ہماری معاشرت میں ایک عجیب حقیقت بار بار سامنے آتی ہے۔ جو لوگ ہر شخص کو فوراً لفٹ نہیں کراتے، ہر فون کا جواب اسی لمحے نہیں دیتے، ہر دعوت میں پہنچنا اپنی ذمہ داری نہیں سمجھتے اور اپنی زندگی میں ہر ایک کو یکساں جگہ نہیں دیتے، اکثر انہی لوگوں کو زیادہ اہمیت ملتی ہے۔ لوگ ان کی ملاقات کے منتظر رہتے ہیں، ان کے چند منٹوں کو قیمتی سمجھتے ہیں اور ان کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اس کے مقابلے میں جو شخص ہر وقت دستیاب ہو، ہر آواز پر حاضر ہو، ہر فون اٹھائے، ہر دعوت قبول کرے، ہر ایک کی ضرورت میں فورا ًپہنچ جائے اور سب کو غیر معمولی اہمیت دیتا رہے، کچھ عرصے بعد اس کی دستیابی لوگوں کو معمول لگنے لگتی ہے۔یہ انسانی نفسیات کا ایک پہلو ہے کہ جو چیز ہر وقت اور آسانی سے مل جائے، اس کی قدر بعض اوقات کم محسوس ہونے لگتی ہے۔یہ اصول صرف اشیا پر نہیں، وقت، توجہ اور تعلقات پر بھی لاگو ہوتا ہے ۔ لیکن یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے۔ کسی کو ہر وقت دستیاب نہ ہونا وقار ہو سکتا ہے، مگر کسی کو حقیر سمجھنا تکبر ہے۔ اپنی مصروفیات کو ترجیح دینا ایک بات ہے اور دوسروں کی عزت گھٹانا دوسری بات۔قرآن مجید ہمیں دوسروں کی تحقیر سے روکتا ہے:یعنی ایک دوسرے پر طعن نہ کرو۔اور قرآن کا اصل معیار بھی واضح ہے:یعنی اللہ کے نزدیک زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ متقی ہے۔مولانا مودودی کی قرآنی فکر کی روشنی میں بھی اصل سوال یہ نہیں کہ معاشرہ کسی شخص کو کتنی لفٹ دیتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس شخص کا کردار کیا ہے اور وہ اپنی ذمہ داریوں کو کس طرح ادا کرتا ہے۔ یہاں سے بات بہت صاف ہو جاتی ہے۔ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں، مگر ہر وقت بدتمیز ہونا بھی کوئی کمال نہیں۔انسان کو اپنی زندگی میں ترجیحات طے کرنا پڑتی ہیں۔ ہر فون کا جواب فوری دینا ضروری نہیں۔ ہر دعوت قبول کرنا ضروری نہیں۔ ہر مجلس میں شریک ہونا ضروری نہیں۔ ہر شخص کو اپنی نجی زندگی تک رسائی دینا بھی ضروری نہیں۔زندگی محدود ہے اور وقت اس سے بھی زیادہ قیمتی۔ اگر انسان اپنی ساری توانائی ہر آنیوالے شخص، ہر فون، ہر فرمائش اور ہر تعلق پر خرچ کر دے تو آخر اپنے لیے کیا بچے گا؟یہیں سے توجہ سستی کرنے کا نقصان شروع ہوتا ہے۔ جب کوئی شخص ہر وقت حاضر رہتا ہے تو بعض لوگ اس کی موجودگی کو قدر کی نگاہ سے دیکھنے کے بجائے اسے اپنا حق سمجھ لیتے ہیں۔ آج فون اٹھا لیا، کل بھی اٹھائے گا۔ آج وقت دے دیا، کل بھی دے گا۔ آج مشکل میں پہنچ گیا، اگلی مشکل میں بھی پہنچے گا۔پھر جس دن وہ مصروف ہو جائے، جواب نہ دے سکے یا کسی دعوت میں شریک نہ ہو سکے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر آج کیا ہوا؟یہ انسانی رویے کا ایک تلخ پہلو ہے۔ ہم کبھی کبھی کسی کی مسلسل محبت کو محبت نہیں بلکہ سہولت سمجھ لیتے ہیں۔اسی طرح بعض تعلقات اس لیے کمزور نہیں ہوتے کہ محبت ختم ہو گئی، بلکہ اس لیے کہ ایک فریق نے اپنی دستیابی اتنی بڑھا دی کہ دوسرے فریق کو اس تعلق کی قدر کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوئی۔رشتوں میں بھی توازن ضروری ہے۔ اگر ہمیشہ ایک ہی شخص فون کرے، ہمیشہ وہی ملاقات کی کوشش کرے، ہمیشہ وہی دعوت دے، ہمیشہ وہی خیریت پوچھے اور ہمیشہ وہی مشکل وقت میں کھڑا ہو تو ایک وقت کے بعد سوال پیدا ہونا چاہیے کہ کیا یہ تعلق واقعی دونوں طرف سے زندہ ہے؟تعلق وہی خوبصورت ہے جس میں دونوں طرف سے قدر ہو۔محبت صرف دی نہ جائے، محسوس بھی کی جائے ۔ احترام صرف مانگا نہ جائے، واپس بھی آئے۔ اور تعلق صرف ضرورت کے وقت یاد نہ آئے لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ انسان لوگوں سے کٹ جائے۔ کچھ لوگ کم ملتے ہیں مگر ان کی محبت گہری ہوتی ہے۔ کچھ لوگ ہر روز رابطے میں نہیں ہوتے مگر مشکل وقت میں سب سے پہلے کھڑے ہوتے ہیں۔ اس لیے صرف ملاقاتوں کی تعداد سے تعلق کی گہرائی ناپنا بھی درست نہیں۔اصل مسئلہ توازن کا ہے۔انسان کو ایسا ہونا چاہیے کہ اس کے دل میں دوسروں کیلئے جگہ ہو، مگر اس کی پوری زندگی دوسروں کے مطالبات کے رحم و کرم پر نہ ہو۔وہ خوش اخلاق ہو، مگر ہر وقت حاضر نہ ہو۔وہ مددگار ہو، مگر ہر شخص کا بوجھ اپنے کندھوں پر نہ اٹھائے ۔ وہ تعلق نبھائے، مگر یک طرفہ تعلق کو اپنی ذمہ داری سمجھ کر گھسیٹتا نہ رہے۔اور سب سے اہم بات، اسے اپنی عزتِ نفس کا خیال ہو۔عزتِ نفس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کسی کو جواب نہ دے یا معمولی سی بے اعتنائی پر تعلق ختم کر دے ۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ انسان مسلسل نظرانداز کیے جانے کے باوجود اپنی قدر ثابت کرنے کیلئے کسی کے پیچھے نہ بھاگتا رہے ۔ بعض اوقات خاموشی شکست نہیں ہوتی، بلکہ اپنی ترجیحات کی حفاظت ہوتی ہے۔یہاں ایک اور غلط فہمی بھی دور کرنا ضروری ہے۔ کم دستیابی ہمیشہ شخصیت کی بڑائی کی علامت نہیں ہوتی۔ بعض لوگ واقعی مصروف ہوتے ہیں، بعض کم گو ہوتے ہیں، بعض اپنی نجی زندگی کو محدود رکھتے ہیں اور بعض محض تکبر کی وجہ سے لوگوں کو لفٹ نہیں کراتے ۔ ان سب کو ایک ہی ترازو میں نہیں تولا جا سکتا ۔اصل کمال یہ ہے کہ انسان اپنی حدود بھی قائم رکھے اور دوسروں کی عزت بھی۔وہ کسی غریب ، کمزور یا عام آدمی کو صرف اس لیے نظر انداز نہ کرے کہ وہ اس کے مرتبے کا نہیں۔ قرآن کا مزاج تو یہ ہے کہ انسان دوسرے انسان کی عزت کرے اور اپنے دل میں بڑائی کا احساس پیدا نہ ہونے دے۔اسی لیے وقار کا مطلب فاصلہ نہیں، توازن ہے ۔ اور شاید یہی وہ نکتہ ہے جسے ہماری معاشرتی زندگی میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ہم دوسروں کی توجہ حاصل کرنے کیلئے بہت کچھ کرتے ہیں، حالانکہ انسان کی اصل قدر اس بات سے نہیں کہ کتنے لوگ اس کے گرد جمع ہیں۔ اصل قدر اس کے کردار سے بنتی ہے ۔جو شخص اپنی قدر دوسروں کی توجہ سے طے کریگا، وہ کبھی خوش نہیں رہ سکتا ۔ آج کسی نے اسے لفٹ نہیں کرائی تو دل خراب، کل کسی نے بہت عزت دیدی تو خوشی سے پھولے نہیں سمائے۔اسکے برعکس جو شخص اپنے کردار، اصول اور ذمہ داری کو اپنی قدر کا معیار بناتا ہے، وہ لوگوں کے رویوں سے اتنا متاثر نہیں ہوتا۔اس لیے زندگی کا اصول شاید اتنا ہی کافی ہے:سب کی عزت کرو، مگر ہر شخص کو اپنی توجہ کا مالک نہ بنا۔اپنا وقت وہاں دو جہاں اس کی قدر ہو۔اپنی محبت وہاں خرچ کرو جہاں خلوص ہواپنی توانائی وہاں لگا جہاں تعلق یک طرفہ نہ ہو اور جہاں مسلسل بے اعتنائی ہو، وہاں اپنی قدر ثابت کرنے کیلئے بار بار دستک نہ دو ۔ کیونکہ انسان کی زندگی صرف لوگوں کو خوش کرنے کیلئے نہیں ہے۔کچھ وقت اپنے خاندان کیلئے ہے ، کچھ اپنے کام کیلئے، کچھ اپنے رب کیلئے اور کچھ اپنے آپ کو سنبھالنے کیلئے بھی۔لہٰذا ہر وقت دستیاب رہنا نیکی نہیں اور ہر وقت لوگوں کو نظر انداز کرنا بھی بڑائی نہیں۔نہ اتنا قریب کہ لوگ قدر بھول جائیں، نہ اتنا دور کہ دل ہی ٹوٹ جائیں ۔ توازن ہی اصل دانائی ہے۔آخر میں بات پھر اسی ایک جملے میں سمٹ آتی ہے:توجہ سستی ہو تو عزت مہنگی پڑ جاتی ہے۔اپنی توجہ کو سستا نہ کریں، مگر اپنے اخلاق کو بھی مہنگا نہ بنائیں ۔ لوگوں سے محبت کریں، مگر اپنی عزتِ نفس کے ساتھ۔تعلق نبھائیں، مگر باہمی احترام کے ساتھ اور اگر کبھی کوئی آپ کو لفٹ نہ کرائے تو اپنی قدر کم نہ سمجھیں؛ کیونکہ دنیا کی توجہ بدلتی رہتی ہے، مگر انسان کا اصل مقام اس کے کردار سے بنتا ہے۔







تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں