اسلامی تاریخ میں بعض فتنے ایسے ہیں جن کے اثرات صرف اپنے زمانے تک محدود نہیں رہے بلکہ ان کی فکری بنیادیں مختلف ادوار میں نئے انداز اور نئے نعروں کے ساتھ دوبارہ سامنے آتی رہی ہیں۔ انہی میں سے ایک فتنہ *خوارج* کا ہے، جسے امتِ مسلمہ کے لیے ایک خطرناک داخلی چیلنج قرار دیا گیا ہے۔ متعدد اہلِ علم نے اس موضوع پر تفصیل سے گفتگو کی ہے اور واضح کیا ہے کہ خارجیت صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک ایسی انتہا پسند فکر ہے جو حالات کے مطابق اپنا رنگ اور نام بدل لیتی ہے، مگر اس کی بنیادی خصوصیات وہی رہتی ہیں۔یہ امر خصوصی توجہ کا حامل ہے کہ نبی کریم ۖ نے اپنی متعدد احادیث میں خوارج کے بارے میں خبر دی کہ جب بھی اس فکر کا ایک گروہ ظاہر ہوگا، اللہ تعالیٰ اسے ختم کر دے گا، لیکن پھر اسی سوچ کے حامل لوگ دوبارہ پیدا ہوں گے۔ اسی تناظر میں علماء یہ وضاحت کرتے ہیں کہ خارجیت کو محض ماضی کا قصہ سمجھ لینا درست نہیں، بلکہ اس کی علامات کو سمجھنا اور اس سے بچاؤ کی تدابیر اختیار کرنا ہر دور میں ضروری ہے۔*مبصرین کے مطابق* خوارج کی تاریخ کا ایک نمایاں پہلو یہ رہا کہ انہوں نے اپنی توانائیاں زیادہ تر مسلمانوں کے خلاف استعمال کیں۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں ایسے گروہوں نے اسلام کے نام پر مسلمانوں ہی کی جان، مال اور عزت کو نشانہ بنایا، جبکہ اصل دشمنوں کے مقابلے میں ان کی سرگرمیاں نسبتاً کم رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اہلِ علم نے انہیں امت کے لیے ایک خطرناک داخلی فتنہ قرار دیا، کیونکہ داخلی انتشار کسی بھی معاشرے کو بیرونی خطرات سے زیادہ کمزور کر دیتا ہے۔خارجی فکر کی چند ایسی نمایاں نشانیاں بیان کی گئی ہیں جو ہر زمانے میں شدت پسند گروہوں کی شناخت بن سکتی ہیں۔ ان میں کم عمری اور ناتجربہ کاری، ظاہری عبادت گزاری کے باوجود دین کی گہری سمجھ کا فقدان، خود کو دوسروں سے زیادہ حق پر سمجھنا، عبادت میں غلو، قرآن مجید کی آیات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرنا، دلکش مگر گمراہ کن خطابت، دوسروں کی آسانی سے تکفیر کرنا اور اپنے لیے الگ شناخت قائم کرنا شامل ہیں۔ معاشعرتی ماہرین کے بقول کسی بھی معاشرے میں صرف جذباتی نعرے یا ظاہری دینداری کسی گروہ کے درست راستے پر ہونے کی دلیل نہیں بن سکتے، بلکہ اصل معیار قرآن و سنت کی صحیح سمجھ، اعتدال اور امت کے اجتماعی اصولوں کی پابندی ہے۔یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ ہر اختلاف رکھنے والے شخص یا ہر حکومت مخالف گروہ کو ”خارجی” قرار دینا درست نہیں۔ فقہائے اسلام نے اس حوالے سے واضح اصول بیان کیے ہیں کہ خارجیت کی اصل بنیاد صرف اختلاف یا سیاسی مخالفت نہیں بلکہ ایسا مسلح خروج ہے جو دوسروں کی تکفیر پر قائم ہو۔اسی تناظر میں ”الولاء والبرائ” کے اسلامی تصور کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اہلِ سنت کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ محبت اور نفرت کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے تابع رکھا جائے۔ ایک مسلمان سے اس کے ایمان کی وجہ سے محبت کی جائے، اگر اس سے کوئی گناہ سرزد ہو تو اس گناہ کو برا سمجھا جائے، لیکن محض گناہ کی بنیاد پر اسے اسلام سے خارج نہ کیا جائے۔ خوارج نے اسی تصور کو انتہا پسندانہ انداز میں پیش کیا اور معمولی اختلاف یا بعض گناہوں کی بنیاد پر مسلمانوں کو کافر قرار دینے کا سلسلہ شروع کیا، جس کے نتیجے میں امت کے اندر نفرت، تقسیم اور خونریزی کو فروغ ملا۔مبصرین کے مطابق خوارج نے ہمیشہ ”امر بالمعروف” اور ”نہی عن المنکر” جیسے عظیم اسلامی تصورات کو اپنے اقدامات کے جواز کے طور پر استعمال کیا۔ بظاہر ان کے نعرے اصلاحِ معاشرہ، ظلم کے خاتمے اور عدل کے قیام کے ہوتے تھے، لیکن ان کے عملی اقدامات سے معاشرے میں مزید فساد، بے چینی اور خونریزی پیدا ہوتی تھی۔ اسلامی تعلیمات اس بات پر زور دیتی ہیں کہ کسی برائی کو ختم کرنے کے لیے ایسا طریقہ اختیار نہ کیا جائے جو اس سے بھی بڑی برائی کو جنم دے۔ یہی اصول اسلامی فقہ میں مصلحت، حکمت اور نتائج کو سامنے رکھ کر فیصلے کرنے کی بنیاد بنتا ہے۔اسلام کی تعلیمات یہ بھی واضح کرتی ہیں کہ ہر درست کام ہر وقت کرنا ضروری نہیں ہوتا اگر اس کے نتیجے میں بڑا فساد پیدا ہونے کا اندیشہ ہو۔ نبی کریم ۖ نے بعض مواقع پر امت کی مصلحت، لوگوں کی ذہنی کیفیت اور ممکنہ نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے بعض اقدامات مؤخر فرمائے۔ اس سے یہ اصول سامنے آتا ہے کہ اصلاح کا عمل صرف جذبے سے نہیں بلکہ حکمت، تدبر اور حالات کی درست تشخیص کے ساتھ انجام دیا جاتا ہے۔یہ امر خصوصی توجہ کا حامل ہے کہ اسلام قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دیتا۔ برائی کو روکنے کے مختلف درجات اور ذمہ داریاں ضرور بیان کی گئی ہیں، لیکن ریاستی قوت کا استعمال ایک منظم قانونی نظام کے تحت ہوتا ہے۔ اہلِ علم نے متعدد احادیث کی روشنی میں یہ اصول بیان کیا ہے کہ محض اختلاف، سیاسی شکایات یا حکمرانوں کی بعض کوتاہیوں کی بنیاد پر مسلح بغاوت کا راستہ اختیار کرنا درست نہیں بلکہ اجتماعی نظم و ضبط کو برقرار رکھنا، خونریزی سے بچنا اور معاشرے کو خانہ جنگی سے محفوظ رکھنا اسلامی تعلیمات کا بنیادی مقصد ہے۔ امتِ مسلمہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ قرآن و سنت کی صحیح تعلیمات، اہلِ علم کی رہنمائی، اعتدال، حکمت اور باہمی اتحاد کو مضبوطی سے اختیار کرے۔ شدت پسندی، تکفیر، تشدد اور انتشار سے بچتے ہوئے اختلافات کو علم، دلیل اور قانونی و اخلاقی حدود کے اندر حل کرنا ہی وہ راستہ ہے جو معاشرے میں امن، استحکام اور اجتماعی بھلائی کو فروغ دیتا ہے۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں