بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 25°C
Saturday, 08 August 2026 | پاکستان: 25 صفر 1448

رواداری امن کی بنیاد!

Saturday, 8 August, 2026

ملک میں مسلک، فرقہ، زبان اور قومیت کے نام پر جو کھیل کھیلا جا رہا ہے، اس کے نہایت خطرناک نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ ہمارا معاشرہ صرف دہشت گردی کے مسئلے تک محدود نہیں رہا بلکہ فرقہ واریت، لسانی تعصب اور عدم برداشت جیسے مسائل بھی قومی وحدت کے لیے بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔ بعض عناصر اپنے سیاسی اور ذاتی مفادات کے لیے عوام کو مذہب، مسلک، زبان اور ذات کی بنیاد پر تقسیم کرتے ہیں، حالانکہ دینِ اسلام انسانوں کو جوڑنے، محبت، اخوت اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے، نفرت اور انتشار کا نہیں۔ دہشت گردی اور فرقہ واریت ایک دوسرے سے لازم و ملزوم ہیں۔ جہاں فرقہ وارانہ نفرت کو فروغ دیا جاتا ہے، وہاں انتہاپسندی اور تشدد کے لیے راستہ ہموار ہوتا ہے۔ نفرت انگیز سوچ آہستہ آہستہ معاشرے میں برداشت، مکالمے اور باہمی احترام کی جگہ لے لیتی ہے اور اختلافِ رائے دشمنی میں تبدیل ہونے لگتا ہے۔ یہی ماحول دہشت گرد عناصر کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اس لیے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے صرف سکیورٹی اقدامات کافی نہیں، بلکہ فرقہ واریت، تعصب اور نفرت انگیز بیانیے کا خاتمہ بھی ضروری ہے۔ جب تک معاشرے میں رواداری اور احترامِ انسانیت کو فروغ نہیں دیا جائے گا، امن کا خواب مکمل طور پر شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ایسے حالات میں اہلِ قلم، دانشوروں، شاعروں اور صحافیوں کی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ کسی دانشور نے کیا خوب کہا ہے کہ “جب سیاست لڑکھڑاتی ہے تو ادب اسے سنبھالتا ہے۔” تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی معاشرے میں نفرت اور تقسیم کی سیاست نے سر اٹھایا، ادب نے انسانیت، محبت اور اتحاد کا پیغام دیا۔ شاعر، ادیب اور صحافی اپنے قلم کے ذریعے شعور بیدار کرتے رہے ہیں اور ان قوتوں کو بے نقاب کرتے رہے ہیں جو معاشرے کو تقسیم کرکے اپنے مفادات حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ ادب صرف الفاظ کا خوبصورت امتزاج نہیں بلکہ معاشرے کی فکری تربیت کا ذریعہ بھی ہے۔ شاعر معاشرے کا حساس فرد ہوتا ہے جو اپنے گرد و پیش کے حالات، انسانی جذبات، دکھوں، خوشیوں اور مسائل کو محسوس کرکے انہیں الفاظ کا روپ دیتا ہے۔ شاعری اور ادب کا مقصد صرف حسن و جمال کی عکاسی نہیں بلکہ انسانی اقدار، امن، محبت اور سچائی کو فروغ دینا بھی ہے۔شاعری کی مختلف اصناف مثلاً حمد، نعت، غزل، نظم، قطعہ، مثنوی، منقبت، گیت، دوہا، ہائیکو اور دیگر اصناف نے ہر دور میں انسانی جذبات کی ترجمانی کی ہے۔ بڑے شعراء نے ہمیشہ اپنے فن کے ذریعے انسانیت کو جوڑنے کی کوشش کی۔ انہوں نے محبت کو نفرت پر، روشنی کو اندھیرے پر اور امن کو تشدد پر ترجیح دینے کا پیغام دیا۔شاعر اور ادیب جہاں زندگی کے حسین پہلوؤں کو بیان کرتے ہیں، وہیں معاشرتی مسائل کی نشاندہی بھی کرتے ہیں۔ لب و رخسار اور حسن و جمال کی شاعری اپنی جگہ اہم ہے، لیکن موجودہ دور کے تقاضے یہ ہیں کہ اہلِ قلم معاشرے کے سلگتے ہوئے مسائل کو بھی اپنی تحریروں کا حصہ بنائیں۔ فرقہ واریت، دہشت گردی، غربت، ناانصافی، عدم مساوات اور نوجوان نسل کے مسائل ایسے موضوعات ہیں جن پر قلم اٹھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔محبت کی طاقت کمزور پڑتی ہے تو نفرت کا اندھیرا بڑھنے لگتا ہے۔ دلوں کو جوڑنے کے کام میں شاعروں اور ادیبوں نے ہر دور میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے انسان کو انسان سمجھنے، ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونے اور اختلافات کے باوجود احترام کا رشتہ قائم رکھنے کا درس دیا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو معاشرے کو انتشار سے نکال کر امن اور ترقی کی طرف لے جا سکتا ہے۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ قلم کو تعمیری مقصد کیلئے استعمال کیا جائے۔ ادب اور شاعری کے ذریعے دلوں کو جوڑنے، شعور بیدار کرنے اور امن کا پیغام عام کرنے کی کوشش کی جائے۔ تاریخ ثابت کرتی ہے کہ بڑی فکری اور سماجی تبدیلیوں میں اہلِ قلم کا کردار ہمیشہ نمایاں رہا ہے۔ انہوں نے لوگوں کے ذہنوں کو بیدار کیا اور انہیں بہتر مستقبل کیلئے سوچنے پر مجبور کیا۔رواداری کے فروغ میں تعلیم، میڈیا اور سماجی اداروں کا کردار بھی بہت اہم ہے۔ تعلیمی ادارے اگر طلبہ میں برداشت، احترام اور مکالمے کی عادت پیدا کریں تو نئی نسل نفرت کے بجائے مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھے گی۔ اسی طرح میڈیا اور سوشل میڈیا کو بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا، کیونکہ ایک لفظ یا ایک پیغام معاشرے میں محبت بھی پھیلا سکتا ہے اور نفرت بھی۔علمائ، دانشوروں، سیاسی رہنماؤں اور سماجی کارکنوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو تقسیم کرنے کے بجائے متحد کرنے کی کوشش کریں۔ اختلافات ہر معاشرے میں ہوتے ہیں، لیکن مہذب قومیں انہیں تشدد کے ذریعے نہیں بلکہ دلیل، مکالمے اور برداشت کے ذریعے حل کرتی ہیں۔ دوسروں کے عقائد، نظریات اور ثقافت کا احترام ایک پرامن معاشرے کی بنیادی شرط ہے۔تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ امن کے داعی شعراء اور مفکرین نے نامساعد حالات میں بھی انسانیت کے اصولوں سے انحراف نہیں کیا۔ انہوں نے محبت، سچائی اور بھائی چارے کی شمع روشن رکھی۔ ان کا پیغام یہی تھا کہ انسان کی عزت و احترام کو مقدم رکھا جائے اور نفرت کے بجائے محبت کو فروغ دیا جائے۔ریاستی اداروں، سیاسی و سماجی تنظیموں اور عوام سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ رواداری کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ عوام کو یہ باور کرانا ضروری ہے کہ پاکستان کی اصل طاقت اس کی وحدت، اتحاد اور یکجہتی میں ہے۔ جب قوم متحد ہوتی ہے تو بڑے سے بڑے چیلنج کا مقابلہ کر سکتی ہے۔دلوں کو جوڑنے والے لوگ ہر دور میں موجود رہے ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے۔ اسی طرح نفرت پھیلانے والے عناصر بھی ہر دور میں رہے ہیں، لیکن تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ محبت، امن اور سچائی کے حق میں آیا ہے۔ آج ہمیں ضرورت ہے کہ ہم نفرت کے اندھیروں کو ختم کرکے رواداری، بھائی چارے اور انسانیت کی روشنی کو عام کریں۔اگر ہم نے محبت، برداشت اور احترام کو اپنی اجتماعی زندگی کا حصہ بنا لیا تو نہ صرف دہشت گردی اور فرقہ واریت کے خلاف مؤثر جدوجہد ممکن ہوگی بلکہ ایک ایسا معاشرہ بھی تشکیل پائے گا جہاں ہر شہری خود کو محفوظ، باعزت اور برابر کا شریکِ وطن محسوس کرے گا۔ یقیناً محبت کی شمع کبھی بجھی نہیں اور نہ کبھی بجھے گی، کیونکہ آخرکار فتح ہمیشہ روشنی ہی کی ہوتی ہے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *