بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 25.2°C
Tuesday, 18 August 2026 | پاکستان: 7 ر بیع الاول 1448

ذہنوں کی تعمیر امتحانی مشینیں نہیں

Tuesday, 18 August, 2026

مساوی نہیں رہتا اور میرٹ بھی معاشی فرق سے متاثر ہونے لگتا ہے۔ طلبہ کا بڑا حصہ اسکول، کالج اور ٹیوشن کے درمیان اپنا زیادہ وقت صرف کرتا ہے، جس کے باعث کھیل، تخلیقی سرگرمیوں، ذاتی مطالعے اور خاندانی زندگی کے لیے وقت کم رہ جاتا ہے۔ کامیابی کا تصور بھی اکثر تخلیقی صلاحیت اور فکری نشوونما کے بجائے نمبروں، رٹے اور امتحانی تیاری تک محدود ہو گیا ہے۔ یہ مسئلہ صرف اسکول یا کالج کی سطح تک محدود نہیں بلکہ CSS اور دیگر مسابقتی امتحانات تک بھی پھیل چکا ہے۔ کوچنگ مراکز رہنمائی فراہم کر سکتے ہیں، لیکن کامیابی کا انحصار صرف مہنگی تیاری پر نہیں ہونا چاہیے۔ سرکاری امتحانات میں امیدوار کی صلاحیت، علم اور محنت کو بنیادی حیثیت حاصل ہونی چاہیے، نہ کہ اس کی مالی حیثیت کو۔ تعلیمی نظام میں سماجی علوم، ہیومینٹیز اور ادب کو بھی مناسب اہمیت نہیں دی جا رہی۔ ایک جدید ملک کو صرف ڈاکٹر، انجینئر اور سائنس دان ہی نہیں بلکہ ماہرینِ معاشیات، سماجیات، تاریخ، سیاست، فلسفے اور فنون کے ماہرین کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ شعبے معاشرے کو سمجھنے، بہتر پالیسیاں بنانے اور انسانی مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اساتذہ کا معیار بھی تعلیمی ترقی کی بنیاد ہے۔ کوئی بھی نظام اپنے اساتذہ کے معیار سے بلند نہیں ہو سکتا۔ بہت سے اساتذہ جدید تدریسی طریقوں، تعلیمی نفسیات اور طلبہ کی ذہنی ضروریات کے حوالے سے مناسب تربیت حاصل نہیں کر پاتے۔ نتیجتا ایسا ماحول پیدا ہوتا ہے جہاں سوال کرنے اور آزادانہ سوچنے کے بجائے رٹنے کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اساتذہ کی بھرتی اور ترقی شفاف معیار، پیشہ ورانہ قابلیت اور مسلسل تربیت کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔ اچھا استاد صرف معلومات فراہم نہیں کرتا بلکہ طلبہ میں تجسس، تنقیدی سوچ اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔ نصاب میں بھی بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ تعلیمی مواد کو جدید دنیا کے تقاضوں کے مطابق بنایا جانا چاہیے تاکہ طلبہ میں سائنسی سوچ، آئینی اقدار، برداشت، جمہوری شعور اور تنوع کے احترام کو فروغ ملے۔ مذہبی تعلیم کو بھی ایسا ہونا چاہیے جو اخلاقی تربیت اور احترام پیدا کرے، نہ کہ تقسیم یا عدم برداشت کا ذریعہ بنے۔ کھیلوں اور ہم نصابی سرگرمیوں کو بھی تعلیم کا لازمی حصہ سمجھنا چاہیے۔ کھیل طلبہ میں نظم و ضبط، تعاون، قیادت اور مشکلات کا سامنا کرنے کی صلاحیت پیدا کرتے ہیں۔ اسی طرح ادب، موسیقی، تھیٹر اور دیگر فنون نوجوانوں کی تخلیقی اور جذباتی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تعلیم کا مقصد صرف امتحانات میں کامیابی حاصل کرنا نہیں بلکہ ذمہ دار شہری پیدا کرنا بھی ہے۔ اسکولوں اور جامعات کو طلبہ میں دیانت داری، برداشت، ہمدردی، اختلافِ رائے کا احترام اور شہری ذمہ داری جیسے اوصاف پیدا کرنے چاہئیں۔ نوجوانوں کی سیاسی اور شہری تربیت بھی ضروری ہے۔ تعلیمی اداروں کو جماعتی سیاست کا مرکز نہیں بننا چاہیے، لیکن طلبہ کو جمہوریت، آئین، عوامی پالیسی اور سماجی مسائل کو سمجھنے کے مواقع ضرور ملنے چاہئیں۔ مباحثے، طلبہ سوسائٹیز اور شہری تعلیم نوجوانوں کو ذمہ دار شہری بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ صنفی عدم مساوات بھی پاکستان کے تعلیمی نظام کا ایک اہم مسئلہ ہے۔ خصوصا دیہی اور دور دراز علاقوں میں لڑکیوں کو تعلیم کے حصول میں مختلف رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک ملک اس وقت تک مکمل ترقی نہیں کر سکتا جب تک وہ اپنی نصف آبادی کو برابر مواقع فراہم نہ کرے۔ تعلیم کی بڑھتی ہوئی لاگت بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ ریاست کو تعلیم کیلئے زیادہ وسائل فراہم کرنے، فیس کے نظام میں شفافیت لانے اور ایسے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جن سے تعلیم عام خاندانوں کیلئے قابلِ رسائی رہے۔ نجی شعبے کی شمولیت ضروری ہو سکتی ہے، لیکن اس کیلئے موثر نگرانی اور معیار کو یقینی بنانا ہوگا۔ پاکستان کو جامع تعلیمی اصلاحات کی ضرورت ہے جن میں اساتذہ کی تربیت، نصاب کی جدید کاری، کھیلوں اور فنون کا فروغ، سماجی علوم کی بحالی، صنفی رکاوٹوں کا خاتمہ اور تعلیمی قیادت کی بہتری شامل ہو۔ جامعات کو صرف ڈگریاں دینے والے اداروں کے بجائے تحقیق، جدت اور فکری ترقی کے مراکز بننا چاہیے۔ تعلیمی نظام دراصل اس معاشرے کی عکاسی کرتا ہے جسے ایک ملک تشکیل دینا چاہتا ہے۔ اگر پاکستان ایک جمہوری، ترقی پسند، تخلیقی اور عالمی سطح پر مسابقتی معاشرہ بننا چاہتا ہے تو اسے ایسا نظامِ تعلیم قائم کرنا ہوگا جو سوال کرنے، تخلیق کرنے، اختلاف کا احترام کرنے اور علم حاصل کرنے کی حوصلہ افزائی کرے۔ طلبہ پاکستان کا مستقبل ہیں۔ ان کی تعلیم، فکری آزادی، صحت اور مساوی مواقع میں سرمایہ کاری دراصل ملک کی ترقی اور بقا میں سرمایہ کاری ہے۔ تعلیم کی اصلاح صرف اسکولوں اور جامعات کی بہتری نہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل کی تعمیر کا عمل ہے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *