محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ہم سے بچھڑے ہوئے پانچ برس ہوگئے ہیں ۔ اگرچہ حکومت یا ریاست ان کو بھول گئی ہے لیکن وہ آج بھی ہر پاکستانی کے دل میں بستے ہیں۔مگر ریاست کہاں کھڑی ہے کہ ایک بھی تقریب وزیر اعظم ہائوس ،صدرہائوس ، گورنرہائوسز ووزرائے اعلیٰ ہائوسز میں دکھائی نہیں دی۔کیا زندہ قوموں کا یہ شیوہ ہوتا ہے ۔ یہ اِن سے کیسی خاموش عقیدت وچاہت کا رشتہ ہے کہ ہر طر ف سرناٹا ہے ۔لب آزاد ہونے کے باوجود قوم بھی ایک عظیم محسن کو خراج تحسین پیش نہیںکررہی ہے۔وہ ایک شخص نہیںا پنی ذات میں انجمن تھے وہ قومی شخصیت جس کیلئے قوم کے دل میں قائداعظم کے بعد سب سے زیادہ احترام وعقیدت ہے۔ اگست1974 ء کو اُنہوںنے پاکستانی ایمبیسی کے ذریعے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو شہید کو خط لکھا کہ وہ پاکستان کو اٹیمی طاقت بنا سکتے ہیں اور پھر چند ماہ کی وزیر اعظم کی کوششوں سے وہ ایک شاندار مستقبل چھوڑ کر پاکستان شفٹ ہوگئے اور پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کی ٹیم میں شامل ہوگئے ۔ چند ہی ماہ میں اِن کو انداز ہ ہوگیا کہ ڈیپارٹمنٹ کے اندر سے اور بیورکریسی کے چند افسران کی جانب سے اِن کے کام میں روڑے اٹکائے جارہے ہیں۔ وہ ذوالفقار علی بھٹو شہید سے ملے اوراِن کو آگاہ کیا ۔ پھر وزیراعظم پاکستان نے ان کو مکمل اختیارات کے ساتھ کام کرنے کے احکامات جاری کیے کہ کوئی اِن کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنے گا ۔ 1975ء میں اِن کے کام کو اٹامک انرجی کمیشن سے الگ کرکے انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹری کی بنیاد رکھ کر کیا گیا جس کا تمام انتظام آرمی انجینئرنگ کورز اورپاک فوج سیکورٹی کے زیرنگرانی ڈاکٹر قدیر خان کو بطور چیف سائنٹسٹ کام کرنے کا مکمل اختیار مل گیا ۔ بعد میں آپ کے نام پر قدیر ریسرچ لیبارٹری کا نام اِس ادارے کو دے دیا گیا ۔ ذوالفقار علی بھٹو شہید کی حکومت کے بعد ضیا الحق کا گیارہ سالہ دور آیا تو وہ بھی پاکستان اٹیمی پراجیکٹ کیلئے سینہ تان کر امریکہ ودیگر یورپی یونین طاقتون کے سامنے کھڑے رہے اورصرف دس سالوں کی محسن پاکستان اور اِن کی ٹیم کی کوششیں رنگ لائیں اور پھر دس دسمبر 1984ء کو آپ نے جنرل کے ایم عارف وائس چیف آف آرمی سٹاف کو خط لکھا کہ پاکستان نے اٹیمی صلاحیت حاصل کرلی ہے اور چوبیس گھنٹے کے نوٹس پر ہم اٹیمی دھماکہ کرسکتے ہیں۔یہ خط آرمی چیف جنرل ضیاالحق تک پہنچادیں۔صرف دس سال کی شب وروز کی محنت سے محسن پاکستان کو اٹیمی طاقت بنا دیا اورپھر مناسب وقت کا انتظار تھا کہ کب اٹیمی دھماکہ کرکے دُنیا کو بتا دیں کہ پاکستان ایک اٹیمی طاقت ہے اور پھر جب بھارت نے گیارہ مئی پانچ دھماکے اور تیرہ مئی کو دو دھماکے کیے تو پھر پاکستان ایک دم دبائو میں آگیا کہ دُشمن کو کیسے اِن د دھماکے کیے تو پھر پاکستان کے اُس وقت کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کیلئے یہ لازمی ہوگیا کہ وہ اٹیمی دھماکہ کرنے کا حکم جاری کریں۔ پھر 28 مئی 1998ء کو چاغی (بلوچستان ) کی پہاڑ پر اٹیمی دھماکہ ٹیسٹ کرکے دُنیا کو یہ بآور کروادیا گیاکہ پاکستان اب دُنیا ساتویں اٹیمی طاقت بن چکا ہے ۔ پھر اٹیمی طاقت بننے کے بعد ہرریاست پاکستان نے محسن پاکستان کے ساتھ کیا سلوک کیا یہ ایک دردناک وتکلیف دہ تاریخ ہے ۔ مشرف دور سے لیکر عمران خان تک ہر دور میںاِن سے ایک قیدی کا سلوک کیا گیا ۔ عدالتی حکم کے باوجود اِن کو مرتے دم تک گھر تک سیکورٹی کے نام پر محصور رکھا گیا وہ اپنے لیے انصاف مانگنے کیلئے عدالتوں کا چکر لگاتے رہے مگر انصاف اِن سے دُور کردیا گیا ۔ ریاست نے ان کے ساتھ وفا نہ کی اور عوام ان کی محبت و عقیدت کو بس دل میں ہی قید رکھا اور ان کے حقوق کیلئے کوئی بھی سڑکوں پر نہ آیا ۔ وہ جم غفیر جو اپنے لیڈروں کی ایک آواز پر لاکھوں وکروڑوںکی شکل میںسڑکوں پر آ جاتا ہے ۔ وکلاء کی تحریک ہو افتخارچودھری کیلئے تو یہی قوم اُس کے ساتھ مشرف کو غلط ثابت کرنے کیلئے آجاتی ہے ۔ کوئی سیاسی ومذہبی افراد کی جانب سے محسن پاکستان کے ساتھ اس سلوک پر کہ ان کی نقل وحرکت پر پابندی اور گھر میں محکوم کرنے پر آوازِ حق نکالنے کیلئے نہ تیار ہوئی ۔ جس انسان نے اپنی ساری زندگی اس مُلک کواٹیمی طاقت بنانے میںلگا دی۔ ہندوستا ن کے اٹیمی معمار ڈاکٹر ابوالاکلام کو صدر ہندوستان کا عہدہ دیا گیا ان کی وفات پر کس گارڈ آف آنرز کا اہتمام کیاگیا ۔سروسز چیف ووزرائے اعظم نے ان کو سلوٹ کیا۔اور آج ایک لمبی فہرست اُن ریسرچ اداروں وتعلیمی اداروں وقومی اداروں کی جن کے نام ہی ان کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے ان کے نام پر رکھ دیے ۔کیا ان کے نام پر اسلام آباد میں قومی یادگار نہیں بن سکتی جس میںان کی ساری زندگی اور اٹیمی طاقت بننے تک کا سفر نوجوان نسل کیلئے اپنی تاریخ کو محفوظ کرنے کیلئے ایک قومی اثاثہ کی شکل میں ہو۔ کوئی جامعہ ڈاکٹر قدیر خان کے نام پر اِسلام آباد میں نہیں بنائی سکتی ہے۔ وہ ایک بہترین کالم نگار بھی تھے جن کے کالمز ایک تاریخ کے طالب علم کیلئے نہایت قیمتی معلومات کے ساتھ منسلک ہیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد سیاست میں قدم رکھا مگر جلد ہی جان گئے کہ یہ شعبہ اِن کے قد آور شخصیت کے مطابق موافقت نہیں رکھتاہے اور وہ اِس کیلئے موزوں نہیں ہیں اور پھراُ نہوں نے اپنی ساری زندگی سماجی کاموں میں گزارنے کا فیصلہ کیا۔سماجی کاموں میں آپ نے مذہب ،تعلیم و صحت کے شعبے میں اُنہوں نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان ٹرسٹ کے زیرنگرانی ایک بڑا ویلفیئر پراجیکٹ ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہسپتال کے نام پر شروع کردیا جو کہ غریب ونادار افراد کیلئے خدمت کاسلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے ۔بہت ساری مساجد ،تعلیمی ادارے اور سوشل ویلفیئر سنٹر ز بھی محسن پاکستان نے اپنی زیرنگرانی اِس قوم کیلئے بنوائے ۔اسلا م آباد سے 80 کلومیٹر دُور ڈھمیک گائوںتحصیل سوہاوہ ضلع جہلم میں مشہورسلطان شہاب الدین محمد غوری مدفون ہے جس نے دہلی 1192 ء میں فتح کیا اور پہلا مسلمان حکمران ہندوستان کا بنا ۔ آپ سلطنت غوریا کے دُوسرے اورآخری حکمران تھے ۔مسلمانوں کے اپنے دور کے فاتح کی قبر کی خستہ حالت کی اطلاع آپ کو آپ کے ایک ڈرائیور نے دی اور پھر آپ نے فوری طور پر اِس کی تعمیر کا فیصلہ کیا اور مزار کے اندرونی حصہ۔قبر اور دیواروں پر سفید سنگ مرمر لگوا دیا اورچھت کو منکاری سے سجا ڈالا۔ایک تاریخی ورثہ کو محفوظ کرلیا یہ 1990 ء تک ایک سادہ قبر تھی جہاں مقامی لوگ قبر پر چراغ جلاتے تھے ۔ آپ نے1994-95 میں ایک شاندار مزار کی شکل میں بدل ڈالااورپھر بعد میں اِس تاریخ ورثہ کو آثار قدیمہ پنجاب کے حوالے کردیا۔و ہ ایک معاشق رسول ۖ تھے ۔صوم وصلوة کے پابند تھے۔وہ ایک رول ماڈل تھے جو منافقت سے دُور،ایک درویشن صفت انسان تھے۔ ایک بار اِن سے میںنے بذریعہ موبائل میسج پوچھا کہ نوجوان نسل کیلئے آپ کیا پیغام دیں گے تو کمال کا پیغام اُنہوںنے نوجوان نسل کیلئے دیا اور کہا کہ میرے وطن کے نوجوانو کو میرا پیغام دے دو”براہ کرم یاد رکھیں کہ ثابت قدمی اِس کی کامیابی کو یقینی بناتی ہے” ۔ دُ عاہے کہ اللہ تعالیٰ محسن پاکستان کو جنت الفردوس میں بلند مقام دے ( آمین)
گُزر توخیر گئی ہے تیری حیات قدیر
ستم ظریف مگر کوفیوں میں گُزری ہے






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں