعاون تنظیم کے 25 سال – پائیدار امن، ترقی اور خوشحالی کی جانب مشترکہ سفر۔ یہ موضوع اس حقیقت کی ترجمانی کرتا ہے کہ موجودہ عالمی حالات میں علاقائی تعاون، اقتصادی روابط اور اجتماعی سلامتی پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہوچکے ہیں ۔ بشکیک میں ہونیوالے اس اہم اجلاس میں چین کے صدر شی جن پنگ، روس کے صدر ولادیمیر پوتن، بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی، ایران کے صدر مسعود پزشکیان، قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایف، تاجکستان کے صدر امام علی رحمان، ازبکستان کے صدر شوکت مرزیایوف،بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو اور میزبان ملک کرغزستان کے صدر سادیر جاپاروف سمیت رکن ممالک کے اہم رہنما شریک ہوئے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سمیت دیگر اہم شخصیات کی شرکت نے بھی اس اجلاس کی عالمی اہمیت کو اجاگر کیا۔ ان رہنمائوں کی موجودگی اس امر کی عکاس تھی کہ شنگھائی تعاون تنظیم آج ایک اہم علاقائی تنظیم کی حیثیت اختیار کرچکی ہے، جس کے رکن ممالک ایشیا کے ایک وسیع جغرافیائی خطے اور دنیا کی بڑی آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں۔اجلاس میں علاقائی اور عالمی سلامتی، دہشت گردی، اقتصادی تعاون، تجارت، توانائی، ٹرانسپورٹ، ماحولیاتی تبدیلی، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل معیشت جیسے اہم موضوعات زیر بحث آئے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ رکن ممالک کو علاقائی رابطہ کاری، تجارت، سرمایہ کاری اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو فروغ دینا ہوگا تاکہ مشترکہ ترقی اور خوشحالی کا خواب حقیقت کا روپ دھار سکے۔ پاکستان نے اپنی سربراہی کے دوران رابطہ کاری، جدت، سلامتی اور مشترکہ خوشحالی کو اہم ترجیحات میں شامل کرنے کا عندیہ دیا ہے۔پاکستان کیلئے یہ موضوعات اس لیے بھی اہم ہیں کیونکہ ملک جغرافیائی لحاظ سے جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرق وسطی کے سنگم پر واقع ہے۔ اگر علاقائی روابط کو فروغ دیا جائے تو پاکستان نہ صرف ایک اہم تجارتی راہداری کے طور پر اپنا کردار مضبوط بنا سکتا ہے بلکہ وسطی ایشیائی ریاستوں کیلئے بحیرہ عرب اور عالمی منڈیوں تک رسائی کا مثر ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری پہلے ہی اس وژن کی ایک عملی مثال ہے۔وزیراعظم شہباز شریف کے خطاب کا ایک اہم پہلو پانی کے مسئلے پر پاکستان کا واضح اور اصولی موقف تھا۔ انہوں نے پانی کو خطے کی زندگی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے کبھی سیاسی دبا یا جبر کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں ہونا چاہیے۔انہوں نے مشترکہ دریاں سے متعلق معاہدوں کو پابند بین الاقوامی ذمہ داریاں قرار دیتے ہوئے ان پر ان کی روح اور متن کے مطابق عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔ یہ موقف صرف کسی ایک ملک کیخلاف سیاسی بیان نہیں بلکہ بین الاقوامی قانون، معاہدوں کی پاسداری اور مشترکہ وسائل کے منصفانہ استعمال کے اصول کی نمائندگی کرتا ہے۔پاکستان کیلئے پانی زندگی اور معیشت کا بنیادی مسئلہ ہے۔ دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاں کا نظام ملک کی زراعت، خوراک، روزگار اور معاشی سرگرمیوں سے براہ راست وابستہ ہے۔ اس لیے آبی وسائل کے تحفظ کو پاکستان اپنی قومی سلامتی اور آنیوالی نسلوں کے مستقبل سے جوڑتا ہے۔اہم بات یہ ہے کہ وزیراعظم نے اس حساس مسئلے کو تصادم کی زبان کے بجائے قانون، معاہدوں کی پاسداری، مکالمے اور پرامن تنازعات کے حل کے اصولوں کے تحت پیش کیا۔ یہی ایک ذمہ دار ریاست کی سفارتکاری ہے۔اجلاس میں دہشت گردی، انتہاپسندی اور علیحدگی پسندی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے قیام کے بنیادی مقاصد میں علاقائی سلامتی اور استحکام کا فروغ شامل ہے اور پاکستان اس شعبے میں اپنے طویل تجربے اور قربانیوں کی بنیاد پر اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے یاد دلایا کہ پاکستان گزشتہ ڈھائی دہائیوں کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زیادہ انسانی جانوں کا نقصان برداشت کرچکا ہے جبکہ ملکی معیشت کو 150 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچا۔ یہ اعداد و شمار پاکستان کی قربانیوں کی ایک واضح تصویر پیش کرتے ہیں۔پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف جنگ صرف اپنے دفاع کیلئے نہیں لڑی بلکہ خطے اور عالمی برادری کو محفوظ بنانے کیلئے بھی بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف عالمی کوششوں میں ایک اہم تجربہ رکھنے والے ملک کی حیثیت سے اپنا اہم کردار ہے ۔ افغانستان کے حوالے سے بھی پاکستان کا موقف واضح ہے۔ پاکستان ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے، تاہم افغان سرزمین کو پاکستان یا خطے کے کسی دوسرے ملک کیخلاف دہشتگردی کیلئے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔وزیراعظم نے اسی اصولی موقف کو شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر اجاگر کیا۔پاکستان کی شنگھائی تعاون تنظیم کی سربراہی کا ایک نہایت مثبت پہلو علاقائی رابطہ کا ذریعہ ہے۔ پاکستان سمجھتا ہے کہ خطے کی حقیقی معاشی ترقی امن، استحکام اور باہمی روابط کے بغیر ممکن نہیں۔ جغرافیائی اعتبار سے پاکستان کو ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے ذریعے پاکستان چین، وسطی ایشیا اور بحیرہ عرب کے درمیان ایک اہم تجارتی اور اقتصادی پل بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔سڑکوں، ریلوے، توانائی کے منصوبوں اور تجارتی راہداریوں کی ترقی نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کیلئے نئے اقتصادی امکانات پیدا کرسکتی ہے ۔ وزیراعظم نے علاقائی رابطہ کاری، تجارت اور توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔اگر پاکستان اپنی سربراہی کے دوران ان منصوبوں کو عملی رفتار دینے میں کامیاب ہوتا ہے تو اس کے دور رس اقتصادی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ وسطی ایشیائی ریاستوں کیلئے پاکستان کی بندرگاہیں عالمی منڈیوں تک رسائی کا ایک اہم ذریعہ بن سکتی ہیں، جبکہ پاکستان خود بھی وسیع تر علاقائی تجارت سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔





تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں