بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 25.3°C
Saturday, 11 July 2026 | پاکستان: 26 محرم 1448

حضرت لقمان حکمت کے اک چراغ

Saturday, 11 July, 2026

تاریخ کے صحرا میں چلتے ہوئے انسان کو اکثر دو طرح کے نشانات دکھائی دیتے ہیں۔ ایک وہ جو گھوڑوں کی ٹاپوں نے ریت پر چھوڑے تھے دوسرا وہ جو کسی دانا انسان کے الفاظ نے دلوں پر ثبت کیے۔ پہلی قسم کے نشانات کو ہوا مٹا دیتی ہے، دوسری قسم کے نقوش صدیوں کے طوفان بھی نہیں مٹا سکتے۔اسی لیے جب مصر کے اہرام خاموش ہو جاتے ہیں، بابل کے باغات افسانہ بن جاتے ہیں، روم کی فصیلوں پر گھاس اُگ آتی ہے اور دنیا کے بڑے بڑے تاجدار تاریخ کے گرد آلود صفحات میں گم ہو جاتے ہیں، تب بھی ایک باپ کی اپنے بیٹے سے کی گئی چند نصیحتیں زندہ رہتی ہیں۔یہ حقیقت حیرت انگیز ہے کہ ایک ایسا شخص جس کے پاس نہ تخت تھا، نہ تاج، نہ لشکر اور نہ دنیاوی اقتدار، اس کے الفاظ صدیوں سے انسانیت کی رہنمائی کر رہے ہیں۔ حضرت لقمان حکیم کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ انسان کی اصل قدر اس کے مال، خاندان یا منصب سے نہیں بلکہ اس کے علم، کردار، تقویٰ اور حکمت سے ہوتی ہے۔علماء کی اکثریت کے مطابق حضرت لقمان نبی نہیں تھے بلکہ اللہ تعالیٰ کے ایک صالح، پرہیزگار اور صاحبِ حکمت بندے تھے۔ یہی پہلو ان کی عظمت کو مزید نمایاں کرتا ہے کہ ایک غیر نبی کی دانائی کو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں جگہ عطا فرمائی، تاکہ آنے والی نسلیں بھی ان کی بصیرت سے فائدہ اٹھاتی رہیں۔روایات کے مطابق حضرت لقمان کا تعلق افریقہ کے علاقے حبشہ یا نوبہ سے تھا۔ ان کی زندگی کا ایک حصہ غلامی میں گزرا، لیکن غلامی ان کے جسم تک محدود رہی؛ ان کی سوچ، ایمان اور شخصیت ہمیشہ آزاد رہی۔ یہ پیغام آج کے انسان کیلئے بھی نہایت اہم ہے کہ اصل آزادی انسان کے کردار اور فکر میں ہوتی ہے، نہ کہ صرف ظاہری حالات میں۔قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: “اور بے شک ہم نے لقمان کو حکمت عطا کی کہ اللہ کا شکر ادا کرو۔” غور کرنے کی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت لقمان کی عظمت کا ذکر کسی دولت، طاقت یا دنیاوی مقام کے حوالے سے نہیں کیا بلکہ انہیں عطا کی جانے والی سب سے بڑی نعمت “حکمت” قرار دی۔ علم انسان کو معلومات فراہم کرتا ہے، مگر حکمت انسان کو یہ سکھاتی ہے کہ ان معلومات کو کب، کہاں اور کیسے استعمال کرنا ہے۔ آج کا دور معلومات کی فراوانی کا دور ہے، مگر حکمت، برداشت اور صحیح فیصلے کی کمی پہلے سے زیادہ محسوس ہوتی ہے۔حضرت لقمان کی حکمت کا ایک خوبصورت واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ ان کے مالک نے ان کی آزمائش کے لیے کہا کہ بکری ذبح کرو اور اس کے بہترین حصے لے آؤ۔ حضرت لقمان دل اور زبان لے آئے۔ کچھ عرصے بعد دوبارہ حکم دیا گیا کہ اسی بکری کے بدترین حصے لے آؤ۔ حضرت لقمان پھر دل اور زبان لے آئے۔جب وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے جواب دیا کہ اگر دل پاک ہو اور زبان سچی ہو تو ان سے بہتر کوئی چیز نہیں، لیکن اگر دل برائی سے بھر جائے اور زبان جھوٹ، غیبت اور بدکلامی کا ذریعہ بن جائے تو ان سے بدتر بھی کوئی چیز نہیں۔یہ مختصر مگر گہری بات انسانی شخصیت کا مکمل آئینہ ہے۔ انسان کی عزت بھی دل اور زبان سے بنتی ہے اور اس کی رسوائی بھی اکثر انہی دو چیزوں سے شروع ہوتی ہے ۔ حضرت لقمان حکیم کی سب سے بڑی میراث وہ نصیحتیں ہیں جو انہوں نے اپنے بیٹے کو کیں اور جنہیں قرآنِ مجید کی سورہ لقمان میں محفوظ کر دیا گیا۔ یہ نصیحتیں کسی خاص دور یا قوم کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے رہنمائی کا خزانہ ہیں۔ انہوں نے سب سے پہلے اپنے بیٹے کے عقیدے کی اصلاح کی اور فرمایا کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، کیونکہ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مضبوط کردار کی بنیاد مضبوط ایمان پر قائم ہوتی ہے۔ جب انسان کا تعلق اپنے رب سے مضبوط ہو جاتا ہے تو وہ دنیا کے خوف، لالچ اور تکبر سے محفوظ رہتا ہے۔اس کے بعد حضرت لقمان نے عبادت اور کردار دونوں کی اہمیت بیان کی۔ انہوں نے نماز قائم کرنے، نیکی کا حکم دینے، برائی سے روکنے اور مشکلات پر صبر کرنے کی نصیحت فرمائی۔ ان چند الفاظ میں ایک کامیاب زندگی کا مکمل راستہ موجود ہے۔ نماز انسان کو اللہ سے جوڑتی ہے، نیکی معاشرے کو بہتر بناتی ہے، برائی سے روکنا ذمہ داری کا احساس پیدا کرتا ہے اور صبر انسان کو مشکلات میں ثابت قدم رکھتا ہے۔حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو سماجی اخلاقیات بھی سکھائیں۔ انہوں نے تکبر سے بچنے، لوگوں سے نرمی سے پیش آنے، گفتگو میں اعتدال رکھنے اور اپنی آواز پست رکھنے کی نصیحت کی۔ یہ تعلیمات آج کے دور میں بھی اتنی ہی اہم ہیں جتنی صدیوں پہلے تھیں۔آج ٹیکنالوجی نے دنیا کو قریب کر دیا ہے، مگر دلوں کے فاصلے بڑھ گئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اختلاف اکثر نفرت میں بدل جاتا ہے، کامیابی انسان کو غرور میں مبتلا کر دیتی ہے اور شہرت عاجزی چھین لیتی ہے۔ ایسے ماحول میں حضرت لقمان کی تعلیمات ایک مہذب اور متوازن معاشرے کی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔حضرت لقمان کی حکمت ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ حقیقی دانائی صرف زیادہ جاننے کا نام نہیں بلکہ صحیح وقت پر صحیح بات کہنے اور اس پر عمل کرنے کا نام ہے۔ علم اگر کردار سے خالی ہو تو انسان کو عظمت نہیں دیتا۔ اصل کامیابی وہ ہے جس میں علم کے ساتھ اخلاق، طاقت کے ساتھ عاجزی اور کامیابی کے ساتھ شکر شامل ہو۔آج والدین، اساتذہ اور معاشرے کے ذمہ دار افراد کے لیے حضرت لقمان کی تعلیمات ایک روشن رہنمائی ہیں۔ بچوں کو صرف کامیابی کے راستے نہیں دکھانے چاہئیں بلکہ انہیں سچائی، امانت، صبر، شکرگزاری اور حسنِ اخلاق کی دولت بھی دینی چاہیے۔ کیونکہ مضبوط معاشرے صرف قوانین سے نہیں بلکہ مضبوط کردار رکھنے والے انسانوں سے بنتے ہیں۔صدیاں گزر گئیں، زمانے بدل گئے، تہذیبیں تبدیل ہو گئیں، مگر حضرت لقمان حکیم کا پیغام آج بھی زندہ ہے۔ ان کی حکمت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انسان کی اصل عظمت طاقت، دولت یا شہرت میں نہیں بلکہ اچھے کردار، پاکیزہ سوچ اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں ہے۔یہی وہ روشنی ہے جو وقت کے اندھیروں میں بھی راستہ دکھاتی ہے، اور یہی حضرت لقمان کی لازوال میراث ہے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *