ترکیہ اور سعودی عرب کے مابین ایک صدی سے زائد کے سرد مہری تھی کہ کم و بیش تمام خلیجی ممالک اس عظیم سلطنت عثمانیہ کا حصہ رہے ۔ روایت یہ بھی ہے کہ 2019 میں ترکیہ اور پاکستان کے انٹیلی جنس چیفس قریبی مسلم ممالک میں روابط کو بہتر بنانے کی منصوبہ بندی پر اتفاق کر چکے تھے جن میں ایک اب ترکیہ کے وزیر خارجہ تو دوسرے پاکستان کے فیلڈ مارشل۔ ترکیہ اور سعودیہ تعلقات کو سرد مہری سے گرم جوشی میں بدلنے کا اعزاز بھی اللہ نے پاکستان کے حصہ میں کیا اور اب اس معاہدہ نے مسلم دنیا کیلئے اتحاد، عزت اور وقار کے دروازے کھول دئیے ہیں مگر صد شکر کہ آج ہر پاکستانی کا سر فخر سے بلند کہ اللہ نے اگست کے مہینہ میں کہ شہدا کی قربانیوں کے صدقے پاکستان کو ایک اور اعزاز سے سرفراز کیا مگر اب اسے سنبھالنا اہلیان پاکستان، سیاسی قیادت اور بیوروکریسی کا فرض کہ کینہ پرور اب اپنا خبث باطن ہر طرح اور ہر طریق سے ظاہر کریں گے مگر شہدا کے مقدس خون کی حرمت پر یقین رکھنے والا ہر مسلمان جانتا ہے کہ قدرت پاکستان کے قیام اور اس کے استحکام کیلئے بہنے والے لہو کو کبھی رائیگاں نہیں جانے دیگی۔یہ بھی حقیقت کہ اس طرز کا دفاعی معاہدہ تینوں ممالک کیلئے اتنا سہل نہ ہوتا اگر امریکہ طاقت کے گھوڑے پر سوار ہو کر اس خطہ میں رسوائی کا ساماں نہ کیے ہوتا۔ اب بھی کسی وقت بالخصوص پاکستان کو دباو یا پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کہ اعلیٰ مقاصد کے حصول اور اسرائیلی مخالفت کی قیمت بہرحال قوموں کو چکانی پڑتی ہے۔ گرچہ یہ وقت ایران کیلئے بھی ثمرات سمیٹنے کا تھا مگر ایرانی رکن پارلیمنٹ نے اس معائدہ پر پھبتی کس کے اہنے عزائم ظاہر کیے جو تشویش ناک !تین مسلم ممالک کے دفاعی اتحاد پر اسرائیل اور بھارت کا بے چین اور مضطرب ہونا تو فطری امر مگر ایران اگر اسی طرح سوچتا ہے تو یہ خدشہ تقویت پکڑتا ہے کہ ایران میں اب بھی اسرائیلی اثر و نفوذ موجود ۔ حرم کی پاسبانی کیلئے مسلم ممالک ایک ہوتے ہیں یا نہیں اس کا فیصلہ مسلم ممالک کی قیادتیں ہی کریں گی مگر ایرانی سیکرٹری پارلیمنٹ کا بیان اقبال کے تہران کو مشرق کا جنیوا بنانے میں رکاوٹ نظر آتا ہے۔ اب اس کی دو وجوہات ذہن میں آتی ہیں اولا کہ کیا ایران افغانستان، پاکستان اور لبنان میں اپنی پراکسیز کو پھر سے فعال کرنے کا سوچ رہا ہے ؟ 2011میں ایران نے حماس قیادت پر بشارالاسد کی حمایت کیلئے دباو ڈالا اور انکار پر حماس کو اپنا مرکز قطر منتقل کرنا پزا یقینا اس کے بعد ایران اور حماس کے مابین تعلقات میں ماضی کی گرم جوشی نہ رہی اسی لیے ایرانی سرزمین پر حماس کی قیادت کی شہادت ابھی تک معمہ بنی ہے جبکہ ایران اپنی سر زمین پر حسن نصر اللہ جیسی قیادت کو تحفظ دے سکا اور نہ ریبر معظم اور ملٹری قیادت کو اسرائیلی حملوں سے بچا پایا۔ جس سے یہ تاثر پختہ ہوتا چلا جا رہا پے کہ موساد کی ایران میں جڑیں گہری اور بہت دور تک۔ جو ایک طرف ایران کو مفاہمت پر آمادہ نہیں ہونے دیتیں کہ جس سے پابندیوں کا خاتمہ ہو، ایران ترقی کرے اور عوام خوشحال تو دوسری طرف یہی لابی ایران کو مسلم دنیا سے الگ تھلگ کر کے اقبال کے اس خواب
تہران ہو گر عالم مشرق کا جنیوا
شاید کہ کرہ ارض کی تقدیر بدل جائے
اب یہ ایرانی قوم اور قیادت کو سوچنا چاہیے کہ تہران کو مشرق کا جنیوا بنانے اور اس خطہ کی تقدیر سنوارنے کی راہ میں رکاوٹ بننا ہے یا اس میں شریک ہو خطہ بدلنا ہے۔ ! سوال یہ کہ کیا ایران بدلے حالات میں اپنی پراکسیز کو ان ممالک میں تحفظ دے پائے گا۔ ؟ اور یہ بھی کہ اس معاہدہ کو از خود ہی اپنے خلاف متصور کرنے کے بعد ایران ایک بار پھر اپنی پراکسیز کو متحرک کر کے کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتا پے۔ ؟ ایسے ملک میں پارلیمنٹ کا رکن اپنی مرضی سے بے سروپا بیان کیسے دے سکتا ہے کہ جہاں اسپیکر و وزیر خارجہ جیسے اہم ترین عہدہ جات پر فائز کی نشر ہوتی گفتگو کو روک دیا جائے۔ !گہرے ایرانی پالیسی سازوں کے سامنے اب دو راستے ہیں کہ ماضی کی تلخیاں بھول اور خطے میں اپنے توسیع پسندانہ عزائم کی بجائے برادر مسلم ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کار اور اس خطہ سے امریکی و اسرائیلی نفوذ کے خاتمہ کا رستہ اپنائے یا پراکسیز کے ذریعے پھر سے اس خطہ کو انتہا و شدت پسندی کی آگ میں جھونکے ۔ ! ایران سمیت مختلف مسلم ممالک کے شدت پسند امریکی دشمنی میں روس کی آغوش کو پسند کرتے ہیں مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ آج تک روس اپنے اتحادیوں کو کسی دور میں ٹوٹ پھوٹ سے بچا نہ پایا ہاں مگر اسلحہ کی فروخت سے اربوں کا کاروبار خوب چمکا۔ ایران خود دہائیوں اس خطہ میں امریکی مفادات کا نگہبان رہا تو اسے ترکیہ و پاکستان پر ایسی پھبتی کسنے سے پہلے ماضی کے جھروکوں میں جھانک لینا چاہیے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے مسلم ممالک اپنے وسائل، طاقت، عسکری قوت اور ٹیکنالوجی یکجا کر کے امریکی و روسی بلاک میں پناہ ڈھونڈنے اور پراکسیز کے ذریعے اپنے وسائل برادر ممالک کو کمزور کرنے پر خرچ کی بجائے عوامی ترقی اور مسلم اتحاد پر صرف کریں جو ان کو عظمت رفتہ کی بحالی اور تہران کو مشرق کا جنیوا بنانے کی طرف لے جائے۔ ایران نے امریکہ و اسرائیل کیخلاف عزم و استقامت کا مظاہرہ کر کے پوری امت سے داد و پذیرائی سمیٹی اور اب وہ مسلم دنیا کے کشادہ دلوں کو شدت پسندی کے جذبات سے بند نہ کرے۔ پاکستان نے کئی مواقع پر عین وقت پہ ایرانی قیادت کو ناجائز ریاست کے حملوں سے بچایا مگر لگتا ہوں ہے کہ پاکستان اور ایران کے اندر کچھ طبقات پاکستان کے احسانات کا بدلہ مسلسل عدم اعتماد کی صورت میں دے کر دشمنوں کو جگ ہنسائی اور ریشہ دوانیوں کا موقع فراہم کر رہے ہیں ۔ یاد رکھئیے دشمن بالخصوص اسرائیلی چالیں بہت گہری اور باریک جنہیں حکمت، تدبر اور فراست کی تلوار سے ہی کچلا جاسکتا ہے۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں