بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 25.2°C
Wednesday, 26 August 2026 | پاکستان: 14 ر بیع الاول 1448

حضور نبی کریم ۖکی ولادت پر ہونیوالے معجزات

Wednesday, 26 August, 2026

حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمتہ علیہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کے سلسلے میں آیات و کرامات بے شمار ہیں جن میں سے چند ایک یہ ہیں کہ ایوان کسریٰ لرز اٹھا ،اس کے چودہ کنگرے گر گئے ،دریا سادہ خشک ہو گیا اور اس کا پانی زیر زمین چلا گیا اور رود خانہ سادہ جسے وادی سادہ کہتے ہیں جاری ہو گیا ،حالانکہ اس سے قبل اسے منقتع ہوئے ایک ہزار سال کا عرصہ گزر چکا تھا۔فارسیوں کا آتشگدہ بجھ گیا جو ایک ہزار سال سے گرم تھا۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب پیدا ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو پاکیزہ بدن اور تیز بو کستوری کی طرح خوشبودار، چہرہ نورانی ، آنکھیں سرمگیں دونوں شانوں کے درمیان مہرہ نبوت درخشاں پیدا فرمایا۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت پر اللہ تعالیٰ نے آپ کی والدہ ماجدہ پر ایک روشن بادل ظاہرفرمایا ، جس میں روشنی کے ساتھ گھوڑوں کے ہنہنانے اور پرندوں کے اڑنے کی آوازیں تھیں ،کچھ انسانوں کی بولیاں تھیں اور اعلان ہوا کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مشرق و مغرب اور سمندروں کی بھی سیر کراو تاکہ تمام کائنات کو ان کا نام ،حلیہ اور ان کی صفت معلوم ہو جائے، ان کو تمام جاندار مخلوق یعنی جن و انس، ملائکہ اور چرندوں پرندوں کے سامنے پیش کرو اور تمام انبیائے کرام کے اخلاق حسنہ سے مزین کرو اور اس کے بعد وہ بادل چھٹ گئے، ستارے قریب آ گئے اور منادی نے اعلان کیا کہ واہ واہ کیا خوب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام دنیا پر قبضہ دے دیا اور کائنات عالم کی کوئی چیز باقی نہیں رہی جو ان کے قبضہ اقتدار و غلبہ اطاعت میں نہ ہو پھر تین شخص نظر آئے، ایک کے ہاتھ میں چاندی کا لوٹا، دوسرے کے ہاتھ میں سبز زمرد کا طشت، تیسر ے کے ہاتھ میں ایک چمکدار انگوٹھی تھی۔ انگوٹھی کو سات مرتبہ دھو کر حضور اکرمۖ کے دونوں شانوں کے درمیان مہر نبوت لگا دی پھر آپ کو ریشمی کپڑے میں لپیٹ کر آپ کی والدہ ماجدہ کے سپرد کر دیا گیا۔ولادت باسعادت کے وقت غیب سے عجیب و غریب امور ظاہر ہوئے ،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نور سے حرم شریف کی پست زمین اور ٹیلے روشن ہو گئے اور آپ کے ساتھ ایک ایسا نور خارج ہوا کہ شام کے محلات نظر آ گئے، آسمانوں پر پہلے شیاطین چلے جاتے تھے اور کاہنوں کو بعض مغیبات کی خبر دے دیتے تھے اور وہ لوگوں کو کچھ اپنی طرف سے ملا کر بتا دیا کرتے تھے، لیکن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد سے آسمانوں میں ان کا آنا جانا بند ہو گیا اور آسمانوں کی حفاظت شہاب ثاقب کے ذمے کر دی گئی ،اس طرح وحی اور غیر وحی میں غلط ملط ہو جانے کا اندیشہ جاتا رہا۔ بحیر سادہ جو ہمدان و قم کے درمیان تھا،وہ بالکل خشک ہو گیا اور وادی سادہ جو شام و کوفہ کے درمیان بالکل خشک پڑی تھی، لبالب بہنے لگی۔اسی طرح ان معجزات کے ظہور کا سلسلہ آپۖ کی ولادت کے زمانہ کے قریب ہونے کے ساتھ ساتھ بڑھتا ہی چلا گیا۔رسول اکرمۖکی ولادت سے جس لعین کوسب سے زیادہ تکلیف ہوئی اور جو کسی بھی طور پر اس کو برداشت نہیں کرسکا وہ ابلیس رجیم تھا۔یہ ابلیس آپ ۖکی ولادت کے وقت غمزدہ ہوا چنانچہ اس حوالہ سے حضرت عکرمہسے ایک حدیث مبارکہ منقول ہے جس میں آپفرماتے ہیں:جب رسول اکرمۖ اس دنیا میں جلوہ افروز ہوئے تو ابلیس لعین نے تاروں کے گرنے کو دیکھتے ہوئے کہا کہ ا ج کی رات ایسا نو مولود پیدا ہوا ہے جو ہمارے نظام کو درہم برہم کردے گا۔پھر اس نے اپنے چیلوں کو تمام روئے زمین کی مٹی لانے کا کہاجس کو وہ سونگھنے لگا۔جب اس نے تہامہ کی مٹی سونگھی تو اس نے کہا کہ اسی جگہ سے ہم برباد کیے جائیں گے۔یعنی شیطان لعین کی پریشانی کی وجہ یہ تھی کہ اس کا بنایا ہوا برسوں پرانا کفر وشرک پر مبنی نظام جس ذات عالی کے لائے ہوئے پیغام سے درہم برہم ہوجاتا وہ نبیِ اکرمۖکی ذات عالیہ تھی اور اسی وجہ سے وہ غمزدہ تھا۔پھر اسے کسی چیلے نے مشورہ دیا کہ تمہیں تو یہ قدرت دی گئی ہے کہ کسی نومولود کو چھوکر پاگل کردو تو اس نومولود کو ہاتھ لگادینا تاکہ وہ صحیح نہ رہے۔ابلیس لعین ایسا کرنے گیا لیکن کر نہیں سکاچنانچہ اس روایت کو نقل کرتے ہوئے اور ماقبل روایت کی شرح کرتے ہوئے صاحب سیرت حلبیہ تحریرفرماتے ہیں:اور یہ (ستاروں کے گرنے والی)روایت ا س بات پر دلالت کرتی ہے کہ ستاروں کا گرنا ابلیس کے نزدیک ولادت نبوی ۖکی نشانی تھا( تبھی اس نے اس ہلچل کی بنا پر تہامہ کی مٹی سونگھنے کے بعد تباہی کی بات کی)تو اس کے چیلوں نے اس سے کہا کہ تو اس نومولود تک جااور اسے (چھوکر)حواس باختہ کردے۔پھر جب وہ (ایسا ہی کرنے کے لیے)رسول اللہۖکے قریب ہواتو اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت جبریل کو بھیجا تو حضرت جبریل نے اس لعین کو ایک شدید ٹھوکر ماری جس سے وہ عدن شہر میں جا گرا۔یعنی جب شیطان کو یہ قدرت نہیں دی گئی کہ صالحین پر قادر ہوکر اپنا زور چلا سکے جیساکہ قرآن مجید میں ہے تو یہ کیونکر ہوسکتا تھا کہ اس کا زور آپ ۖپر چل سکے خواہ آپ ۖزندگی کے ابتدائی ساعتوں میں ہی تھے ۔ایک یہودی نے حضرت عبدالمطلبسے کہا اے سیّد بطحا! جس بچے کے متعلق میں آپ سے گفتگو کرتا تھا آج وہ پیدا ہوگیا ہے ۔ حضرت عبدالمطلب نے فرمایا :آج تو میرے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا ہے۔ یہودی نے پوچھا کہ آپ نے اسۖ کا نام کیا رکھا ہے؟ انہوں نے کہا کہ میں نے اس کا نام “مْحَمَّد” ۖرکھا ہے۔ یہودی نے کہا کہ یہی تین نشانیاں ان کی نبوت کی علامت ہیں: آج رات اس نبیۖکا ستارہ طلوع ہوگیا ہے۔ اس کا نام گرامی”محمدۖہوگا۔ وہ قوم کے بہترین خاندان میں پیدا ہوگا اور آپ اپنی قوم کے بہترین خاندان میں سے ہیں۔ ” ان روایات سے بخوبی واضح ہوجاتاہے کہ نبی اکرم ۖکی ولادت ہونے سے پہلے ہی ٹوٹتے ستاروں کاہجوم اور ایک خاص معلوم ستارہ کا طلوع اور دیگر اس جیسے واقعات کا رونما ہونا منتظر لوگوں کیلئے علامات تھیں تاکہ بعد میں وہ کوئی حجت پیش نہ کرسکیں۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *