ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ جنگ جاری رکھنا نہیں چاہتا اور تنازع ختم کرنے کا فیصلہ اب امریکا کو کرنا ہوگا۔ انہوں نے یہ بات امریکی نشریاتی ادارے فوکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔
پزشکیان کا کہنا تھا کہ اگر اختلافات مذاکرات کے ذریعے حل کیے جاسکتے ہیں تو ایک دوسرے کو قتل کرنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق ایران جنگ کا خواہاں نہیں تھا، تاہم ان کے بقول اسرائیل کی کارروائیوں اور اشتعال انگیزی کے نتیجے میں یہ جنگ ایران پر مسلط ہوئی۔
ایرانی صدر نے واضح کیا کہ “ہم جنگ جاری نہیں رکھنا چاہتے، امریکا کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ اسے ختم کرنا چاہتا ہے یا نہیں۔” انہوں نے اس بات کا بھی اظہار کیا کہ تہران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے تیار ہے۔
پزشکیان نے گزشتہ معاہدے کے چند ہی عرصے بعد جنگ دوبارہ شروع ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر دونوں فریق کسی معاہدے تک پہنچ چکے تھے تو تقریباً دو ہفتے بعد اسے کیوں ختم کردیا گیا۔
ان کے مطابق ایران مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل کے لیے اب بھی تیار ہے، تاہم کسی نئے معاہدے کے لیے وہ بین الاقوامی قانونی دائرہ کار کو اہم قرار دیتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر موجودہ امریکی حکومت بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے معاہدہ کرنا چاہتی ہے تو ایران اس کے لیے تیار ہے، جبکہ امریکا کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے یا بعد میں معاہدہ ہونے سے ایران کے لیے کوئی بنیادی فرق نہیں پڑتا۔
پزشکیان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی رابطے جاری ہیں، تاہم دونوں ممالک کے درمیان اہم معاملات پر اب بھی اختلافات موجود ہیں۔







تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں