بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi °C
Monday, 06 July 2026 | پاکستان: 22 محرم 1448

تقسیم کی سیاست اور مراعات یافتہ نظام!

Monday, 6 July, 2026

حصوں میں رہنے والے عام لوگ اگرچہ مختلف نوعیت کے مسائل سے دوچار ہیں، مگر ان مسائل کی بنیاد ایک ایسے معاشی اور سیاسی ڈھانچے میں ہے جس میں محدود طبقات کو غیر معمولی اختیارات اور مراعات حاصل ہیں۔اگر بلوچستان کی طرف دیکھیں تو وہاں وسائل کی موجودگی کے باوجود ترقی، روزگار اور بنیادی سہولیات سے متعلق شکایات سامنے آتی ہیں۔ سندھ کے دیہی علاقوں میں جاگیردارانہ اثرات اور زرعی مزدوروں کے مسائل زیرِ بحث رہتے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں میں قبائلی روایات، سکیورٹی کے چیلنجز اور محدود معاشی مواقع نمایاں ہیں، جبکہ پنجاب میں صنعتی مزدور، چھوٹے کسان اور متوسط طبقہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، کم اجرت اور ٹیکسوں کے بوجھ سے متاثر نظر آتے ہیں۔ان تمام خطوں کے مسائل اپنی صورت میں مختلف ضرور ہیں، لیکن ان کا نتیجہ ایک جیسا دکھائی دیتا ہے: عام آدمی معاشی دباو¿، محدود مواقع اور غیر مساوی وسائل کی تقسیم کا سامنا کرتا ہے۔اسی تناظر میں بعض تجزیہ نگار یہ استدلال پیش کرتے ہیں کہ سرمایہ دار، جاگیردار، طاقتور افسر شاہی اور بعض مذہبی و سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے طبقات مل کر ایک ایسی مراعات یافتہ اشرافیہ تشکیل دیتے ہیں جس کے مفادات اکثر ایک دوسرے سے متصادم ہونے کے بجائے باہم مربوط ہوتے ہیں۔ اس اشرافیہ کی ایک نمایاں خصوصیت یہ بتائی جاتی ہے کہ اس کا تعلق کسی ایک صوبے یا ایک قومیت سے نہیں ہوتا بلکہ مختلف علاقوں اور مختلف شناختوں سے تعلق رکھنے والے بااثر افراد اس میں شامل ہوتے ہیں۔یہاں ایک دلچسپ تضاد بھی سامنے آتا ہے۔ عوامی جلسوں میں شدید سیاسی مخالفت، سخت بیانات اور ایک دوسرے پر الزامات کی سیاست دکھائی دیتی ہے، لیکن پس پردہ بعض مواقع پر انہی قوتوں کے درمیان مفاہمت، اشتراک یا مشترکہ مفادات کی مثالیں بھی سامنے آتی ہیں۔ اسی لیے بعض مبصرین کہتے ہیں کہ ہمارے سیاسی اتحاد اور اختلافات ہمیشہ اصولوں کے بجائے مفادات کے تابع دکھائی دیتے ہیں۔اس تناظر میں مختلف سیاسی نعروں پر بھی سوال اٹھائے جاتے ہیں۔ حب الوطنی، جمہوریت، قوم پرستی، مذہب اور عوامی خدمت جیسے بلند آہنگ تصورات یقیناً اپنی جگہ اہم اور قابلِ احترام ہیں، لیکن ناقدین کا مو¿قف ہے کہ بعض اوقات ان نعروں کو عوامی حمایت حاصل کرنے اور سیاسی مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ مسئلہ نعروں میں نہیں بلکہ ان کے عملی استعمال میں پیدا ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہر انتخابی موسم میں نئے بیانیے، نئی صف بندیاں اور نئی سیاسی جماعتیں سامنے آتی ہیں۔ عوام کو امید دلائی جاتی ہے کہ اب کی بار نظام بدل جائے گا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ عام آدمی محسوس کرتا ہے کہ چہرے تو بدل گئے مگر اس کی زندگی کے بنیادی مسائل جوں کے توں موجود ہیں۔ نتیجتاً نوجوانوں میں سیاسی مایوسی بڑھتی ہے اور انہیں محسوس ہونے لگتا ہے کہ شاید ان کی آواز فیصلہ سازی کے مراکز تک پہنچ ہی نہیں پاتی۔سیاسی مباحث میں بعض اوقات یہ جملہ بھی سننے کو ملتا ہے کہ “سسٹم کو ڈی ریل نہیں ہونے دیں گے”۔ اس بیان کی مختلف تشریحات کی جاتی ہیں۔ ایک رائے یہ ہے کہ اس کا مقصد آئینی اور جمہوری تسلسل کو برقرار رکھنا ہے، جبکہ ایک دوسرا نقطہ نظر یہ سمجھتا ہے کہ بعض مواقع پر اس قسم کے بیانات کو موجودہ طاقت کے توازن اور مراعات یافتہ ڈھانچے کے تحفظ سے بھی جوڑ کر دیکھا جاتا ہے۔ یہی اختلافِ رائے پاکستان کی سیاست کی پیچیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔اصل مسئلے کو سمجھانے کےلئے ایک مثال دی جاتی ہے۔ فرض کریں چار مختلف افراد کو ایک ہی شخص مختلف شدت سے تھپڑ مارتا ہے۔ ایک کو ہلکا، دوسرے کو نسبتاً زیادہ، تیسرے کو شدید اور چوتھے کو انتہائی زور سے۔ اگر یہ چاروں افراد آپس میں یہ بحث شروع کر دیں کہ کسے زیادہ مار پڑی، تو وہ اصل مسئلے سے غافل رہیں گے، کیونکہ بنیادی سوال یہ ہے کہ تھپڑ مارنے والا کون ہے اور اس کے پاس یہ اختیار کیوں ہے؟ اسی طرح اگر مختلف علاقوں کے عوام صرف اس بات پر الجھے رہیں کہ کس کے ساتھ زیادہ ناانصافی ہوئی، تو ممکن ہے وہ ان ساختی مسائل پر توجہ نہ دے سکیں جو سب کو مختلف انداز سے متاثر کرتے ہیں۔آج بھی اکثر یہ بیانیہ سننے کو ملتا ہے کہ فلاں صوبہ ہمارے وسائل کھا رہا ہے یا فلاں قومیت ہماری ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ ایسے بیانیے بعض حلقوں میں مقبول ضرور ہوتے ہیں، مگر ناقدین کے مطابق یہ عوامی جذبات کو ایک دوسرے کے خلاف متحرک کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتے ہیں۔ وسائل کی تقسیم، مالیاتی اختیارات اور ترقیاتی ترجیحات جیسے معاملات یقیناً حقیقی پالیسی سوالات ہیں اور ان پر آئینی و سیاسی سطح پر سنجیدہ بحث ہونی چاہیے، تاہم ان پیچیدہ مسائل کو محض عوامی دشمنی کی شکل دینا صورتِ حال کو مزید الجھا سکتا ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کی اشرافیہ کسی ایک زبان، ایک نسل یا ایک صوبے تک محدود نہیں۔ طاقت اور وسائل سے فائدہ اٹھانے والے افراد مختلف علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں، جبکہ مشکلات کا سامنا کرنےوالے بھی ملک کے ہر حصے میں موجود ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحث کا مرکز صرف علاقائی شناخت بن جائے تو اصل معاشی اور انتظامی مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔سیاسی منظرنامہ بظاہر ایک بڑے سرکس کی مانند محسوس ہوتا ہے جہاں روز نئے کردار، نئے مکالمے اور نئی صف بندیاں سامنے آتی ہیں۔ عوام کی توجہ اسی تماشے پر مرکوز رہتی ہے، جبکہ اصل فیصلے اکثر ایسے کمروں میں ہوتے ہیں جہاں عام شہری کی رسائی نہیں ہوتی۔ یہ تاثر درست ہو یا نہ ہو، لیکن اس کے فروغ کی ایک بڑی وجہ عوام کا اداروں اور سیاسی عمل پر اعتماد میں کمی بھی ہے۔ پاکستان کی مضبوطی اس میں نہیں کہ ایک صوبہ دوسرے کو شکست دے یا ایک قومیت دوسری پر برتری ثابت کرے۔ حقیقی طاقت اس وقت پیدا ہوگی جب ملک کے تمام شہری یہ سمجھیں کہ ان کے بنیادی مسائل میں بڑی حد تک اشتراک موجود ہے۔ بہتر تعلیم، معیاری صحت، شفاف انصاف، روزگار کے مساوی مواقع، منصفانہ ٹیکس نظام، قانون کی حکمرانی اور احتساب ایسی ضروریات ہیں جو کراچی، کوئٹہ، لاہور، پشاور، گلگت یا مظفرآباد—ہر جگہ یکساں اہمیت رکھتی ہیں۔لہٰذا اگر پاکستان کو ایک مستحکم، خوشحال اور منصفانہ ریاست بنانا ہے تو بحث کا مرکز صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کون سا صوبہ زیادہ محروم ہے یا کون سی قومیت زیادہ مظلوم ہے، بلکہ اس سوال پر بھی سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا کہ کیا ہمارے سیاسی اور معاشی ادارے تمام شہریوں کو یکساں مواقع فراہم کر رہے ہیں؟ اگر جواب نفی میں ہے تو پھر اصلاح کا رخ بھی اسی جانب ہونا چاہیے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *