پاکستان اس وقت جن سنگین سماجی مسائل سے دوچار ہے، ان میں نوجوان نسل اور طلبہ میں منشیات کا بڑھتا ہوا استعمال نہایت تشویش ناک اور خطرناک صورت اختیار کر چکا ہے۔ یہ مسئلہ اب صرف جامعات اور کالجوں تک محدود نہیں رہا بلکہ پرائمری اور مڈل سطح کے طلبہ، حتیٰ کہ جماعت ششم اور ہفتم کے طلبہ بھی اس لعنت کی زد میں آ چکے ہیں۔ گلگت سے کراچی، لاہور سے کوئٹہ تک ملک کے تقریباً تمام بڑے اور چھوٹے شہروں کے تعلیمی اداروں میں منشیات کی دستیابی اور استعمال ایک تلخ حقیقت بن چکی ہے۔ یہ صورت حال نہ صرف والدین اور اساتذہ کیلئے باعثِ تشویش ہے بلکہ پوری قوم کے مستقبل کیلئے ایک بڑا خطرہ ہے۔نوجوان کسی بھی قوم کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ اگر یہی نسل منشیات کی لت میں مبتلا ہو جائے تو نہ صرف انفرادی بلکہ اجتماعی سطح پر تباہی ناگزیر ہو جاتی ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ تعلیمی ادارے، جو علم، تربیت اور کردار سازی کے مراکز سمجھے جاتے ہیں بعض مقامات پر منشیات فروش عناصر کی سرگرمیوں کا مرکز بنتے جا رہے ہیں۔ منشیات کے ذہنی اور نفسیاتی اثرات زیادہ خطرناک ہیں ۔ نشے کے عادی طلبہ اکثر ڈپریشن، اضطراب، بے چینی، ذہنی تنا، وہم، خوف اور شخصیت کے بگاڑ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بعض صورتوں میں خودکشی کے رجحانات بھی پیدا ہوتے ہیں۔ خاندان معاشرے کی بنیادی اکائی ہے، لیکن منشیات اس اکائی کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہیں ۔ جب کوئی نوجوان نشے کا عادی ہوتا ہے تو گھر میں تنازعات، جھگڑے اور عدم اعتماد پیدا ہوتے ہیں۔ والدین ذہنی اذیت اور معاشی مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بعض نوجوان نشے کی ضرورت پوری کرنے کیلئے گھروں سے چوری، جھوٹ اور دیگر غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہو جاتے ہیں جس سے خاندانی نظام شدید متاثر ہوتا ہے۔سماجی سطح پر بھی منشیات کی لعنت پورے سماجی تانے بانے کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ نشے کی وجہ سے جرائم، چوری، ڈکیتی ، تشدد اور دیگر سماجی برائیاں فروغ پاتی ہیں۔ منشیات معاشرتی اقدار، اخلاقیات اور اجتماعی ذمہ داری کے احساس کو کمزور کر دیتی ہیں۔ اگر نوجوان نسل اخلاقی اور سماجی زوال کا شکار ہو جائے تو معاشرے کی بنیادیں متزلزل ہو جاتی ہیں۔قومی اور معاشی سطح پر بھی منشیات کے تباہ کن اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ منشیات کے عادی افراد پیداواری سرگرمیوں میں مثر کردار ادا نہیں کر سکتے۔ نتیجتا قومی پیداوار میں کمی، صحت کے اخراجات میں اضافہ اور جرائم کی روک تھام پر اضافی وسائل صرف کرنا پڑتے ہیں۔ ایک کمزور اور غیر صحت مند نوجوان نسل ملک کی ترقی کی رفتار کو سست کر دیتی ہے۔ ترقی یافتہ اقوام اپنی نوجوان نسل میں سرمایہ کاری کرتی ہیں جبکہ منشیات زدہ معاشرے اپنے مستقبل کو خود تباہ کرتے ہیں ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر منشیات اتنی آسانی سے دستیاب کیوں ہیں؟ اس کے کئی اسباب ہیں۔ سرحدی علاقوں سے منشیات کی اسمگلنگ ، قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی بعض سطحوں پر کمزوری یا بدعنوانی، غیرموثر نگرانی، منشیات فروش مافیا کا مضبوط نیٹ ورک اور سماجی بے حسی اس مسئلے کو بڑھا رہی ہے۔ بعض تعلیمی اداروں کے اطراف منشیات فروش عناصر سرگرم رہتے ہیں جبکہ جدید ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کے ذریعے بھی نوجوانوں تک منشیات پہنچائی جا رہی ہیں ۔ اس مسئلے پر قابو پانے کی ذمہ داری صرف حکومت یا قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی ہے۔والدین سب سے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اساتذہ اور تعلیمی اداروں کی ذمہ داری بھی انتہائی اہم ہے۔ اسکولوں اور کالجوں میں کونسلنگ مراکز قائم کیے جائیں، طلبہ کیلئے آگاہی پروگرام منعقد کیے جائیں اور مشکوک سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جائے۔ تعلیمی اداروں کے اطراف نگرانی کا موثر نظام قائم کیا جائے اور ادارہ جاتی سطح پر زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کی جائے ۔پولیس اور انسدادِ منشیات فورس کو مزید فعال اور موثر بنانے کی ضرورت ہے۔ تعلیمی اداروں کے گردونواح میں خصوصی آپریشن کیے جائیں، منشیات فروش نیٹ ورکس کو توڑا جائے اور منشیات کے کاروبار میں ملوث عناصر کو سخت سزائیں دی جائیں۔قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے درمیان بہتر رابطہ اور انٹیلی جنس شیئرنگ کو یقینی بنایا جائے تاکہ منشیات کے پورے نیٹ ورک کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔ قانون سازی کے میدان میں بھی موثر اقدامات ناگزیر ہیں۔ منشیات فروشی، خصوصا تعلیمی اداروں کے اندر یا اطراف منشیات کی ترسیل کو سنگین جرم قرار دے کر سخت ترین سزائیں مقرر کی جائیں۔ پارلیمان کو موجودہ قوانین کا ازسرِنو جائزہ لے کر انہیں مزید مثر اور قابلِ عمل بنانا ہوگا۔ دنیا کے کئی ممالک نے منشیات کی اسمگلنگ اور بڑے پیمانے پر منشیات فروشی کیخلاف انتہائی سخت قوانین نافذ کر رکھے ہیں ۔ مثال کے طور پر، سعودی عرب میں منشیات کی اسمگلنگ اور بڑے پیمانے پر منشیات کی تجارت سنگین جرائم میں شمار ہوتی ہے اور بعض مقدمات میں سزائے موت دی جاتی ہے۔ چین میں بھی منشیات کی اسمگلنگ کو ریاست اور معاشرے کیخلاف سنگین جرم تصور کیا جاتا ہے اور قانون کے تحت سزائے موت سمیت سخت سزائیں دی جاتی ہیں۔ ملائیشیا میں بھی طویل عرصے تک منشیات کی اسمگلنگ کے بعض جرائم کیلئے لازمی سزائے موت کا قانون موجود رہا، اگرچہ حالیہ برسوں میں بعض قانونی اصلاحات متعارف کروائی گئی ہیں۔ اسی طرح سنگاپور، ایران اور انڈونیشیا میں بھی منشیات کی بڑے پیمانے پر اسمگلنگ اور تجارت کیخلاف انتہائی سخت سزائیں نافذ ہیں۔ ان مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ دنیا کی متعدد ریاستیں نوجوان نسل اور سماجی ڈھانچے کے تحفظ کیلئے منشیات کے جرائم کے خلاف سخت قانونی اقدامات کو ضروری سمجھتی ہیں۔ اسکے ساتھ ساتھ قومی سطح پر جامع آگاہی مہمات شروع کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں، والدین اور اساتذہ کو منشیات کے نقصانات سے آگاہ کیا جائے۔ مذہبی رہنما، سماجی تنظیمیں،ماہرینِ نفسیات اور سول سوسائٹی بھی اس قومی جدوجہد میں فعال کردار ادا کریں ۔ مختصراً، تعلیمی اداروں میں منشیات کا پھیلائو پاکستان کے مستقبل کیلئے ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ اگر بروقت اور سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو ہم اپنی نوجوان نسل کو کھو بیٹھیں گے ۔ اس مسئلے کا حل صرف قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے پاس نہیں بلکہ یہ ریاست، والدین، اساتذہ، میڈیا اور معاشرے کے تمام طبقات کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ایک محفوظ، صحت مند اور منشیات سے پاک تعلیمی ماحول ہی ایک مضبوط، ترقی یافتہ اور خوشحال پاکستان کی ضمانت بن سکتا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اجتماعی طور پر اس لعنت کے خلاف جدوجہد کریں تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک روشن اور محفوظ مستقبل فراہم کیا جا سکے۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں