دےن اسلام امن و سلامتی کا پےامبر ہے ۔دےن اور مذہب کے معاملے مےں جبر اور زےادتی کا حکم نہےں ہے ۔اےک ثقہ اصول اور اخلاقی ضابطہ بھی ہے کہ کسی کے عقےدہ کو مت چھےڑو تا کہ کوئی تمہارے عقائد کو نہ چھےڑے ۔جےو اور جےنے دو کی حکمت عملی ہی سب سے بہتر لائحہ عمل ہے ۔اسلام نے تو اپنے پےروکاروں کو تمام انبےاءعلےہم السلام کی عزت و تکرےم کا حکم دےا ہے۔مسلمان کبھی حضرت عےسیٰ کی توہےن کا تصور بھی نہےں کر سکتا ۔ان کی ذات اس کے اےمان کا حصہ ہے ۔دنےا کے تمام مذاہب کی بنےادی تعلےمات اےک سی ہےں اور عالمگےر سچائےوں ےعنی جھوٹ ،فرےب ،چغل خوری ،ناانصافی ،قتل و غارت سے نفرت اور انسانی حقوق کی علمبرداری تمام مذاہب کے ہاں ملتی ہے ۔
نہ جانے اغےار کے کچھ گروہ مسلمانوں کے مذہبی عقائد پر ضرب کاری کا تسلسل جاری رکھتے ہوئے اسلام اور اس کے ماننے والوں کو نقصان پہنچانے کی پالےسےوں پر عمل پےرا ہےں ۔دکھائی اےسا دےتا ہے مغرب مےں شدت پسندوں کے کچھ گروہ مسلموں اور غےر مسلموں کو آپس مےں دست و گرےباں کرنے کےلئے ان کے جذبات مجروح کرنے کی دانستہ کوشش کر رہے ہےں ۔ان کا مشن ہے کہ وہ مسلمانوں کے جذبات انگےختہ اور اشتعال دلا کر ان کے رد عمل کو دہشت گردی سے منسوب کرنے کا سامان مہےا کر سکےں ۔مقصد ےہی ہے ان کے رد عمل کو دہشت گردی سے منسوب کرنے کا سامان مہےا کر سکےں ۔مقصد ےہی ہے کہ اسلام کو دنےا مےں اےک پر تشدد مذہب کے روپ مےں پےش کےا جا سکے ۔دنےا کو اسلام کی حقانےت سے دور ہٹاےا جائے تاکہ عوام اس طرف راغب نہ ہوں لےکن جتنی کسی اعلیٰ و ارفع سچے پےغام کی مخالفت شدےد تر ہو گی اتنا ہی وہ پےغام اپنا حلقہ اثر بڑھاتا چلا جائے گا ۔اس وقت مغرب مےں تےزی سے پھےلنے والا مذہب اسلام ہی ہے ،ےہودی اور عےسائی پادری اپنے قدےمی مذہب کو ختم ہوتا دےکھ رہے ہےں ۔ےہی وجہ ہے کہ وہ اتنی گھٹےا حرکتوں پر اتر آئے ہےں ۔کفار ومشرقےن کی اﷲ و رسول اور قرآن و سنت کے خلاف ہرزہ سرائی پہلے دن سے ہے ۔
ستےزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغ مصطفوی سے شرار بو لہبی است
ہر گزرتے دن کے ساتھ دےن اسلام کو تضحےک کا نشانہ بنانا ،خاکوں کی شکل مےں مسلمانوں کے مذہبی جذبات پر وار کرنا اور مساجد مےں گولےاں مار کر ان کو شہےد کرنا اےک معمول بن چکا ہے ۔اب تو ہماری مقدس کتاب قرآن پاک کو ہی نذر آتش(نعوذ باﷲ)کےا جانے لگا ہے ۔عےد الاضحیٰ کے روز جب امت مسلمہ سنت ابراہےمی کی ادائےگی مےں مصروف عمل تھی سوےڈن کے دارالحکومت سٹاک ہوم مےں اےک مسجد کے باہر قرآن مجےد کو اےک مقامی فرد کی طرف سے نذر آتش کرنے کا واقعہ پےش آےا ۔اس معاملے کا نہاےت قابل غور پہلو ےہ ہے کہ ےہ مذموم فعل سوےڈن کی اےک عدالت کی باقاعدہ اجازت سے انجام دےا گےا ۔اس واقعے کے تقرےباً 200عےنی شاہدےن کے مطابق اسٹاک ہوم کی مسجد کے باہر دو سو مظاہرےن نے قرآن کے نسخے کو پھاڑ دےا اور مقدس اوراق کی بے حرمتی کرنے کے بعد انہےں نذر آتش کےا ۔بدھ کے روز مظاہرے سے قبل واقعے مےں ملوث شخص سلوان مومےکا نے اےک امرےکی نےوز چےنل کو بتاےا کہ وہ کسی مذہب کو نہےں مانتا ،وہ ےہ مظاہرہ عدالت مےں تےن ماہ کی قانونی لڑائی کے بعد کر رہا ہے اور اس کا مطالبہ ہے کہ قرآن پر پابندی لگائی جائے ۔واضع رہے کہ سوےڈن کی پولےس نے مسلم مخالف مظاہروں کی اجازت کی کئی درخواستےں خارج کر دی تھےں لےکن اےک مقامی عدالت نے پولےس کے ان فےصلوں کو ےہ کہتے ہوئے مسترد کر دےا کہ وہ آزادی اظہار کی خلاف ورزی کر رہے ہےں ۔مسجد کے ڈائرےکٹر اور امام محمود خلفی کا ےہ انکشاف بہت اہم ہے اور اس سے انتظامےہ کی ملی بھگت واضع ہے کہ مسجد انتظامےہ نے پولےس سے درخواست کی کہ وہ کم ازکم مظاہرے کو کسی دوسری جگہ منتقل کر دےں جو قانون کے مطابق ممکن ہو لےکن ےہ درخواست قبول نہےں کی گئی۔
سوےڈن کے اور پوری دنےا کے مسلمانوں نے اس واقعہ پر شدےد احتجاج کےا ہے ۔ےورپی ےونےن نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کےا ہے اور قرآن پاک نذر آتش کرنے کو توہےن آمےز اور اشتعال انگےزی پر مبنی اقدام قرار دےا ہے ۔ےورپی ےونےن نے اس حوالے سے اےک اعلامےہ جاری کےا ہے ۔اس اعلامےے مےں کہا گےا ہے کہ ےہ واقعہ قطعی طور پر ےورپی ےونےن کے نظرےات کی عکاسی نہےں کرتا ۔نسل پرستی ،غےر ملکےوں کے خلاف تعصب اور اس سے متعلقہ عدم برداشت کی ےورپ مےں کوئی گنجائش نہےں ۔اس واقعہ کے بعد متعدد مسلمان ملکوں مےں احتجاجی مظاہرے ہوئے ہےں ۔مراکش نے سوےڈن سے اپنے سفےر کو واپس بلا لےا ہے ۔پاکستان کے صدر آصف علوی نے اےک ٹوےٹ مےں کہا ہے کہ اس دردناک واقعہ سے اربوں مسلمانوں کے جذبات کو ٹھےس پہنچی ہے ۔ہر رےاست کو اسلامو فوبےا پر مبنی کاروائےوں کی روک تھام کے اقدامات کرنے چاہئےں ۔وزےر اعظم شہباز شرےف نے کہا کہ جس سےاہ کردار نے اس قابل نفرت فعل کا ارتکاب کےا ہے اس نے درحقےقت انسانےت کی مشترکہ اقدار کی توہےن کی ہے ۔ترکےہ کے صدر رجب طےب اردوان نے کہا کہ اہل مغرب کو سکھائےں گے کہ مقدس کتاب اور عام کتاب مےں فرق ہے ۔سعودی وزارت خارجہ نے کہا کہ اس طرح کی حرکتوں اور کاروائےوں کو کسی جواز کے ساتھ قبول نہےں کےا جا سکتا ۔عراقی وزارت خارجہ نے کہا کہ ےہ واقعہ خطرناک اشتعال انگےزی کی علامت ہے ۔ اےرانی وزارت خارجہ نے واقعہ کو اشتعال انگےز اور ناقابل قبول قرار دےتے ہوئے کہا کہ اےران کی حکومت اور عوام اےسی توہےن کو برداشت نہےں کرتے ۔تمام مسلمان اور مسلمان ملکوں نے اس واقعہ پر شدےد رد عمل ظاہر کےا ہے ۔گو کہ ےورپی ےونےن نے اس فعل کی مذمت کی ہے لےکن ےہ واقعہ اس حقےقت کی اےک مثال ہے کہ ےورپ مےں اسلامو فوبےا ،نسل پرستی اور امتےازی سلوک خطرناک حدوں کو چھو رہا ہے ۔آزادی اظہار کی آڑ مےں کسی کو بھی دےگر مذاہب ےا ان کے مقدس شعائر کی بے حرمتی کی اجازت نہےں دی جا سکتی۔مغربی اقوام جو بظاہر حقوق انسانی کی علمبردار نظر آتی ہےں ،کےا کسی مغربی قائد ،صدر ےا وزےر اعظم نے اس شر انگےزی کی مذمت کی؟ان کا اےسا کردار نظر نہ آنا ان کے دوہرے معےار کا غماز ہے ۔مسلمانوں کو کمزور کرنے اور ان کے بدن سے ”روح محمدی “ نکالنے کےلئے اسلام دشمن قوتےں ہمےشہ بر سر پےکار رہی ہےں ۔مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے کا ےہ پہلا موقع نہےں اس سے قبل بھی قرآن مجےد کی بے حرمتی ،پےغمبراسلام کے توہےن آمےز خاکوں کی اشاعت اور ماضی قرےب کے کئی متنازع واقعات کی مثالےں موجود ہےں جن مےں دانستہ طور پر اسلام ےا نبی پاک کی توہےن کی گئی ہے ۔قرآن پاک کا تحفظ اور ناموس رسالت مسلمانوں کےلئے ہر شے سے زےادہ مقدم ہے ۔مغربی ممالک مےں ہمےشہ آزادی اظہار کا بہانہ بنا کر مذہبی عقائد کا مذاق اڑانے کی کھلی چھٹی دی جاتی ہے ۔
اب تو ےہ روز کا معمول بن چکا ہے کہ نام کا مسلمان مکروہ شخص ےورپی دنےا مےں نام نہاد مقبولےت کی خواہش کرتا ہے وہ اےسی ہی مذموم اور گھٹےا حرکت کے ذرےعے دنےا بھر کے مےڈےا اور ےہودی لابی کی توجہ حاصل کرنے مےں کامےاب ہو جاتا ہے اور آزادی اظہار کے علمبردار اس کے ساتھ کھڑے ہو کر اس پر اےوارڈوں کی بارش کر دےتے ہےں ۔ماضی مےں اےک بد بخت امرےکی پادری ٹےری جونز نے اسلام کے خلاف اےک توہےن آمےز فلم Inocece of Muslimsکےلی فورنےا مےں رہنے والے اےک ےہودی سام بسائل سے تےار کروائی ۔بدبخت پادری ٹےری جونز اس فلم کو تےار کروانے سے پہلے دو مرتبہ قرآن پاک کو نذر آتش کر چکا تھا ۔آزادی اظہار کے نام پر کسی کے جذبہ اےمانی کو مجروح کرنے کی اجازت کسی طرح بھی نہےں دی جا سکتی ۔وقت آ گےا ہے کہ مسلم امہ کے حکمران اور عالم اسلام اےسے واقعات کی روک تھام کےلئے مشترکہ حکمت عملی اپنائےں اور او آئی سی کے پلےٹ فارم پر اس مسئلے کو اٹھاےا جائے ۔اگر مسلم امہ کے حکمرانوں اور عالم اسلام نے اپنی بے حسی اور خاموشی کے حصار کو نہ توڑا اور سستی و کاہلی کا مظاہرہ کےا تو پھر اےسے گروہوں کو زےادہ شہ و جرا ¿ت ملے گی اور انہےں اےسے واقعات کو وقتاًفوقتاً دہرانے اور مسلمانوں کے جذبات سے کھےلنے سے کوئی نہےں روک سکتا ۔





