بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 28.5°C
Tuesday, 18 August 2026 | پاکستان: 6 ر بیع الاول 1448

سعودی عرب کیلئے ڈونلڈ ٹرمپ کا نیا ٹرمپ کارڈ

Monday, 27 July, 2026

سعودی عرب کے ساتھ ایک اہم سول جوہری معاہدے پر دستخط کرنے کے چند ہی گھنٹوں بعد،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک حیران کن بات کہی کہ یہ معاہدہ تبھی آگے بڑھے گا جب سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کرے اور نام نہادابراہیمی معاہدے پر دستخط کرے گا۔اگرچہ ریاض اس مطالبے پر خاموش رہا ہے،لیکن میڈیا رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ صیہونی ریاست کو تسلیم کرنا مذاکرات کا حصہ نہیں تھا، اور یہ غالبا ًمعاہدے میں ٹرمپ کا اپنا اضافہ ہے۔مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ سعودی عرب کو”انتہائی قابلِ احترام اور کامیاب ابراہیمی معاہدے میں شامل ہونا چاہیے، وہ اپنے اس پسندیدہ منصوبے کی وکالت کر رہے تھے جس کا آغاز ان کی پہلی مدتِ صدارت میں ہوا تھا،جب متحدہ عرب امارات، بحرین اور مراکش نے باضابطہ طور پر اسرائیل کو تسلیم کیا تھا۔مسٹر ٹرمپ کے اعلان کے بارے میں کسی بھی قسم کے ابہام کو دور کرنے کیلئے،وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری نے کہا کہ اگر سعودی عرب ان معاہدوں میں شامل ہونے سے انکار کرتا ہے تومعاہدہ ختم سمجھا جائے گا۔امریکی رہنما کچھ عرصے سے سعودی عرب اور پاکستان سمیت دیگر مسلم ممالک پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔تاہم،غزہ میں تل ابیب کی جانب سے نسل کشی پر مبنی تشدد اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے تصور کو تسلیم کرنے سے انکار کے پیشِ نظر،یہ اخلاقی طور پر ایک قابلِ مذمت تجویز ہے۔اسرائیل کو تسلیم کرنے کا مطلب فلسطینیوں کے ساتھ ساتھ پڑوسی عرب ریاستوں اور ایران کے خلاف اس کے تشدد کو جائز قرار دینا ہوگا۔سعودی عرب کا سرکاری موقف بدستور یہی ہے کہ جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب کوئی راستہ نہ بن جائے،تب تک اسے تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان نے بھی جس نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے امریکی مطالبات کی پہلے بھی مزاحمت کی ہے واضح طور پر کہا ہے کہ جب تک 1967 سے قبل کی سرحدوں اور القدس کو دارالحکومت کے طور پر رکھنے والی فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں نہیں آتا،تب تک اسرائیل کو تسلیم کرنا ایجنڈے میں شامل نہیں ہے۔مزید برآں،عوام میں فلسطین کی وسیع پیمانے پر حمایت پائی جاتی ہے اور فلسطینی عوام پر اسرائیل کی جانب سے ڈھائے جانے والے ہولناک تشدد پر شدید نفرت کا اظہار کیا جاتا ہے۔یہ صورتحال اسرائیل کو تسلیم کیے جانے کے امکان کو انتہائی کم کر دیتی ہے۔جہاں تک تل ابیب کے موقف کا تعلق ہے،موجودہ اسرائیلی وزیرِ اعظم کہہ چکے ہیں کہ فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں نہیں آئے گا۔یہاں تک کہ ‘لبرل’سمجھے جانے والے اسرائیلی سیاست دان بھی فلسطینی ریاست کی مخالفت پر ڈٹے ہوئے ہیں۔سعودی عرب کو اس عمل میں شامل کرنے کے لیے مسٹر ٹرمپ کی خواہش قابلِ فہم ہے۔اگرچہ او آئی سی(OIC)کے کئی رکن ممالک اسرائیل کو تسلیم کر چکے ہیں، لیکن اسلام کے مقدس ترین مقامات کے محافظ کی حیثیت سے سعودی عرب کا اسرائیل کو تسلیم کرنا مسلم دنیا میں اسرائیل کے ساتھ وسیع تر تعلقات کی بحالی (نارملائزیشن) کا دروازہ کھول دے گا۔پاکستان کو محتاط رہنا چاہیے۔اسے مسئلہ فلسطین پر اپنے اصولی موقف میں کوئی تبدیلی نہیں لانی چاہیے اور صیہونی ریاست کو تسلیم کرنے پر مجبور کرنے کی امریکی کوششوں کی بھرپور مزاحمت کرنی چاہیے۔غزہ میں تل ابیب کی جانب سے جاری تباہی و بربادی کی مہم اور لبنان، شام، یمن اور ایران کے خلاف جارحیت کی وجہ سے اسرائیل کا’برانڈ’دنیا بھر میں بدنام اور نفرت کی علامت بن چکا ہے۔کیا مسلم دنیا کو ایسی ریاست کو گلے لگانا چاہیے جو اپنی قاتلانہ پالیسیوں پر ذرا بھی شرمندگی محسوس نہیں کرتی، فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت پر بضد ہے،اور جس کے رہنما کھلے عام مسجدِ اقصی کی بے حرمتی کی باتیں کرتے ہیں؟
ایک نئی سفارتی کوشش
پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی اور جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔اطلاعات کے مطابق،چین کی جانب سے سفارتی سطح پر کی جانے والی کوششوں کے بعد اسلام آباد امریکہ اور ایران کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات کی بحالی کی راہ تلاش کر رہا ہے۔یہ کوششیں ایک ایسے نازک وقت میں کی جا رہی ہیں جب یہ تنازعہ ایک خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے؛مسلسل عسکری کارروائیاں اور بڑھتی ہوئی کشیدگی تصادم کا دائرہ کار وسیع کرنے کا خطرہ پیدا کر رہی ہیں۔بلاشبہ چین ان سفارتی کوششوں کو تقویت دینے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔بیجنگ پہلے ہی پاکستان اور دیگر فریقین کی جانب سے ثالثی کی کوششوں کی حمایت کر چکا ہے اور خطے میں استحکام کی بحالی میں اس کا براہِ راست مفاد ہے۔آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر کے راہداری سمیت اہم سمندری راستوں کا تحفظ بین الاقوامی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہے۔حوثیوں سے متعلق حالیہ کشیدگی اور علاقائی سمندری سلامتی–خاص طور پر سعودی عرب کے حوالے سے–ان کے خطرات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عدم استحکام کتنی تیزی سے پھیل سکتا ہے اور اہم اقتصادی راستوں کو متاثر کر سکتا ہے۔کسی بھی طویل تصادم کے سنگین اقتصادی اور سکیورٹی نتائج برآمد ہوں گے جو اس خطے سے کہیں دور تک اثر انداز ہوں گے۔دشمنی یا تصادم کا جاری رہنا کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہے۔وسیع تر عسکری تصادم کے نتیجے میں دیگر فریقین کے بھی اس میں شامل ہونے اور موجودہ بحران کے ایک وسیع علاقائی تنازعے میں تبدیل ہونے کا خطرہ ہے۔لہذا،دانشمندی کا مظاہرہ کیا جانا چاہیے۔تمام فریقین کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ تحمل، بات چیت اور مفاہمت ہی پائیدار امن اور استحکام کی جانب واحد حقیقت پسندانہ راستہ ہے۔فوری ترجیح عسکری کارروائیوں اور اشتعال انگیز بیانات کے سلسلے،دونوں کا خاتمہ ہونا چاہیے۔علاقائی اور عالمی سلامتی کے تحفظ کے لیے مذاکرات کے ذریعے حل ہی واحد پائیدار راستہ ہے۔
دلی سے اٹھنے والا طوفان اور مودی سرکار کیلئے خطرے کی گھنٹی
بھارتی وزیر اعظم نریندرمودی نے بھارت میں جاری طلباء تحریک کے سامنے گھٹنے ٹیک دئیے اور وزیرِ تعلیم سے استعفیٰ لے لیا ، امتحانی پرچوں کے لیک پر شروع ہونے والی تحریک کامیاب ،حکومت نے طلبہ کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے۔جمہوریت جیت گئی، کاکروچ جنتا پارٹی ،راہول گاندھی نے طلبہ پر تشدد کی تحقیقات اور مودی سے معافی کا مطالبہ کیا، امتحانی پرچوں کے بار بار لیک ہونے اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری کیخلاف دلی کے جنتر منتر سے شروع ہونے والی کاکروچ جنتا پارٹی(CJP)کی تحریک محض ایک عارضی طلبہ احتجاج نہیں، بلکہ مودی حکومت کے سیاسی مستقبل کے لیے ایک سنگین اور گونجتی ہوئی خطرے کی گھنٹی ہے۔ یہ تحریک، جو ایک عدالتی ریمارکس کے ردعمل میں طنز و مزاح سے شروع ہوئی تھی، دیکھتے ہی دیکھتے حالیہ برسوں میں مودی سرکار کے خلاف سب سے بڑی اور منظم ترین عوامی بغاوت بن کر ابھری ۔ریاستی طاقت کے بے جا استعمال، لاٹھی چارج، آنسو گیس اور انٹرنیٹ کی بندش کے باوجود یہ جین زی نوجوان پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہوئے۔ بالآخر پانچ ہفتوں کے شدید عوامی دباآ کے بعد 25جولائی کو انڈیا کے طاقتور وزیرِ تعلیم دھرمیندرپردھان کو مجبوراً اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا، جسے مبصرین مودی حکومت کے مضبوط لیڈر والے روایتی تشخص کیلئے ایک بہت بڑی ہزیمت قرار دے رہے ہیں۔ماہرین کا ماننا ہے کہ وزیر کا استعفیٰ تو صرف آغاز ہے، اصل خطرہ انتخابی سیاست سے باہر جنم لینے والا وہ جمہوری شعور ہے جہاں ملک کا نوجوان اب حکومت سے براہِ راست جوابدہی مانگ رہا ہے۔ مودی حکومت کیلئے سب سے بڑا لمحہ فکریہ یہ ہے کہ وہ نوجوان جو کبھی ان کا سب سے بڑا ووٹر بیس مانے جاتے تھے، اب وہ ان کی پالیسیوں سے شدید مایوس ہو چکے ہیں۔ ابھرتی ہوئی تحریک یہ ثابت کرتی ہے کہ اگر نوجوانوں کے روزگار اور مستقبل کے مسائل کو سنجیدگی سے حل نہ کیا گیا، تو دلی کی سڑکوں پر گونجنے والے یہ نعرے مودی حکومت کے اقتدار کے ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیں گے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *