اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے کہ مالی وسائل کی کمی باصلاحیت بچوں کی ذہنی صلاحیتوں کو نکھارنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے،وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ دانش سکول کا قیام غریب اور مستحق بچوں کو معیاری تعلیم کے مساوی مواقع فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔وفاقی دارالحکومت میں ایک دانش سکول کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ پاکستان تمام شہریوں کیلئے ہر شعبے میں معیاری اور قابلِ رسائی مواقع کو یقینی بنائے بغیر اپنی اصل منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خیبر پختونخوا سے لیکر گلگت بلتستان تک ہر بچے کو معیاری تعلیم سے آراستہ ہونا چاہیے ۔ وزیرِاعظم کے یہ ریمارکس قابلِ فہم ہیں کیونکہ پاکستان میں پانچ سے سولہ سال کی عمر کے پچیس اعشاریہ ایک سے چھبیس اعشاریہ دوملین بچے سکول جانے سے محروم ہیں جو کہ اسکول جانے کی عمر والی آبادی کا تقریبا پینتیس فیصد سے اڑتیس فیصد بنتا ہے۔ اس کے نتیجے میں پاکستان دنیا میں سکول نہ جانیوالے بچوں کی سب سے زیادہ تعداد رکھنے والے ممالک میں شامل ہو گیا ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جس وقت وزیرِ اعظم معیاری تعلیم تک رسائی نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کر رہے تھے اسی دوران گلگت بلتستان کے وزیرِ اعلی امجد حسین نے انکشاف کیا کہ صرف گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں ہی پچپن ہزاربچے اسکول نہیں جا رہے۔ انہوں نے ایک خوش آئند اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ دور دراز وادیوں میں بچوں کی تعلیم تک مساوی رسائی کو یقینی بنانے کیلئے گھر پر قائم سکولوںکو سرکاری تعلیمی نظام میں شامل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ غربت اور معاشی مشکلات اسکول نہ جانیوالے بچوں کی اتنی بڑی تعداد کی بنیادی وجوہات میں سے ایک ہیں ۔ کم گھریلو آمدنی کی وجہ سے تعلیم کا حصول ناقابلِ برداشت ہو جاتا ہے کیونکہ خاندان کتابوں، یونیفارم یا آمد و رفت کے اخراجات برداشت نہیں کر پاتے، چاہے قریب ہی سرکاری تعلیمی ادارے موجود کیوں نہ ہوں۔ غربت بہت سے بچوں کو خاندان کی آمدنی میں اضافے کیلئے مزدوری یا زرعی کاموں کی طرف دھکیل دیتی ہے ۔ رپورٹس یہ بھی بتاتی ہیں کہ لڑکیوں کو غیر متناسب رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جن میں سماجی پابندیاں، تحفظ سے متعلق خدشات، کم عمری یا زبردستی کی شادیاں، اور اسکولوں میں علیحدہ یا فعال بیت الخلا کی سہولیات کا فقدان شامل ہیں۔ بہت سے خاندان اپنی بیٹیوں کو تعلیمی اداروں میں بھیجنا مناسب نہیں سمجھتے اگر وہ محفوظ فاصلے پر واقع نہ ہوں۔اس کے علاوہ، بڑی تعداد میں سرکاری اسکول بنیادی سہولیات جیسے کہ چار دیواری، بجلی، پینے کا صاف پانی اور فعال بیت الخلا سے محروم ہیں۔ اس پس منظر میں، وزیر اعظم شہباز شریف اس بات کے مستحق ہیں کہ انہیں تعلیم کے فروغ اور معیاری تعلیم تک رسائی کو یقینی بنانے پر سراہا جائے؛ چاہے وہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے ہو یااب ملک کے سربراہِ حکومت کی حیثیت سے۔ انہیں پنجاب میں اساتذہ کی بھرتی کیلئے ایک انتہائی شفاف اور میرٹ پر مبنی پالیسی متعارف کرانے کا بجا طور پر سہرا دیا جاتا ہے، جس نے صوبے کے سرکاری سکولوں میں تعلیمی معیار کو بہتر بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے ‘قومی تعلیمی ایمرجنسی’ کے نفاذ پر مرکوز اصلاحات کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے ۔ وزیر اعظم کے وژن کا ایک اہم ستون ‘پنجاب دانش سکولوں’کا وفاقی سطح پر دائرہ کار بڑھانا ہے؛ یہ جدید ترین، مفت رہائشی تعلیمی ادارے ہیں جو خاص طور پر پسماندہ اور محروم طبقوں کے نوجوانوں کیلئے قائم کیے گئے ہیں۔ اسلام آباد میں واقع ان کا وسیع و عریض کیمپس لڑکوں اور لڑکیوں کیلئے علیحدہ جدید ترین رہائشی سہولیات، جدید روبوٹکس لیبز، اسمارٹ انٹرایکٹو بورڈز اور پسماندہ بچوں کیلئے سوفیصد میرٹ پر مبنی مفت داخلے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ مزید برآں حکومت نے ایسے منظم لائحہ عمل وضع کیے ہیں جن کا مقصد اس تشویشناک صورتحال کو بدلنا ہے جہاں دس سال کی عمر تک پہنچنے والے پانچ میں سے چار بچے بنیادی تحریر پڑھنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتے۔ دارالحکومت میں ‘نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایکسیلنس اِن ٹیچر ایجوکیشن’ قائم کیا گیا ہے جو اساتذہ کی تربیت، تدریسی تحقیق اور ڈیجیٹل مہارتوں کے مرکز کے طور پر کام کریگا تاکہ سرکاری شعبے کے اساتذہ کی دوبارہ تربیت کی جا سکے۔ وفاقی سطح پر کیے گئے یہ اور اس جیسے دیگر اقدامات یقینا قابلِ ستائش ہیں لیکن چونکہ تعلیم ایک صوبائی معاملہ ہے، اس لیے صورتحال میں اس وقت تک کوئی نمایاں بہتری نہیں آ سکتی جب تک کہ صوبے اپنے تعلیمی بجٹ میں اضافہ نہ کریں اور معیاری سرکاری تعلیمی اداروں کے نیٹ ورک کو وسیع کرنے کیلئے خاطر خواہ سرمایہ کاری نہ کریں۔ ‘قومی تعلیمی ایمرجنسی’ کے نفاذ کے مثبت اثرات تاحال واضح طور پر دکھائی نہیں دے رہے اور اس صورتحال میں وزیر اعظم کی جانب سے براہِ راست مداخلت کی ضرورت ہے۔
مویشیوں کی برآمدات میں اضافہ
پنجاب کی مویشیوں کی برآمدات میں 43 فیصد اضافہ ہوا ہے، ایک سال میں چارلاکھ جانور برآمد کیلئے تیار کئے گئے ہیں اور دیہی لائیو سٹاک فارمرز کو 11 ارب روپے کمانے کی توقع ہے۔ یہ حوصلہ افزا نمو لائیو سٹاک کے شعبے کی زرعی آمدنی کو بڑھانے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور ملک کی برآمدی آمدنی میں حصہ ڈالنے کی بے پناہ صلاحیت کی عکاسی کرتی ہے۔ اس لیے صوبائی حکومت کے منڈی تک رسائی کو بڑھانے اور لائیو اسٹاک ویلیو چین کو جدید بنانے کے اقدامات قابل تعریف ہیں۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی قیادت میں پنجاب حکومت نے اس شعبے کو مضبوط بنانے کیلئے متعدد اقدامات متعارف کرائے ہیں۔ لائیو سٹاک کارڈ سکیم، جو فی جانور ستائیس ہزارروپے فی جانور اور چارے کے اخراجات فراہم کرتی ہے، کسانوں کو انتہائی ضروری مالی امداد فراہم کرتی ہے۔ پاں اور منہ کی بیماریوں سے پاک کمپارٹمنٹس کا قیام، جدید مذبح خانوں اور گوشت کی پروسیسنگ پلانٹس اور مجوزہ ویکسین پروڈکشن یونٹ کے منصوبے بھی مثبت اقدامات ہیں۔ اسی طرح، لائیو سٹاک کنیکٹ سسٹم، کسانوں کو برآمد کنندگان اور تاجروں سے جوڑ کر، مارکیٹ تک رسائی کو بہتر بنانے اور پروڈیوسرز کے لئے بہتر منافع کو یقینی بنانے میں مدد کر سکتا ہے۔ یہ اقدامات دیہی آمدنی میں اضافہ کر سکتے ہیں، روزگار کے مواقع پیدا کر سکتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو لائیو سٹاک فارمنگ میں سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب دے سکتے ہیں۔ تاہم، اب تک حاصل ہونیوالی پیشرفت کو اس شعبے کی بے پناہ صلاحیت کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے ۔ پاکستان دنیا کے بڑے دودھ پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے، اس کے باوجود وہ خشک دودھ اور دیگر ڈیری مصنوعات کی درآمد جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ تضاد پروسیسنگ، تحفظ، پیکیجنگ اور سپلائی چین کے بنیادی ڈھانچے کی کمزوریوں کو نمایاں کرتا ہے۔ زیادہ مقدار میں دودھ اور گوشت پیدا کرنا کافی نہیں ہے۔ اصل موقع ان مصنوعات کی قدر میں اضافہ اور انہیں بین الاقوامی منڈیوں میں مسابقتی بنانے میں ہے۔ اس لئے حکومت کو چاہیے کہ وہ جدید ڈیری پلانٹس، دودھ کے پاڈر کی پیداوار اور پنیر اور دیگر ڈیری مصنوعات، صحت بخش گوشت کی پروسیسنگ، کولڈ اسٹوریج اور موثر نقل و حمل میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کو ترجیح دے۔ بہترویٹرنری خدمات، جانوروں کی بہتر نسلیں اور سائنسی کاشتکاری کے طریقے پیداوری کو بڑھانے اور بین الاقوامی معیار کے معیار پر پورا اترنے کیلئے یکساں طور پر ضروری ہیں۔ چھوٹے کسانوں کو بھی مناسب قیمت پر قرض، تربیت اور قابلِ اعتماد منڈیوں تک رسائی ملنی چاہیے۔
فرانس میں احتجاج
گزشتہ چند دنوں کے دوران کئی یورپی ممالک میں بڑے پیمانے پر احتجاج دیکھنے میں آئے ہیں سب سے بڑے اور پرتشدد مظاہرے فرانس میں ہوئے۔فرانس کے مختلف شہروں میں تقریبا پانچ لاکھ لوگ سڑکوں پر نکل آئے،احتجاج تشدد، لوٹ مار اور آتش زنی میں تبدیل ہو گیا۔ ہزاروں افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ فرانسیسی طلبا عوامی تعلیمی نظام میں بہتری کا مطالبہ کر رہے تھے، لیکن حالیہ مظاہروں میں دیگر مسائل، جیسے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عدم مساوات بھی نمایاں ہو کر سامنے آئے۔







تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں