بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 21.9°C
Thursday, 24 September 2026 | پاکستان: 13 ر بیع الثانی 1448

حب دین اور حب وطن اتحاد کے متقاضی ہیں

Thursday, 24 September, 2026

المندب اور آبنائے ہرمز جیسے انتہائی اہم اور حساس بین الاقوامی بحری راستوں کی ممکنہ بندش اور ناکہ بندی کے بعد حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں آنے والی ناگہانی شدت اور بالخصوص سعودی تیل کی مرکزی ریفائنری و پائپ لائن پر سٹریٹجک حملے نے پوری دنیا کی جیو پولیٹکس معیشت اور خطے کے توازنِ طاقت کو ہلا کر رکھ دیا ہے اس تباہ کن حملے کے نتیجے میں یورپ اور برطانیہ کیلئے سعودی کچے تیل کی ترسیل و سپلائی اگلے ماہ اکتوبر تک کیلئے مکمل طور پر معطل ہو چکی ہے یورپ جو ہمیشہ سے ایک پرامن پرامید اور جنگوں سے دور رہنے والا ایسا خطہ رہا ہے جو دنیا کے دیگر ممالک کو ساتھ لے کر چلنے اور عالمی امن و خوشحالی کی علمبرداری کا داعی ہے اس وقت ایک نہایت بھیانک معاشی اور عسکری بحران کی زد میں لایا جا رہا ہے یورپ جو پہلے ہی روس یوکرین جنگ کی وجہ سے معاشی تناؤ کا شکار تھا اور روس سے خام تیل کی خریداری مکمل طور پر بند کر چکا تھا اب سعودی پائپ لائن کی اس تباہی سے توانائی کے ایک ایسے بے رحم اور ہولناک بحران کا سامنا کرنے پر مجبور ہو چکا ہے جس نے پوری یورپی معیشت کی بنیادیں ہلا دی ہیں اس تمام تر معرکے کا سب سے متحیر کن تشویشناک اور گہرا پہلو یہ سوال اٹھاتا ہے کہ حوثی جیسے ایک غیر ریاستی اور پسماندہ گروہ کے پاس اچانک اتنی بھاری تعداد میں انتہائی جدید ترین جنگی ہتھیار تباہ کن ڈرونز گائیڈڈ میزائلز اور سمندری طوفانی جنگی کشتیاں کہاں سے آ گئیں بظاہر تو حوثی تحریک کو صرف ایک ایرانی پراکسی کے طور پر دیکھا اور سمجھا جاتا ہے مگر گہرائی میں جا کر حقائق کا جائزہ لیا جائے تو اس پورے بین الاقوامی تانے بانے کے پیچھے ایک انتہائی شاطرانہ خطرناک اور منظم عالمی و علاقائی اتحاد متحرک دکھائی دیتا ہے اس نادیدہ گٹھ جوڑ میں پاسدارانِ انقلاب ایران بھارتی خفیہ ایجنسی را اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد روسی کے جی بی کے باقیات اور متحدہ عرب امارات کا سیاسی و معاشی اثر و رسوخ ایک مشترکہ اور خطرناک محور پر یکجا ہو چکے ہیں یہ عجیب الخلقت اتحاد دراصل دنیا کے امن کو تار تار کرنے اور جنگ کے بھڑکتے ہوئے شعلوں کی لپیٹ میں پوری دنیا کو لانے کا تہیہ کیے ہوئے ہے اس مکارانہ اتحاد کا ایک بنیادی اور ڈائریکٹ ہدف یہ ہے کہ پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان روز بروز استوار ہوتے ہوئے طاقتور دفاعی معاشی و سٹریٹجک بلاک اور اتحاد کو کسی صورت کامیاب نہ ہونے دیا جائے اور اسے وقت سے پہلے ناکام بنایا جائے کیونکہ یہ سہ فریقی اتحاد خطے میں توازنِ طاقت کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جو اس محاذ کو کسی طور ہضم نہیں ہو رہا دوسری طرف یوکرین اور روس کی جنگ کے ذریعے یورپ کو مسلسل الجھائے رکھنا اور اب سعودی پائپ لائن پر حوثیوں کے حملے سے یورپ اور برطانیہ کی معیشت کو توانائی کے شدید بحران میں دھکیل کر گھٹنوں کے بل لانا اسی منظم دور رس اور بھیانک سازش کا بنیادی حصہ ہے تاکہ امن کے داعی یورپ کو بھی زبردستی جنگ کے ایندھن میں جھونک دیا جائے اگر اس معاشی جنگ کے پردے کے پیچھے چھپے محرکات کا متحدہ عرب امارات کے تناظر میں تجزیہ کیا جائے تو ایران اور امریکہ کی کشیدگی و جنگ کے ابتدائی دور میں یو اے ای کو معاشی طور پر اور اپنے عمارتی و سفارتی انفراسٹرکچر کی تباہی کی صورت میں انتہائی بھاری نقصان اٹھانا پڑا تھا جس کے ردِعمل میں عالمی سرمایہ کار اور بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں اپنا سرمایہ یو اے ای سے نکال کر سعودی عرب کی طرف منتقل کر رہی تھیں سعودی عرب کی اس تیز تر معاشی پیش رفت کو روکنے مفلوج کرنے اور وہاں منتقل ہوتے ہوئے عالمی سرمایہ کاروں کو خوفزدہ کر کے بھگانے کے لیے حوثیوں کے ذریعے سعودی عرب کی تنصیبات پر حملے تیز کرائے گئے تاکہ خطے میں غیر یقینی اور خوف کا ماحول پیدا کر کے سعودی عرب کو معاشی طور پر مفلوج کر دیا جائے اس تمام تر بین الاقوامی کھیل میں امریکہ کا کردار اور رویہ انتہائی حیران کن کمزور اور تذبذب کا شکار نظر آتا ہے امریکہ جس طرح حوثیوں کے ساتھ درپردہ یا علانیہ مذاکرات کے اشارے دے رہا ہے اور پیش قدمی کر رہا ہے اس نے سعودی حکام اور پوری سعودی بادشاہت کو شدید اضطراب تشویش اور پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے سعودی قیادت اب اس تلخ حقیقت اور سوال پر غور کرنے پر مجبور ہو چکی ہے کہ جو جنگ خطے میں ایرانی تسلط اور خامنہ ای کے اثر و رسوخ کو ختم کرنے کے نام پر شروع کی گئی تھی کہیں وہ اب خود سعودی عرب کی اپنی بادشاہت اور سلامتی کے خاتمے کا سبب تو نہیں بنائی جا رہی غرضیکہ اس وقت براہِ راست بندوق کے دہانے پر پاکستان ترکیہ سعودی عرب اور یورپ کھڑے ہیں جبکہ ان کے مخالف سمت میں واضح طور پر اسرائیل موساد انڈیا را ایران پاسدارانِ انقلاب روس کے جی بی اور یو اے ای اکٹھے ہو کر دنیا بھر میں جاری پراکسیز کو بے تحاشا فنڈنگ اور جدید ترین جنگی ساز و سامان فراہم کر رہے ہیں امریکہ اس صورت حال میں یا تو مکمل طور پر کمزور اور بے بس ہو چکا ہے یا پھر وہ اس اتحاد کے آگے عملا اپنے ہتھیار پھینک بیٹھا ہے اگرچہ ٹرمپ کی جانب سے ایران اور روس پر مزید سخت معاشی پابندیاں عائد کی گئی ہیں لیکن تاریخ شاہد ہے کہ یہ پابندیاں نہ تو دنیا سے جنگ کے شعلوں کو ختم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں اور نہ ہی ان سے آنے والے دنوں میں یورپ اور برطانیہ میں پھیلنے والے تیل اور توانائی کے شدید معاشی بحران کا راستہ روکا جا سکتا ہے یہ ہولناک معرکہ شروع تو بظاہر ایران اور اسرائیل کی شدید اور روایتی دشمنی سے ہوا تھا لیکن آج ایران اور اسرائیل کے مفادات پسِ پردہ ایک ہی پیج اور نقطے پر یکجا ہوتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں اگرچہ گزشتہ روز تہران کی سڑکوں پر مظاہرے کے دوران اسرائیلی پرچم کو گھسیٹا گیا مگر یہ ہمارے مسلمان ممالک اور خطے کی عوام کو مطمئن کرنے کا ایک پرانا اور طے شدہ روایتی ڈرامہ بن چکا ہے کیونکہ مسلم دنیا کے عوام جذباتی طور پر اسرائیل کے شدید خلاف ہیں اور ایران کے عوام کو ہمیشہ اسرائیل دشمنی کے نام پر اکٹھا کیا جاتا ہے مگر درپردہ پاسدارانِ انقلاب آرمی ہی ایران کے اندر اصل حاکم اور فیصلہ کن فورس ہے اور اسی کے اندرونی حلقوں کی پراسرار مخبریوں اور پردہ پوشی کے نتیجے میں ماضی میں کئی بڑے نام اور عظیم شخصیات شہید ہوئیں اس تمام تر نازک اور تشویشناک صورت حال کا تقاضا ہے کہ اب ہمیں اپنے ملک میں کسی قسم کی مذہبی مسلکی یا لسانی تفریق پر فوکس کرنے کی بجائے اپنے اپنے ملک سے تکفیری نعرے لگانے والوں کا مکمل خاتمہ کرنا پڑے گا خصوصا ہمیں اپنے ارضِ پاک پاکستان کی مٹی پر باہمی یگانگت محبت اور اخوت کو فروغ دینا ہوگا اور تمام تر ذاتی و تفریقی سوچ کو پسِ پشت ڈال کر صرف اور صرف ایک محبِ وطن اور باوفا پاکستانی بن کر ایک ہی پیج پر متحد ہونا پڑے گا ۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *