بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 17.4°C
Tuesday, 20 October 2026 | پاکستان: 10 جمادی الاول 1448

زندگی کی تلخ حقیقتیں

Tuesday, 20 October, 2026

(گزشتہ سے پیوستہ)
موٹی رقموںکے بڑے بڑے قرضے یا تو معاف کروا لئے جاتے ہیں یا بیشتر کمپنیاں دیوالیہ ہو جاتی ہیں عام آدمی کو خود روزگار کے قرضے دینے سے حکومت کے وسائل جو اکثر ضائع ہو جاتے ہیں مفید ہاتھوںمیں جانے سے ملک میں حقیقتاً انقلاب بپا ہو سکتاہے اس سوال کا جواب یقیناکسی کے پاس نہیں ہے کہ زرعی ملک ہونے کے باوجود اکثر دالوں اورسبزیوںکی آسمان سے باتیں کرتی قیمتیں عوام کے ہوش اڑاکررکھ دیتی ہیں ہرسال ماہ ِصیام میں تو گویا قیمتوںکو پر لگ جاتے ہیں اور سفیدپوش لوگوں کو مہنگائی کے مارے کوئی ڈھنگ کی چیز سحری اور افطاری میں میسر نہیں آتی عام آدمی تواب بھی غریب ہے اور وہی مسائل،وہی محرومیاں ان کا مقدر ٹھہریں کوئی بھی حکومت آجائے زرداری، نوازشریف یا عمران خان حکمران ہو یاکوئی اور ،جمہوریت ہو یا ڈکٹیٹرشپ ۔ عوام کی طرز ِ زندگی پرکوئی فرق نہیں پڑتا ان کی حالت اور حالات تبدیل نہیں ہوتے بحران در بحران عوام کو ہلا کررکھ دیتے ہیں ان بحرانوں کی آڑ میں ناجائز منافع خوروں کا اربوں روپے کما لینا معمول کی بات ہے ،کبھی لوڈشیڈنگ ، اووربگنگ اوربجلی،سوئی گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عوام پر بجلی بن کر گرتا ہے اورکبھی اشیائے خوردو نوش کی قیمتیں خواب میں آکر ڈراتی رہتی ہیں ۔۔کبھی انتہا پسندی اور دہشت گردی کے واقعات خوف وہراس کا باعث بنتے ہیں شہریوں کی اکثریت زندگی کی بنیادی سہولتوں سے یکسرمحروم ہے۔ابلتے گٹر،ٹوٹی سڑکیں اور مسائل در مسائل نے جینا عذاب بنا دیا،آلودہ پانی کے استعمال سے بیماریوں میںخطرناک حد تک اضافہ ہو گیا،دہشت گردی،بیروزگاری اورمہنگائی سے لوگ عاجز آگئے خلوص ِ نیت شرط ہے یقین جانئے حکومت محض تھوڑی سی توجہ دے تو عوام کیلئے بہت کچھ کر سکتی ہے تھوڑی سی توجہ۔ذرا سی محنت سے عوام کو ان کے گمشدہ حقوق دئیے جا سکتے ہیں حکمران عوام کی امیدوںپر پورے نہ اتریں تو یقینا وہ حکومت مخالف لیڈروںکی طرف دیکھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں عوام نے میاں نواز شریف سے بہت پیار کیا تھا تیسری مرتبہ انہیں وزیرِاعظم بنایا تھا یہ کوگی معمولی بات نہیں جب کرپشن کی طلسم ِ ہوشربا منظر ِ عام پر آئی تو عوام میں زبردست اضطراب تھا میاںنوازشریف عوام کو سچ سچ بتانے کی بجائے یہی کہتے پھرتے رہے کہ مجھے کیوں نکالا؟ آصف زرداری نے بھی عوام کو سچ نہیں بتایا ان کے اکلوتے صاحبزادے کرپشن کا دفاع کرتے پھرتے ہیں یہی حال میاں شہبازشریف اور ان کے ہونہار بیٹوںکا ہے ایک مفرور دوسرا اس روز وزیر ِ اعلیٰ بن گیا جس روز اس پر نیب عدالت نے فرد ِ جرم عائد کرنا تھی مزے کی بات ہے ان کے بہنوئی بھی مفرور ہیں کوئی بھی عوام کو سچ بتانے کو تیارنہیں اقتدار میں ہونے کے باوجود نیب عدالتوں میں اکثر کرپشن، منی لانڈرنگ، بے نامی اکاؤنٹس میں پیشیاں ہوتی ہیں ۔ ایک اور سابقہ وزیرِ اعظم عمران خان بھی عوام سے وعدہ کیا تھا میں ہمیشہ سچ بولوںگا لیکن انہوںنے درجنوں بار یو ٹرن لے لیا اب ان کی اس اداپر بھی سو سو تاولیں پیش کی جارہی ہیں ۔عوام کے حقوق کی باتیں تو بہت ہوتی ہیں سیاستدان تو اکثر عوام کو آئین ،قانون اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے خواب دکھاتے رہتے ہیں کوئی نیا پاکستان بنانے کا دعوےٰ کی کررہاہے کوئی انقلاب کی باتیں پاکستان میں تو ہمیشہ عوام کااستحصال کیا جاتا رہاہے حالانکہ سیاستدان ہی عوام کو نئے خوابوں سے روشناس کرواکر انہیں نئے خواب دکھاتے رہتے ہیں اور عوام اپنی آنکھوں میں یہ خواب سجاکر روشن مستقبل اور ترقی و خوشحالی کی دعائیں کرتے رہتے ہیں خدا کرے یہ جاگتی آنکھوں کے سپنے پورے ہو جائیں ان خوابوںکو بھی تعبیر ملے جو بے رنگ زندگی گذاررہے ہیں۔ خوفناک بات یہ ہے کہ عوام کو مہنگائی،بدامنی اور لوڈشیڈنگ کی دلدل سے نکالنے کیلئے حکمرانو ںنے بھی کچھ نہیں کیا، جاگتی آنکھیں آج ایک اور خواب دیکھ رہی ہیں یہ خواب ہے پاک چائنہ اقتصادی راہداری منصوبے کا شنیدہے کہ اس کی تکمیل سے پاکستان میں نئے انقلابی دورکا آغازہوگا جس سے ملک بھر میں ترقی و خوشحالی کی لہر دوڑ جائے گی سناہے یہ منصوبہ پاکستان کی ترقی میں ریڈھ کی ہڈی کی مانندہے اس عظیم قومی منصوبہ کو متنارعہ بنانے کی سارش کرنے والے ملک وقوم کے دشمن ہیںحالانکہ پاک چائنہ اقتصادی راہداری کا فائدہ تمام صوبوںکوہوگاپاکستان کی سیاسی قیادت کا ا س منصوبہ پر اتفاق قومی امنگوں کا مظہرہے حکومت نے چھوٹے صوبوں کے تحفظات جس اندازسے دور کرانے کی یقین دہانی کروائی ہے وہ خوش آئندہے۔منصوبے میں مغربی روٹ کو ترجیح دی جائے گی جس سے ظاہر ہوتاہے کہ موجودہ حکومت تمام صوبوں کو یکساں حقوق د ینے کے لئے پرعزم ہے کونا وائرس نے ملکی معیشت کا دھڑن تختہ کرکے رکھ دیاہے کرونا ہے کیا؟ اس بارے روز نئی نئی کہانیاں سننے کو ملتی ہیں لیکن سچ کیاہے عام آدمی نہیں جانتا حالات مشکل سے مشکل تر ہوتے جارہے ہیں اس کے باوجود دعاہے کہ خداکر ے ہماری جاگتی آنکھوں کے خوابوںکو روشن مستقبل کی تعبیرملے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *