بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi °C
Wednesday, 26 August 2026 | پاکستان: 14 ر بیع الاول 1448

تبصرہ کتاب فیضانِ اقبال

Tuesday, 28 April, 2026

اصل وجہ یا بیاد میرے نزدیک یہ ہے کہ یہ ایک ایسا مجموعہ ہے جس میں بڑی کوشش اور محنت سے اصل حقیقی اقبال کو ہمارے سامنے پیش کیا گیا ہے۔اقبال جہاں خود اپنے الفاظ کے آئینے میں جلوہ گر ہے ۔ یہ” تزک اقبال” ہے یا ذہن اقبال کی تصویر کے موقلم سے! بظاہر یہ کام آسان معلوم ہوتا ہے لیکن آسان نہیں۔ اس کیلئے عشق کی ضرورت ہے۔
حصہ خود آگاہی:۔میرا کلام باقی رہے گا۔ اقبال کے سیکڑوں افکار درج کیے ہیں ان میں سے چند:۔”حیات ابدی”مصنف نے اقبال کے چند جواہر پارے کتاب صفحہ ٤٤ کے حوالے سے لکھا”میرا کلام باقی رہے گا۔عطیہ بیگم کے نام ١٩٠٩ء میں لکھتے ہیں” وہ خیالات جو میری روح کی گہرائیوں میں طوفان بپا کئے ہوئے ہیں، عوام پر ظاہر ہو جائیں تو مجھے یقین ہے کہ میری موت کے بعد میری پرستش ہو گی ۔ ”رہنمانہ ہیرو”میں کسی جماعت کارہنما نہیں، نہ کسی رہنما کا ہیرو ہوں، میں نے اپنی زندگی کا پیشتر حصہ اسلام، اسلامی فقہ، سیاست، تہذیب، تمدن، اور ادبیات کے مطالعہ میں صرف کیا ہے۔
حصہ علم آگہی:۔ علم کی ابتدا محسوس سے ہوتی ہے۔”قرآن کی تعلیم” جن لوگوں نے کہا کہ ہر مسلمان بچہ کی تعلیم کا آغاز کلام مجید سے ہونا چاہیے وہ ہمارے مقابلہ میں ہماری قوم کے ماہیت و تربیت سے زیادہ باخبر تھے۔
حصہ فکر و نظر:۔ قومیں فکر سے محروم ہو کر تباہ ہو جاتی ہیں۔”ماحول اورانقلاب”زندگی اپنے ماحول میں کسی قسم کا انقلاب پیدا نہیں کر سکتی جب تک کہ پہلے اس کی اندرونی گہرائیوں میں انقلاب نہ ہو اورکوئی نئی دنیا خارجی وجوداختیار نہیں کر سکتی جب تک کہ اس کا وجود پہلے انسانوں کے ضمیر میں متشکل نہ ہو۔
حصہ خودی:۔ جورہی خودی تو شاہی نہ رہی تو روسیاہی۔”خودی” جو فعل خودی کو مستحکم کرے وہ حسین ہے جو خودی کو ضعیف بنائے وہ قبیح ہے۔
حصہ صحبتِ رفتگان:۔ دل ما بید لاں بُر دند ورفتند۔”شاہ ولی اللہ” ہمارا فرض ہے ماضی سے اپنا رشتہ منقطع کئے بغیر اسلام پر بحیثیت ایک نظام فکر از سر نو غور کریں۔ غالباًً یہ شاہ ولی اللہ دھلوی تھے جنہوں نے سب سے پہلے ایک نئی روح کی بیداری محسوس کی۔
حصہ:۔ قرآن و اسلام۔الکم اللہ الملک اللہ۔”قرآن کے الفاظ و مطالب الہی ہیں” فارمن کرسچین کالج کے پرنسپل ڈاکٹر لوکس نے پوچھا: آپ کے نذدیک آپ کے نبیۖ پر قرآن کا مفہوم نازل ہوا تھا جسے وہ اپنے الفاظ میں بیان کرتے یا الفاظ ہی نازل ہوئے تھے؟ فرمایا؛ میرے نذدیک قرآن کی عبارت عربی زبان میںحضورۖ پر نازل ہوتی تھی۔، قرآن کے مطالب ہی نہیں الفاظ بھی الہی ہیں۔ڈاکٹر لوکس نے کہا:میری سمجھ میں نہیں آتا، آپ جیسا عالی دماغ فلسفی الہام لفظی پر کیوں اعتقاد رکھتا ہے۔ فرمایا: میں اس معاملہ میں کسی دلیل کا محتاج نہیں، مجھے خود اس کا تجربہ ہے۔میں پیغمبر نہیں، شاعر ہوں۔ شعر کہنے کی کیفیت طاری ہوتی ہے تو بنے بنائے اور ڈھلے ڈھلائے شعر اُترنے لگتے ہیں۔ انہیںبعینہہ نقل کر لیتا ہوں ۔ اگر ایک شاعر پر پورا شعر نازل ہو سکتا ہے تو اس میں تعجب کیا، آنحضرت صلہ اللہ علیہ وسلم پر قرآن کی پوری عبارت لفظ بہ لفظ ہوتی تھی۔
حصہ:۔تصوف۔تصوف دین نہیں فلسفہ ہے۔” تصوف ”۔اس میں ذرا شک نہیں کہ تصوف کا وجودہی سر زمین اسلام میں ایک اجنبی پودا ہے، جس نے عجمیوںکی دماغی آب و ہوا میں پرورش پائی ہے۔حوالہ سید سیلمان ندوی کے نام۔”تصوف کا مذہبی پہلو” مذہبی پہلو سے دیکھاجائے تو تصوف عبارت ہے اس بغاوت سے جو فقہائے متقدین کی لفظی حیلہ تراشیوں کے خلاف پیدا ہوئی۔حوالہ پانچواں خطبہ تشکیل جدید الہیات اسلامیہ صفحہ ٢٣١۔”تقلید” میں مثنوی مولانا روم کی تفسیر میں مولانا اشرف علی تھانوی کا مقلد ہوں۔
حصہ:۔ تاریخ و سیاست۔ صنم کدہ ہے جہاں لا الہ الا اللہ۔”اسلام” ایک سبق جو میں نے تاریخ اسلام سے سیکھا ہے۔ یہ ہے کہ صرف اسلام تھا ۔جس نے آڑے وقتوں میں مسلمانوں کی زندگی کو قائم رکھا، نہ کہ مسلمان ۔ ”پان اسلام ازم” پان ازم ایک باطل اصطلاح، جسے یورپ کے سیاست دانوں نے عالم اسلام کے خلاف ریشہ د وانیوں اور فتنہ انگیزیوں کیلئے وضع کیا ہے ۔
حصہ:۔ قادیانیت۔ قادیانی اسلام کے غدار ہیں۔”ختم نبوت”ختم نبوت کے معنی یہ ہیں کہ کوئی شخص بعد از اسلام اگر یہ دعویٰ کرے کہ مجھ میں ہر دو اجزاء نبوت کے موجود ہیں۔یعنی یہ کہ مجھے الہام وغیرہ ہوتا ہے اور میری جماعت میں دا خل نہ ہونے والا کافر ہے۔ تو وہ شخص کذاب ہے اور واجب القتل ہے۔ مسیلمہ کذاب کو اسی بنا پر قتل کیا گیا تھا۔
علامہ ڈاکٹر سر شیخ محمد اقبال اتحاد کے امت کے داعی تھے۔ ساری زندگی قومیتوں میں تقسیم ،مسلمانوں کو قرآن و حدیث پربلاتے رہے۔ اپنی ساری عمر مسلمانوں کو ایک نکتے پر جمع کرنے کیلئے وقف کر دی تھی۔مسلمان رہتی دنیا تک علامہ اقبال کے افکار سے ہدایت لیتے رہیں گے۔جو کہتے ہیں:۔
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر
اس کتاب کا مطالعہ اقبال کو چاہنے والوں کیلئے مفیدہے۔اللہ مسلمانوں کو اتحاد واتفاق نصیب فرمائے ۔آمین۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *