بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 25.5°C
Tuesday, 21 July 2026 | پاکستان: 7 صفر 1448

تبصرہ: کتاب سازشیں بے نقاب اور ایران جنگ

Tuesday, 21 July, 2026

میری لائبریری میں عرصہ ہوا ‘ سازشیں بے نقاب ‘کتاب کا اضافہ ہوا تھا۔یہ کتاب ٢٠٠٦ء میںکتاب گھرناظم آباد کراچی نے شائع کی ۔ مصروفیت کی وجہ سے مطالعہ اور تبصرہ نہ کر سکا ۔یہ کتاب یاسرمحمد خان کی مضامین پر مشتمل ہیں ۔ یاسر محمد خان کے یہ مضمون اخبار’ ضربِ مومن’ میں شائع ہوتے رہے ہیں۔اس کتاب کا انتساب’ خواب غفلت میںسوئے ہوئے مسلمانوںکے نام کیا جو یہ سمجھ رہے ہیںکہ آنکھیں بند کرنے سے دشمن مر جاتے ہیں۔’ کیا گیا۔ مضامین لکھنے کے بارے میں، اپنے امریکہ میں رہنے کے دوران، ان کی ایک امریکہ کٹر عیسائی صحافی سے دوستی اور اس کی طرف سے لکھی گئی ہمارے پیارے پیغمبرحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خاندانی زندگی پر کتاب کے نازیبا مندرجات پڑھنے کے بعد، اسلام اور پیغمبر ۖاسلام کے خلاف دشمنوںکی سازشوں کو بے نقاب کرنے کی مہم کا آغاز ان کالموں سے کیا۔کتاب پر تعارفی کلمات لکھتے ہوئے اور اسلام کی شیدائی اُویا مقبول جان کہتے ہیںاس مضامین سے لگتاہے، کہ یاسر محمد خان پکار پکار کر کہہ رہا ہے یہ کھائی ہے اِدھر سے بچو،یہ تیر ہے یہاں سے اُوٹ میں ہو جائو،یہ دشمن ہے اسے پہچانو، موت کی آغوش میں لڑھکتی امت مسلمہ کیلئے اس سے بڑی اُمید، اس سے بڑا سہارا اورکیاہو سکتا ہے؟۔کالم نگارکتاب کے پہلے مضمون میں لکھتے ہیںدنیا کو امریکا چلا رہا ہے اور امریکا کو پچاسیادارے چلا رہے ہیں۔ ان کی تحقیق کے مطابق اس میں چون ادارے یہودیوں کے ہیں۔گویا دنیا کی ساٹھ فیصد طاقت یہودیوں کے پاس ہے۔ لکھتے ہیں ادارہ ‘ناسا ‘کا سربراہ یہودی ہے۔’ورلڈ بنک ‘جس سے دنیا کے١٧٦ ملک قرض لیتے ہیں ،کا سربراہ یہودی ہے۔’وال اسٹریٹ’ ادارہ کاسربراہ یہودی ہے ۔ ‘مائیکرو سافٹ’ ادارے کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں یہودی موجود ہیں۔امریکی الیکٹرونک اورپرنٹ میڈیا پورے کا پورا یہودیوں کی ملکیت میں ہے۔چناچہ شروع دن سے وائٹ ہائوس ان کی سازشیوں کا گڑھ رہا ہے۔صدر بل کلنٹن دور کی بات کریں تووزیر خا رجہ میڈیلن ابرائٹ یہودی، وزیر دفاع ولیم کوہن یہودی،وزیر خزانہ لارسن سمرزیہودی،وزیر زراعت ڈینکر سین یہودی ، نیشنل سیکورٹی کاسربراہ سینڈلبرگریہودی ، بلکہ پوری انتظامی میں سارے کڑ یہودی ہیں۔ گویاتین فیصد یہودی ستانویں فیصد پر حکومت کر رہے ہیں۔راقم !اس وقت ٹرمپ کے وزیروں مشیروں میں بھی یہود یوں کی ہی اکثریت ہے۔ اس پرراقم کو شاعر اسلام علامہ اقبال کا صدی پہلے لکھا شعر یاد آیا، فرماتے ہیں:۔
تیری دوا نہ جینیوا میں ہے نہ لندن میں
فرنگ کی رگ جاں قبضہ یہود میں ہے
ایک مضمون میں لکھتے ہیں، جاپان پر امریکا کے بم گرانے کے بعد ١٩٤٥ء تک ١٠٧ جنگیں ہوئیں۔ سب کے پیچھے امریکا کا ہاتھ ہے۔دنیا میں اسلحہ کی صنعت میں تین چوتھائی حصہ امریکا کا ہے۔اگر دنیا میں امریکا جنگیں نہ کرتا اور نہ کرواتا توامریکی اسلحہ کی مارکیٹ تباہ ہو جاتی۔ کالم نگار ایک مضمون’امریکا افغانستان میں کیوں آیا’ کی تفصیل کچھ اس طرح ہے۔افغانستان میں جہاد سے ریشا کو شکست ہوئی تھی ۔اس کے بعد طالبان نے قندھار کے ملا محمدعمر مجاہد کواپنا امیر مان کر’ اسلامی ‘امارات افغانستان’ کی بنیاد رکھی۔ اس کے بعد وار لارڈ سے اسلحہ حکومت نے اپنے قبضہ میں لے لیا۔ قاضی عدالتوںنے فوری انصاف کی فیصلے کرنا شروع کر دیے۔ملک میں امن و امان ہو گیا۔ پوست کی کاشت ختم ہو گئی۔ یہ اسلامی خلافت امریکا کو نا منظور تھا ۔کیوں کہ نصاریٰ نے جب’ اسلامی عثمانی خلافت ‘ختم کرکے اپنے ٹائوٹ کمال پاشا کے ذریعے سیکولر حکومت ختم کی تھی، تو اس وقت برطانیہ کے وزیر دفاع’ سٹیفن والش’ نے اعلان کیا تھا کہ دنیا میں کہیںبھی مسلمانوں کو اب ‘اسلامی خلافت’ قائم نہیں کرنے دیں گے۔ یہ بات امریکیوں کو یاد تھی۔امریکا نے ڈکٹیٹر پرویز مشرف بزدل کمانڈو کی لاجسٹک سپورٹ ٧اکتوبر ٢٠٠١ء میں افغانستان حملہ کرکے طالبان کی ‘اسلامی امارت افغانستان’ ختم کر دی۔یہودیوں کے ساتھ مل ورلڈٹریڈ سنٹر پر خود حملہ کروا کے، اسے شیخ اُسامہ بن لادن کے ذمہ لگا کر، امریکا نے مسلم دنیا کے پانچ کھرب ڈالر کے تیل کے ذخیروں پر قبضہ کرلیا۔مگر اللہ جسے بچائے اسے کون ختم کرسکتا ہے ۔ بیس سال ظلم ، وحشت، سفاکیت اورہر قسم کے جدید اسلحہ کے استعمال کے باوجود افغانیوں کے دلوں سے اسلام کو نہیں نکال سکا۔ پھر٢٠٢٠ء میں شکست کھا کر دوحہ معاہدے پر اپنا سارا اسلحہ چھوڑ کر افغانستان سے نکل گیا۔ ایک مضمون میں بھارت اسرائیل کے تعلقات پر لکھتے ہیںوالٹر ایٹن اسرائیلی وزرات خارجہ کے ڈاریکٹر جنرل نے ١٩٥٢ء میں بھارت کادورہ کیا۔ نہرو نے تعلقات سے انکار کیا۔١٩٤٨ء میں نہرو نے کہاکہ پاکستان کی طرح اسرائیل مذہبی ریاست ہے۔گاندھی اور نہرو نے کہا فلسطین ،فلسطینیوں کا اسرائیل کی مذہبی ریاست بننے سے مشرق وسطی پار اپارا کر دے گا۔یہ سب کچھ عربوں کے تیل اور وہاں نوکریوں کی وجہ سے تھا۔چالیس سال بعد بھارت نے اسرائیل سے تعلقات قائم کرکے دنیا کوحیران کر دیا۔بھارت شروع سے اسرائیل کاساتھ ہے عربوں اور روس کی وجہ سے چادر کے نیچے چھپائے رکھا ۔ اسرائیل کشمیر کنٹرول کرنے کیلئے بھارت کی مدد کرتارہا ہے۔ حتیٰ کہ بھارت سے ملکر پاکستان کی ایٹمی انسٹالیشن پرحملے کے پروگرام بھی بنائے۔حالیہ پاکستان بھارت جنگ سے بھی ثابت ہو چکاہے ۔نیتن کا انٹرویونیٹ پر موجود ہے کہ پاکستان ایران ہمارے دشمن ہیں۔ایک مضمون ‘اب کس کی باری ہے’نومبر ٢٠٠٢ء میں امریکی صدر بش نے فرمان جاری کیا ایران، عراق اور شمالی کوریا برائی کی جڑیں ہیں۔ہمیں ان سے نمٹنا ہو گا۔اس فرمان کے بعد عراق پرکیمیا ئی ہتھیاروںکا الزام لگا کرامریکاچڑھ دوڑا۔عراق پر اتنا بارود پھینکا گیا کہ امریکی سائنس دانوں کے مطابق اگلے بیس برس تک عراق کے تمام پھلوں ،سبزیوںاور پانی کے ذخائر میں زہریلے مادے شامل رہیں گے۔ ایران اور امریکا کبھی دوست تھے۔فارسی کے بجائے انگریزی ایران کی سرکاری زبان تھی۔امریکی لباس،کوٹ، پتلون، ٹائی، منی اسکرٹ عوام کا لباس تھا۔پانی کی طرح شراب دستیاب تھی، رقص گاہیں تھیں، شاہ ایران نے حکم دیا کہ ایران کے اندر سارے امریکی باشندوں کو سفارتی حیثیت حاصل ہے ۔ سارے امریکوں کی گاڑیوںکے سفارتی نمبر پلیٹ تھے۔کہیں کچھ جرم کرتے ، امریکی شناختی کارڈ دکھاتے تو پولیس سیلوٹ کرتی۔سی آئی اے ایران کے دفتر سے برصغیر ، چین، سویٹ یونین اورخلیجی ریاستوں کی جاسوسی کرتے۔پھر ١١ فروری١٩٧٩ء کوخمینی نے انقلاب برپا کیا ۔ شاہ ایران خاندان سمیت بھاگ گیا۔شاہ کے حامیوں کو پھانسیوں پر چڑھا دیا گیا۔٤ نومبر ١٩٧٩ء کو امریکی سفارت خانے پر قبضہ کر لیا گیا۔امریکا کے سارے اثاثے ضبط کر لیے گئے۔١٩٩٥ء میں امریکا نے ایک سازش کے ذریعے ایران پر اپنے لبنان میں قتل اور زخمی ہونے والے شہریوںکے مقدمے اپنے عدالتوںمیں قائم کر کے ایران پر خون بہا کے بھاری جرمانے لگوائے۔دوسری طرف ٣ جولائی ١٩٨٨ء کوایک میزائل داغ کر ایران مسافر طیارہ مار گرایا جس میں٢٤٨ مسافر ہلاک ہوئے۔ ایران عالمی عدالت انصاف گیا۔ عدالت نے امریکاپر جرمانہ لگایا۔ امریکا نے غیر ایرانیوں کا معاوضہ تو دے دیا مگر ایرانی شہریوںکا نہیں دیا۔ ایران پر حملے کا امریکا نے یہ بہانا بنایا کہ ہمارے مرنے والوں کوایران غریب ہونے کی وجہ سے معاوضہ ادا نہیںکر سکتا، لہٰذا ایران پر حملہ کر کے اس کے تیل کے ذخاہر پر قبضہ کر کے ا پنے مرنے اور زخمی ہونیوالے شہریوں کاخون بہا وصول کریگا ۔ مضمون کے آخر میں لکھتے ہیں کہ یہ طے ہو چکا تھا کہ افغانستان کے بعد عراق،اس کے بعد لیبیا اور اس کے بعد ایران ۔ افغانستان ،عراق، لیبیا تو بھگت چکے۔ اس کے بعد ایران کی باری تھی۔ ایران کے بعد پاکستان کے باری ہے۔ عالمی سیاست کا ایک معمولی طالب علم کو بھی یہ معلوم ہے۔ مگر کیا کیا جائے ہمارے مسلمان حکمرانوں کے دماغ میں یہ بات نہیں آ رہی۔ وہ امریکہ کے دم چھلے بنے ہوئے ہیں۔اوپر کی تفصیل سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر کہ یہ بیان کے مسلم ملکوں کے خلاف ساری جنگیں نیتن نے کرائی ہیں۔مطلب یہودیوں کا ہاتھ ہوتا ہے ۔ قرآنی (آیت المائدہ ۔٥١)’ اے ایمان والو! یہود و عیسائیوں کو اپنا دوست نہ بنائو۔ یہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں’۔ راقم !قدرت کا کرنا کہ ٧اکتوبر ٢٠٢٣ء کوحماس طوفان اقصیٰ کا قہر اسرائیل پر ڈھا دیا۔ایران نے اپنی پراسکیز، یمن کے حوثی،لبنان کے حزب اللہ اوردیگر سے غزہ جنگ میں کھل کر فلسطینیوں کی مددکی۔نیتن اور ٹرمپ نے مل کر ایران پر حملہ کر دیا۔جہاںپھر اللہ کی مدد آئی اسرائیل امریکی کو شکست فاش ہوئی۔ ایرانیوں فتح نصیب ہوئی۔ دونوں فیس سیونگ کیلئے بہانے تلاش کر رہے ہیں۔ چودہ نکاتی ایم او یوپر جنگ بندی ہوتی ہے۔ پھر جنگ شروع ہوئی ہے ۔ مکمل شکست یہود نصاریٰ کی قسمت میں لکھی ہے۔ اللہ ایران کو فتح نصیب کرے گا۔امریکا میں ٹریڈ سنٹر کے بہانے جو مسلم دنیا کے تیل کے ذخائر پر قبضہ تھا وہاں سے قبضہ ختم ہو گا۔عرب ملکوں سے امریکی اڈے ختم ہوں گے۔ایران لڑائی میں ہی یہود کو شکست ہو گی ۔ حدیث کے مطابق فلسطینی زمین کا ہرپتھر اورشجر کہے گایہودی یہاں چھپا ہے اسے قتل کرو۔ان شاء اللہ

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *