مودی دور میں سکیورٹی اہلکار ذہنی دبائو کا شکار ہیں اور بھارتی فورسز میں خودکشیوں کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ بدترین ذہنی دبائو، گرتے مورال اور بڑھتی خودکشیوں کے واقعات بھارتی فورسز کی انتظامی ناکامیوں کی عکاسی کر رہے ہیں۔مودی حکومت کے دعوئوں کے برعکس بھارتی سکیورٹی اہلکاروں کی خودکشیوں نے حکومتی پالیسیوں پر سنگین سوالات اٹھا دیئے ۔ بھارتی جریدہ ڈیکن کرانیکل کے مطابق مالی مشکلات اور قرضوں کے بوجھ سے تنگ سی آر پی ایف کانسٹیبل پون کمار نے پھندا لگا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔بھارتی جریدہ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق بھارتی ریاست بہار کے کشن گنج کیمپ میں ڈیوٹی پر مامور 24 سالہ ایس ایس بی جوان نے سرکاری رائفل سے خود کو گولی مار کر خودکشی کی،قرض اور ذہنی دبائو کے شکار 24 سالہ یوپی پولیس کانسٹیبل آشیش ورما نے بھی ڈیوٹی کے دوران خود کو گولی مار کر جان دے دی۔لوک سبھا رکن چندر شیکھر آزاد کا کہنا ہے کہ 2021 سے 2025 تک 749 اہلکاروں کی خودکشیاں ظاہر کرتی ہیں کہ بھارتی جوان ملکی دفاع کی بجائے اپنے نظام کی خامیوں سے لڑ رہے ہیں،ذہنی دبائو سے دوچار بھارتی فورسز میں خودکشیوں کے بڑھتے رجحانات ادارہ جاتی بحران کی بھی نشاندہی کر رہے ہیں۔بھارت کی ریاستوں تلنگانہ اور بہار میں پیش آنے والے الگ الگ واقعات میں 2 پیرا ملٹری اہلکاروں نے مبینہ طور پر خودکشی کر لی، جس کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں کو درپیش ذہنی اور مالی دباؤ ایک بار پھر زیرِ بحث آ گیا۔ تلنگانہ کے شہر حیدرآباد میں سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے 30 سالہ کانسٹیبل گڈے پون کمار نے اپنی رہائش گاہ پر مبینہ طور پر خودکشی کر لی۔پولیس کو اطلاع دینے سے قبل اہلخانہ نے پون کمار کو گھر میں بے سدھ حالت میں پایا۔ پڑوسیوں کی مدد سے دروازہ توڑ کر انہیں باہر نکالا گیا۔ پون کمار شدید مالی دباؤ اور قرض کی ادائیگی نہ کر پانے کے باعث پریشان تھے۔دوسرا واقعہ بہار کے ضلع کشن گنج میں سشستر سیما بل (ایس ایس بی) کی 19ویں بٹالین کے کیمپ میں پیش آیا، جہاں ایک اہلکار نے مبینہ طور پر ڈیوٹی کے دوران اپنی سروس ریوالور سے خود کو گولی مار لی۔ واقعے کی فرانزک تحقیقات کی گئیں، جبکہ کیمپ میں موجود اہلکاروں سے بھی پوچھ گچھ کی گئی۔ ابتدائی شواہد خودکشی کی جانب اشارہ کرتے ہیں، تاہم واقعے کی اصل وجہ اور دیگر حالات جاننے کیلئے تحقیقات جاری ہیں۔یہ واقعات ایک بار پھر بھارت کی مسلح اور پیرا ملٹری فورسز کے اہلکاروں کو درپیش ذہنی دباؤ اور کام کے مسائل کی جانب توجہ مبذول کراتے ہیں۔ اہلکاروں کو اکثر پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے علاوہ امن و امان برقرار رکھنے، ہجوم پر قابو پانے، انتخابی ڈیوٹی، سیکیورٹی انتظامات اور انسدادِ شورش سمیت مختلف فرائض بھی انجام دینا پڑتے ہیں، جنہیں طویل اور مشکل تعیناتیوں کے ساتھ ذہنی و جسمانی تھکن کا سبب قرار دیا جاتا ہے ۔رپورٹس میں ان عوامل کی بھی نشاندہی کی گئی ہے جو سیکیورٹی اہلکاروں میں ذہنی دباؤ بڑھا سکتے ہیں، جن میں کام کا دباؤ، اعلیٰ افسران کی جانب سے مبینہ ناروا سلوک، ازدواجی مسائل اور مالی یا جائیداد سے متعلق تنازعات شامل ہیں۔بھارتی فوج کو میدانِ جنگ کے ساتھ ساتھ داخلی نظام، تربیت اور سکیورٹی کے شعبوں میں بھی سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، جبکہ خودکشیوں، تربیتی حادثات اور اسلحہ چوری کے حالیہ واقعات نے اس کے انتظامی اور سکیورٹی نظام پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔سابق بھارتی فوجی شیوانند ریڈی نے زمین کی الاٹمنٹ کے تنازع میں طویل تاخیر سے دلبرداشتہ ہوکر خودکشی کی کوشش کی۔ سابق فوجی گزشتہ بیس برس سے دفاعی اہلکاروں کیلئے مختص زمین کے حصول کیلئے کوشش کررہے تھے۔گزشتہ سال صرف بھارتی فوج کے ادارے سی آر پی ایف میں 59 اہلکاروں نے مایوسی اور ذہنی دبا کے باعث اپنی زندگیوں کا خاتمہ کیا۔بھارتی میڈیا نیوز 18 کے مطابق ریاست ہریانہ میں فوجی تربیتی مشق کے دوران پانچ بھارتی فوجی دریا میں بہہ گئے، جن میں سے دو تاحال لاپتہ ہیں۔ تربیتی مشق کے دوران فنی خرابی کے باعث کشتی پانی کے تیز بہا میں بہہ گئی۔بھارتی جریدے دی ہندو کے مطابق سکندرآباد میں فوجی تنصیب سے چار رائفلوں سمیت دیگر ہتھیاروں کی چوری نے سکیورٹی انتظامات پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ملزمان انتہائی سکیورٹی والے احاطے میں داخل ہوکر فوجی اسلحہ ذخیرہ کرنے کے مقام تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ان واقعات نے بھارتی فوج میں ناقص تربیت، کمزور سکیورٹی اور انتظامی خامیوں کے حوالے سے سوالات کو مزید نمایاں کردیا ہے۔مودی حکومت کے دعووں کے برعکس بھارتی سکیورٹی اہلکاروں کی خودکشیوں نے حکومتی پالیسیوں پر سنگین سوالات اٹھا دیے۔بھارتی جریدہ ڈیکن کرانیکل کے مطابق مالی مشکلات اور قرضوں کے بوجھ سے تنگ سی آر پی ایف کانسٹیبل پون کمار نے پھندا لگا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ بھارتی ریاست بہار کے کشن گنج کیمپ میں ڈیوٹی پر مامور 24 سالہ ایس ایس بی جوان نے سرکاری رائفل سے خود کو گولی مار کر خودکشی کی۔







تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں