بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 17.4°C
Tuesday, 20 October 2026 | پاکستان: 10 جمادی الاول 1448

دانش سکول اسلام آباد: تعلیم سب کے لئے

Tuesday, 20 October, 2026

تعلیم قومی ترقی، سماجی مساوات اور معاشی خوشحالی کی بنیاد ہے۔ ہر بچے کو، خواہ اس کا تعلق کسی بھی معاشی طبقے یا سماجی پس منظر سے ہو، معیاری تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔ پاکستان میں بہت سے ذہین اور باصلاحیت بچے صرف اس لیے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار نہیں لا پاتے کہ ان کے والدین اچھے اسکولوں اور تعلیمی اخراجات کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ وزیراعظم شہباز شریف کے تعلیمی اقدام کے تحت اسلام آباد میں دانش اسکول کا قیام مستحق بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔کئی دہائیوں سے سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کے درمیان فرق نے بچوں کے لیے غیر مساوی مواقع پیدا کیے ہیں۔ امیر خاندان اپنے بچوں کو جدید سہولیات سے آراستہ اسکولوں میں تعلیم دلوا سکتے ہیں، جبکہ غریب گھرانوں کے بچے بنیادی تعلیمی سہولیات کے حصول کے لیے بھی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف انفرادی مستقبل کو متاثر کرتی ہے بلکہ پاکستان کو اپنی انسانی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے سے بھی محروم رکھتی ہے۔ دانش اسکولوں کا مقصد پسماندہ طبقوں کے ذہین اور مستحق بچوں کو مفت اور معیاری تعلیم فراہم کرکے اس فرق کو کم کرنا ہے۔
اسلام آباد کے علاقے کری میں قائم دانش اسکول وفاقی حکومت کے تعلیمی اقدام کا ایک اہم حصہ ہے۔ وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے مطابق، اس اسکول میں رہائشی تعلیم کے ساتھ قیام، روزانہ تین وقت کا کھانا، یونیفارم، طبی سہولیات اور جدید لائبریری جیسی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ ان سہولیات کا مقصد یہ ہے کہ مستحق طلبہ مالی مشکلات کی فکر سے آزاد ہو کر اپنی تعلیم پر توجہ دے سکیں۔سال 2026 کے لیے اعلان کردہ داخلہ پالیسی میں ایسے بچوں کو شامل کیا گیا جن کے خاندانوں کی ماہانہ آمدن 40 ہزار روپے سے کم تھی۔ یتیم اور ضرورت مند بچوں، مزدوروں کے بچوں اور دیہی علاقوں شہری کچی آبادیوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو بھی ترجیح دی گئی۔ داخلے کے عمل میں تحریری امتحان، انٹرویو، طبی معائنہ اور خاندانی حالات کی تصدیق شامل تھی۔ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے طلبہ کے لیے بھی مخصوص نشستوں کا اعلان کیا گیا۔ اس کے علاوہ 10 فیصد سیلف فنانس کوٹے کے تحت ماہانہ فیس اور دیگر اخراجات 20 ہزار 500 روپے مقرر کیے گئے۔اس منصوبے کے لیے حکومت نے خطیر رقم مختص کی ہے۔ اپریل 2026 میں دانش اسکول کری کے منصوبے کی نظرثانی شدہ لاگت تقریبا 7 ارب روپے منظور کی گئی۔ نظرثانی شدہ منصوبے میں طالبات کے ہاسٹل اور تدریسی و غیر تدریسی عملے کی رہائش کے انتظامات بھی شامل تھے۔ شائع شدہ رپورٹ کے مطابق، داخلے کے پہلے مرحلے میں چھٹی سے آٹھویں جماعت تک 360 طلبہ کو داخلہ دیا گیا تھا۔وفاقی حکومت اسلام آباد سے آگے بھی دانش اسکولوں کا نیٹ ورک وسعت دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ 29 جولائی 2026 کو دانش اتھارٹی بورڈ کے پہلے اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف نے زیر تعمیر اسکولوں کو مقررہ مدت میں مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ سرکاری بریفنگ کے مطابق، ملک بھر میں 29 اسکول قائم کرنے کی تجویز دی گئی تھی، جن میں سے 15 کی منظوری ہو چکی تھی جبکہ 13 مقامات پر تعمیراتی کام جاری تھا۔ آزاد جموں و کشمیر کے باغ اور بھمبر، جبکہ گلگت بلتستان کے غانچے، سلطان آباد اور استور میں اسکول دسمبر 2026 تک مکمل کرنے اور اپریل 2027 میں تعلیمی سرگرمیاں شروع کرنے کا منصوبہ تھا۔
اس اقدام کا ایک اہم پہلو جدید تعلیم پر توجہ دینا بھی ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ دانش اسکولوں کے نصاب میں انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کے دیگر شعبوں کو شامل کیا جائے۔ عملی منصوبوں، ہنر پر مبنی تعلیم اور شخصیت سازی پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ یہ اقدامات طلبہ کو مستقبل کے روزگار کے لیے تیار کرنے اور تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا کے تقاضوں کو سمجھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
لڑکیوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دینا بھی ضروری ہے۔ پسماندہ علاقوں میں غربت، فاصلے اور ناکافی سہولیات کی وجہ سے لڑکیوں کو تعلیم جاری رکھنے میں اضافی مشکلات پیش آتی ہیں۔ محفوظ رہائش، طبی سہولیات اور سازگار تعلیمی ماحول انہیں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بہتر مواقع فراہم کر سکتا ہے۔ تعلیم یافتہ خواتین اپنے خاندانوں، پیشہ ورانہ زندگی اور معاشرتی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
تاہم، دانش اسکولوں کی کامیابی کا اندازہ صرف تعمیر ہونے والی عمارتوں یا خرچ ہونے والی رقم سے نہیں لگایا جانا چاہیے۔ شفاف داخلہ پالیسی، سرکاری وسائل کا ذمہ دارانہ استعمال، قابل اساتذہ اور باقاعدہ تعلیمی جائزہ بھی ضروری ہیں۔ حکومت کو طلبہ کی تعلیمی کارکردگی، حاضری، عملی مہارتوں اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد ان کی پیش رفت کا جائزہ لینا چاہیے۔ تمام وعدہ کردہ سہولیات بروقت فراہم کرنا بھی ناگزیر ہے۔اس کے ساتھ ساتھ عام سرکاری اسکولوں کی بہتری پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔ دانش اسکول محدود تعداد میں مستحق طلبہ کو سہولت فراہم کر سکتے ہیں، لیکن ملک بھر میں لاکھوں دوسرے بچوں کو بھی بہتر کلاس رومز، تربیت یافتہ اساتذہ، درسی کتابوں، تجربہ گاہوں اور ڈیجیٹل سہولیات کی ضرورت ہے۔ دانش اسکولوں کے تجربات سے فائدہ اٹھا کر سرکاری تعلیمی نظام کو بہتر بنایا جانا چاہیے تاکہ ملک کے زیادہ سے زیادہ بچوں کو معیاری تعلیم میسر آ سکے۔
والدین، اساتذہ، سماجی تنظیمیں اور نجی شعبہ بھی وظائف، لائبریریوں، رہنمائی اور ڈیجیٹل تعلیم کے پروگراموں کے ذریعے اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تعلیم ایک مشترکہ ذمہ داری ہے اور حکومت و معاشرے کے باہمی تعاون سے نوجوانوں کو وہ علم اور مہارتیں فراہم کی جا سکتی ہیں جو قومی ترقی کے لیے ضروری ہیں۔دانش اسکول اسلام آباد ان خاندانوں کے لیے امید کی ایک کرن ہے جو چاہتے ہیں کہ غربت ان کے بچوں کے مستقبل کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے۔ اگر اس منصوبے پر مثر انداز میں عمل درآمد کیا جائے تو باصلاحیت طلبہ ڈاکٹر، انجینئر، اساتذہ، سائنس دان اور ذمہ دار شہری بن سکتے ہیں۔ پاکستان کا مستقبل نوجوان نسل کی تعلیم و تربیت سے وابستہ ہے۔ ہمارا حتمی مقصد ایسا پاکستان ہونا چاہیے جہاں معیاری تعلیم صرف امیر خاندانوں کا استحقاق نہ ہو بلکہ ہر مستحق بچے کے لیے ایک حقیقی موقع بن جائے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *