بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 23.8°C
Wednesday, 07 October 2026 | پاکستان: 26 ر بیع الثانی 1448

بھارت چھٹی نسل کے طیارے خرید رہا ہے

Wednesday, 7 October, 2026

بھارت نے روایتی عسکری بالادستی اور خطے میں طاقت کا توازن بگاڑنے کی کوششوں کے تحت چھٹی نسل کے جدید جنگی طیاروں کے حصول اور بین الاقوامی پروگراموں میں شمولیت کیلئے باضابطہ کوششیں شروع کر دی ہیں۔بھارت نے اپنے دفاعی اداروں کے ذریعے فرانس کے زیرِ قیادتFCAS اور برطانیہ، اٹلی اور جاپان کے GCAP جیسے چھٹی نسل کے پراجیکٹس میں شمولیت یا رسائی کیلئے رابطہ کیا ہے۔ بھارتی پارلیمنٹ کی دفاعی کمیٹی نے وزارتِ دفاع کو ہدایت کی ہے کہ وہ فضائی برتری قائم رکھنے کے لیے چھٹی نسل کے طیاروں کے حصول کا لائحہ عمل فوری طور پر تیار کرے۔ ایک طرف چھٹی نسل کے حصول کی کوششیں ہیں تو دوسری طرف بھارت کا اپنا پانچویں نسل کاAMCA پراجیکٹ تاخیر کا شکار ہے، جس کی پہلی پرواز متوقع طور پر 2028ـ2029 تک متوقع ہے ۔ بھارتی فضائیہ خطے میں بالادستی کے نام پر دفاعی بجٹ کا بڑا حصہ غیر ملکی معاہدوں اور مہنگی ٹیکنالوجی پر جھونک رہی ہے جو خطے کے امن کیلئے ایک بڑا خطرہ ہے۔ بھارت نے اپنی فضائیہ کیلئے چھٹی نسل کے لڑاکا طیاروں پر کام کرنے کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ اس کے تیجس پروگرام کو طیاروں کی فراہمی میں مسلسل تاخیر، تکنیکی مشکلات اور تیاری کی رفتار سے متعلق سوالات کا سامنا ہے۔ بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ بھارت پانچویں نسل کے طیاروں سے آگے بڑھتے ہوئے چھٹی نسل کی لڑاکا طیارہ ٹیکنالوجی پر بھی کام کر رہا ہے۔ ہم صرف پانچویں نسل کے لڑاکا طیاروں پر ہی نہیں بلکہ چھٹی نسل کے لڑاکا طیاروں پر بھی کام کر رہے ہیں۔یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت پانچویں نسل کے اپنے مقامی ایڈوانسڈ میڈیم کومبیٹ ایئرکرافٹ کی تیاری کا ابھی آغاز ہی کر رہا ہے جس کے تقریباً ایک دہائی میں فعال ہونے کی توقع ہے۔نئی دہلی چھٹی نسل کے لڑاکا طیاروں کی ٹیکنالوجی کے حوالے سے برطانیہ، جاپان اور اٹلی کے اتحاد اور فرانس کے ساتھ بھی بات چیت کر رہا ہے۔بھارت کے موجودہ رافیل طیاروں کو عمومی طور پر 4.5 نسل کا طیارہ قرار دیا جاتا ہے جبکہ تیجس چوتھی نسل کا ہلکا لڑاکا طیارہ ہے۔ دوسری جانب تیجس Mk1A پروگرام ابھی تک مکمل طور پر فعال سروس میں شامل نہیں ہو سکا۔ بھارتی فضائیہ نے رواں ماہ کہا تھا کہ ان طیاروں میں انجن نصب کیے جا چکے ہیں اور آزمائش جاری ہے جبکہ آئندہ ایک یا دو ماہ میں انہیں فضائیہ میں شامل کیے جانے کی توقع ہے۔تاہم ریڈار اور ہتھیاروں کے انضمام سے متعلق مسائل اب بھی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ اس پروگرام کو بار بار تاخیر کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ بھارت کی جانب سے 2021 میں دیے گئے 83 تیجس Mk1A طیاروں کے پہلے آرڈر کی ستمبر تک فراہمی نہیں ہو سکی حالانکہ ابتدائی طور پر ان کی ترسیل 2024 میں شروع ہونی تھی۔ بھارتی فضائیہ اس وقت اپنی منظور شدہ تعداد کے مقابلے میں کم لڑاکا سکواڈنز کے ساتھ کام کر رہی ہے جس سے مقامی لڑاکا طیاروں کے پروگرام پر دبائو مزید بڑھ گیا ہے۔تیجس طیاروں کے بیڑے کو رواں سال کے آغاز میں عارضی طور پر گرائونڈ بھی کیا گیا تھا جب فروری میں رن وے پر پیش آنے والے ایک واقعے کے بعد بڑے پیمانے پر تکنیکی جانچ شروع کی گئی۔ بھارتی فضائیہ نے بعد ازاں اپریل میں تحقیقات مکمل ہونے کے بعد بیڑے کو دوبارہ پروازوں کے لیے کلیئر کر دیا۔ بھارتی فضائیہ اور ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ کی مشترکہ تحقیقات میں اس حادثے کی وجہ ایک سافٹ ویئر خرابی کو قرار دیا گیا۔اس پس منظر میں دفاعی ماہرین نے بھارت کی مستقبل کی چھٹی نسل کے لڑاکا طیاروں کی جانب پیش قدمی کے دعوے کی ساکھ اور وقت پر سوالات اٹھائے ہیں۔ بھارتی فضائیہ کے سابق نائب سربراہ ایئر مارشل ناگیش کپور نے سوال اٹھایا کہ اگر تیجس Mk2 کی بڑی تعداد میں شمولیت 2030 کی دہائی میں ہی ممکن ہوگی تو اس کی عملی اہمیت کیا ہوگی جبکہ یہ پروگرام مسلسل تاخیر کا شکار ہے۔ چوتھی نسل کے لڑاکا طیارے سے متعلق تکنیکی اور پیداواری مشکلات اور نئی دہلی کی جانب سے چھٹی نسل کی صلاحیت حاصل کرنے کے دعووں کے درمیان اس تضاد نے دفاعی مبصرین کی طرف سے تنقید کو جنم دیا ہے۔تاہم راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ بھارت آئندہ 10، 20 اور 25 برسوں میں جنگ کی بدلتی ہوئی نوعیت کیلئے تیاری کر رہا ہے۔ انہوں نے مقامی سطح پر طیاروں، ڈرون انجنوں اور ایرو سپیس پروپلشن ٹیکنالوجی کی تیاری کو بھارت کے طویل مدتی دفاعی منصوبوں کا حصہ قرار دیا۔بھارت نے اپنی بحری قوت کو عالمی سطح پر وسعت دینے کے لیے ایک بلیو واٹر نیوی تیار کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جو دنیا کے کسی بھی حصے تک کارروائی کی صلاحیت رکھتی ہو ۔ بھارتی بحریہ کا ہدف ہے کہ 2035 تک بیڑے کی تعداد 200 سے زیادہ جنگی جہازوں اور آبدوزوں تک پہنچائی جائے، جبکہ 2037 تک یہ تعداد 230 تک بڑھ سکتی ہے۔ فی الحال بھارتی نیوی کے پاس تقریباً 140 جنگی جہاز اور آبدوزیں ہیں، جن میں 17 ڈیزلـالیکٹرک آبدوزیں اور دو جوہری توانائی سے چلنے والی بالسٹک میزائل آبدوزیں شامل ہیں۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *