بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 26.8°C
Saturday, 29 August 2026 | پاکستان: 17 ر بیع الاول 1448

دیہی بیٹیوں کے خواب

Saturday, 29 August, 2026

پاکستان اس وقت تک خوشحال اور ترقی یافتہ مستقبل کا دعوی نہیں کر سکتا جب تک دیہی علاقوں کی لاکھوں بچیاں اپنی صلاحیتوں کو تعلیم اور روزگار میں تبدیل کرنے کے قابل نہ ہوں۔ مسئلہ بچیوں میں صلاحیت یا خواہش کی کمی نہیں، بلکہ وہ سماجی، معاشی اور ادارہ جاتی ماحول ہے جو ان کے گرد موجود ہے۔ گاؤں کے اسکول سے کالج اور یونیورسٹی تک کا سفر غربت، فاصلے، عدم تحفظ، کم عمری کی شادی، بلا معاوضہ کام اور قدامت پسند توقعات کی وجہ سے مشکل بنا دیا جاتا ہے۔ سب سے پہلی رکاوٹ تعلیم تک رسائی ہے۔ بہت سے دیہات میں پرائمری اسکول موجود ہیں، لیکن سیکنڈری اسکول اور کالج قریبی قصبوں یا شہروں میں ہوتے ہیں۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں زیادہ تر بچیاں تعلیم چھوڑ دیتی ہیں۔ والدین جو ابتدائی تعلیم تک بیٹی کو اسکول بھیجنے پر آمادہ ہوتے ہیں، بلوغت کے بعد طویل فاصلہ روزانہ طے کرانے میں ہچکچاتے ہیں۔ محفوظ اور قابلِ اعتماد ٹرانسپورٹ کی عدم موجودگی جغرافیائی فاصلے کو صنفی رکاوٹ میں بدل دیتی ہے۔ اگر بچی اسکول تک محفوظ طریقے سے پہنچ ہی نہ سکے تو تعلیم کا حق کاغذی دعوی بن کر رہ جاتا ہے۔ سکیورٹی اسی مسئلے کا دوسرا رخ ہے۔ والدین کو سفر کے دوران ہراسانی، تشدد اور سماجی بدنامی کا خدشہ رہتا ہے۔ خراب سڑکیں اور ناکافی پبلک ٹرانسپورٹ ان خدشات کو بڑھاتی ہیں۔ ایک ہی عمر کے لڑکے کو کئی کلومیٹر دور جانے کی اجازت مل جاتی ہے، لیکن لڑکی کو اس کی نقل و حرکت کو خطرناک سمجھ کر گھر تک محدود کر دیا جاتا ہے۔ یوں عدم تحفظ خود خواتین کی نقل و حرکت پر پابندی کا جواز بن جاتا ہے۔سیکنڈری اور اعلی تعلیم پر یہ مسئلہ مزید سنگین ہو جاتا ہے۔ جب قریبی کالج دستیاب نہ ہو تو بچیوں کو دوسرے شہر جانا پڑتا ہے۔ محدود آمدنی والے خاندان نجی ٹرانسپورٹ یا ہاسٹل کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔ نتیجتا بہت سی ذہین لڑکیاں عین اس وقت تعلیم چھوڑ دیتی ہیں جب ان کی فکری صلاحیتیں پروان چڑھ رہی ہوتی ہیں۔ ملک اس طرح صرف چند کیریئرز سے نہیں بلکہ اپنے انسانی سرمائے کے ایک بڑے حصے سے محروم ہو جاتا ہے۔ غربت اس مسئلے کو پیچیدہ بنا دیتی ہے۔ کمزور معاشی خاندانوں میں تعلیم کو فوری معاشی فائدے سے جوڑ کر دیکھا جاتا ہے۔ بیٹوں سے کمانے کی توقع رکھی جاتی ہے جبکہ بیٹیوں کے بارے میں تصور ہوتا ہے کہ انہوں نے شادی کے بعد دوسرے گھر چلے جانا ہے۔ محدود وسائل میں بیٹے کی تعلیم کو ترجیح دی جاتی ہے۔ یہ سوچ معاشی طور پر بھی دور اندیش نہیں، کیونکہ ایک تعلیم یافتہ بیٹی نہ صرف خود کما سکتی ہے بلکہ خاندان کی صحت، غذائیت اور بچوں کی تعلیم کو بھی بہتر بناتی ہے۔ کم عمری کی شادی بھی تعلیم کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ بعض دیہی معاشروں میں شادی کو لڑکی کی فطری منزل سمجھا جاتا ہے جبکہ تعلیم کو ثانوی حیثیت حاصل ہے۔ والدین کو خدشہ ہوتا ہے کہ زیادہ تعلیم شادی میں تاخیر اور روایتی کرداروں کو چیلنج کرے گی۔ شادی کے بعد گھر کی ذمہ داریاں اور بچوں کی پرورش تعلیم جاری رکھنے کے امکانات کو مزید محدود کر دیتی ہیں۔ اصل مسئلہ یہ تصور بھی ہے کہ شادی کے بعد عورت کی پیشہ ورانہ زندگی ختم ہو جانی چاہیے۔ ایک لڑکی بہترین کارکردگی کے ساتھ فارغ التحصیل ہو سکتی ہے مگر اس کے نئے خاندان کی طرف سے ملازمت کو غیر ضروری سمجھا جاتا ہے۔ اس صورت میں تعلیم ڈگری تو بن جاتی ہے لیکن بااختیاری کا ذریعہ نہیں بنتی۔ ایک نظر انداز مسئلہ خواتین کی پوشیدہ محنت ہے۔ دیہی لڑکیاں زراعت، مویشی پالنے، دستکاری اور خاندانی کاروبار میں نمایاں کردار ادا کرتی ہیں، لیکن ان کی محنت نہ معاوضہ پاتی ہے اور نہ روزگار میں شمار ہوتی ہے۔ یہ تضاد قابلِ غور ہے کہ معاشرہ لڑکی کی بلا معاوضہ محنت کو قبول کر لیتا ہے کیونکہ اس سے خاندان کو فائدہ ہوتا ہے، لیکن اسی لڑکی کے باقاعدہ تنخواہ والی ملازمت پر سوال اٹھائے جاتے ہیں۔ اصل اعتراض اکثر کام پر نہیں بلکہ معاشی خودمختاری پر ہوتا ہے۔ سماجی اور ثقافتی پابندیاں بھی پیشہ ورانہ انتخاب کو محدود کرتی ہیں۔ بعض پیشے اس لیے نامناسب سمجھے جاتے ہیں کہ ان میں سفر، مردوں کے ساتھ رابطہ، دوسرے شہر میں رہائش یا طویل اوقاتِ کار شامل ہیں۔ نتیجتا ایک ذہین طالبہ جو انجینئر یا سائنس دان بن سکتی ہے، اسے صرف اس لیے محدود شعبے کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے کہ وہ روایتی توقعات سے مطابقت رکھتا ہے۔مذہب اور ثقافتی قدامت پسندی میں فرق ضروری ہے۔ بہت سے علما خواتین کی تعلیم کے حامی ہیں، لیکن بعض دیہی علاقوں میں والدین کو مقامی بااثر شخصیات کی طرف سے ایسے دبا کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو مخلوط تعلیم یا پیشہ ورانہ زندگی کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ معاشی طور پر کمزور خاندان اس موقف کو چیلنج کرنے سے ہچکچاتا ہے اور ثقافتی پابندی کو مذہبی جواز مل جاتا ہے۔اس مسئلے کا حل محاذ آرائی میں نہیں بلکہ باشعور سماجی تبدیلی میں ہے۔ سب سے پہلے ریاستی پالیسی کو اسکول کی عمارت سے آگے بڑھنا ہوگا۔ دیہی بچیوں کے لیے سیکنڈری اور کالج کی سطح پر محفوظ اور کم خرچ ٹرانسپورٹ، جہاں روزانہ سفر ممکن نہ ہو وہاں محفوظ ہاسٹل، اسکولوں میں چار دیواری، واش رومز، خواتین اساتذہ اور ہراسانی کی شکایات کا مثر نظام یقینی بنایا جائے۔ دوسرا، مالی معاونت کو ان نازک مراحل پر مرکوز کیا جائے جہاں ڈراپ آٹ زیادہ ہوتا ہے۔ پرائمری سے سیکنڈری اور سیکنڈری سے کالج منتقلی کے لیے وظائف اور مشروط امداد بہت سی بچیوں کو تعلیم جاری رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔ تیسرا، ٹیکنالوجی کو فاصلے کم کرنے کے لیے استعمال کیا جائے۔ ڈیجیٹل کلاس رومز اور کمیونٹی لرننگ سینٹرز دیہی طلبہ کو ان مضامین تک رسائی دے سکتے ہیں جو مقامی طور پر دستیاب نہیں۔ تاہم اسے بنیادی سہولیات کا متبادل نہیں بنانا چاہیے، کیونکہ بجلی، انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل خواندگی کے بغیر ٹیکنالوجی کا وعدہ ادھورا ہے۔ چوتھا، کیریئر کونسلنگ کو دیہی تعلیم کا لازمی حصہ بنایا جائے۔ لڑکیوں کو وظائف، فنی تربیت، کاروبار اور سرکاری ملازمتوں سے آگاہ کیا جائے۔ اپنے ہی علاقے سے تعلق رکھنے والی کامیاب خواتین کو رول ماڈل کے طور پر سامنے لانا سب سے مثر طریقہ ہے۔ جب ایک لڑکی اپنی جیسی پس منظر کی خاتون کو ڈاکٹر، استاد یا افسر بنتے دیکھتی ہے تو اس کے اپنے خوابوں کی حد بھی وسیع ہوتی ہے۔ آخر میں، والدین اور مقامی برادری کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔ والدین کو صرف رکاوٹ سمجھنا درست نہیں۔ اکثر وہ اپنی بیٹیوں کی سلامتی، عزت اور مستقبل کے بارے میں حقیقی خدشات رکھتے ہیں۔ اگر ریاست محفوظ ٹرانسپورٹ، معیاری تعلیم اور قابلِ اعتماد روزگار کے راستے فراہم کرے تو ان کے پاس بیٹیوں کی تعلیم روکنے کی وجوہات کم ہو جائیں گی۔ اس عمل میں ان مذہبی علما کو شامل کیا جائے جو تعلیم کے حامی ہیں تاکہ یہ پیغام واضح ہو کہ تعلیم خاندانی اقدار کے منافی نہیں۔ دیہی لڑکیوں کی تعلیم کو یقینی نہ بنا پانا محض صنفی مسئلہ نہیں بلکہ قومی ترقی کی ناکامی ہے۔ یہ پاکستان کے ایک بڑے غیر استعمال شدہ انسانی سرمائے کا ضیاع ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ دیہی لڑکیاں پڑھنا چاہتی ہیں یا نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ کیا معاشرہ ان رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے تیار ہے؟تعلیمی ترقی کا پیمانہ صرف اسکولوں کی تعداد نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ایک دور افتادہ گاں میں پیدا ہونے والی لڑکی کتنی محفوظ اور آزادانہ طور پر اسکول سے کالج اور انحصار سے باوقار معاشی شرکت تک پہنچ سکتی ہے۔ جب تک یہ سفر چند خوش قسمت کے بجائے لاکھوں دیہی بیٹیوں کے لیے ممکن نہیں بنتا، مساوی مواقع کا وعدہ ادھورا رہے گا۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *