بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi °C
Thursday, 13 August 2026 | پاکستان: 1 ر بیع الاول 1448

دہشت گردی کا خاتمہ پیچیدہ چیلنج

Thursday, 13 August, 2026

ماہ کے دوران خود کش حملوں کی یہ سب سے زیادہ تعداد ہے گزشتہ ماہ جولائی کے دوران دہشت گردی کے ریکارڈ واقعات اس بات کا انتباہ ہیں کہ دہشت گردی کا عفریت دوبارہ سر اٹھا رہاہے قابل غور بات یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف بڑی تعداد میں کارروائیوں اور جوانوں کی قربانیوں کے باوجود دہشت گردی کے حالیہ واقعات لمحہ فکریہ ہیں ملک میں گزشتہ تین سالوں کے دوران دہشت گردی میں جس قدر اضافہ ہوا وہ سب پر عیاں ہے دکھ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان مزید پر تشدد حملوں کے سامنے کھڑا ہے پاکستان کو درپیش سیکورٹی خطرات کا سرحد پار کے حالات سے ہمیشہ بہت گہرا تعلق رہا ہے ماضی میں بھی یہ سرحد کے حالات ہی تھے جنہوں نے پاکستان کو دہشت گردی کے خوفناک صورتحال سے دوچار کیا اور پھر اس سے نکلنے کیلئے ایک طویل جدوجہد کرنا پڑی 2021 کے وسط میں کابل میں آنے والی تبدیلی کے اثرات ایک بار پھر پاکستان کے سیکورٹی منظر نامے کو متاثر کر رہے ہیں افغانستان میں دہشت گردی کے نیٹ ورک کس طرح پروان چڑھ رہے ہیں وہ دنیا سے ڈھکا چھپا نہیں افغانستان اس وقت عملا فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کا ٹھکانہ ہے پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک کو طالبان حکومت سے جو امیدیں وابستہ تھیں وہ چکنا چور ہوگئی ہیں موجودہ صورت حال نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لئے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے کیونکہ افغانستان جس طرح علاقائی اور عالمی شدت پسندوں کا ٹھکانہ بن رہا ہے اس کی تصدیق اقوام متحدہ کے ادارے اور آزاد تحقیقی ادارے بھی اپنی رپورٹوں میں کر رہے ہیں طالبان کے زیر اقتدار افغانستان میں دہشت گرد تنظیمیں نہ صرف متحرک ہیں بلکہ مبینہ طور پر محفوظ پناہ گاہوں سے بھی فائدہ اٹھا رہی ہیں القاعدہ سمیت کئی شدت پسند گروہ افغانستان میں اپنی موجودگی برقرار اور سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں ہمیں یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ قومیں ہمیشہ عزت ووقار کے ساتھ ہی اپنی آزادی سلامتی اور خود مختاری کا تحفظ کر سکتی ہیں پچھلے کچھ عرصہ کے دوران ملک میں سیکورٹی چیلنجز میں اضافہ ہوا ہے مگر ان چیلنجز سے نمٹنے کیلئے سیکورٹی فورسز پورے عزم اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ مستعد ہیں فوری کنٹرول دہشت گردوں کو دوبارہ منظم ہونے سے روکنا اور نفسیاتی جنگ ناکام بنانا پاکستان نے تینوں مراحل جیت لئے ہیں عام شہریوں خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانے سے علیحدگی پسند بیانیہ بے نقاب اور دہشت گردی ثابت ہوئی دہشت گردوں کو جسمانی، مالی اور نفسیاتی جگہ نہ دینا ہی پاکستان کی کامیاب حکمت عملی اور استحکام کی ضمانت ہے جدید دفاع کا مقصد صرف حملہ روکنا نہیں بلکہ ہر دھچکے کو رفتار میں بدلنے سے روکنا ہے سیکورٹی فورسز کے بھرپور اور موثر رد عمل کی وجہ سے دہشت گردوں اور انکے سرپرستوں کو مسلسل اپنے مکروہ عزائم میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر چھانہ مار کارروائیاں مسلسل جاری ہیں اور سیکورٹی فورسز کا زیادہ تر جانی نقصان انہی کارروائیوں میں ہو رہا ہے دہشت گردی کے حوالے سے بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کے چیلنجز بڑے ہیں چنانچہ بچا کے اقدامات کو بھی اسی حساب سے بڑا ہونا چاہیے حکومت اس ضمن میں قانون نافذ کرنے والے اداروں بالخصوص پولیس کی تربیت اور ہتھیاروں پر خصوصی اخراجات کرے ملک کی موجودہ صورت حال میں دشمن کی پاکستان کو اندرونی محاذوں پر الجھانے کی کوشش کو ناکام بنانے اور اندرونی وبیرونی چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کیلئے ٹھوس اقدامات ناگزیر ہیں دہشت گردی کو جامع دفاعی حکمت عملی اور قومی ہم آہنگی کا مضبوط بند باندھ کر ہی ختم کیا جاسکتا ہے اگر ہم اندرونی طور پر مضبوط ہوں گے تو بیرونی دشمن کو جرات نہیں ہوگی کہ وہ ہمارے ملک کے خلاف کسی بھی سازش یا جارحیت کا ارتکاب کرسکے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *